بند کریں
صحت مضامینمضامینموٹاپا عام سی بات نہیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موٹاپا عام سی بات نہیں
اپنے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ لیں، ہوسکتا ہے کہ آپ کے کھانے میں کیلوریز (Calories) اور کاربوہائیڈریٹس (Carbohydrates) کی مقدار زیادہ ہودراصل تمام گھریلو جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایکسرسائز Exercise بہت ضروری ہے۔۔۔
ڈاکٹر ہما صابر خان:
اکثر خواتین یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ بہت کھاتی ہیں پھر بھی وزن کنٹرول نہیں ہوتا ۔ تو سب سے پہلے وزن بڑھنے کے اصل محرکات کا پتہ چلائیں ؟ بعض اوقات ہارمونل چینجز (Hormonal Changes) اور تھائیرائیڈ ( Thyroid) جیسے مسائل بھی خواتین میں موٹاپے کا باعث بنتے ہیں ۔ اسی طرح آپ اپنے کھانے پینے کی عادات کا بھی جائزہ لیں ۔ ہوسکتا ہے کہ آپ کے کھانے میں کیلوریز (Calories) اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار ضرورت سے زیادہ ہو دراصل بالغ خواتین کو روزانہ 2000سے 2200 کیلوریز درکار ہوتی ہے اور اس مقصد کے لئے 30سے 40فیصد پروٹین ، 60فیصد کاربوہائیڈریٹس اور 10سے 15فیصد چکنائی کافی ہے اگر یہ تمام غذائی اجزاء اس حدسے تجاوز کریں جائیں تووزن میں اضافے کے ساتھ ساتھ موٹاپے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔ یاد رہے کہ بازاری اور غیر معیاری اشیاء میں یہ تمام غذائی اجزاء اضافی مقدار میں پائے جاتے ہیں جووزن میں اضافے کا باعث بنتے ہیں ۔ آج کل ہمارے ہاں ہوم ڈلیوری فوڈ (Home Delivery) کا کلچر بہت عام ہوگیا ہے ․․ اب نہ صرف بچے بلکہ بڑے بوڑھے بھی وقت بے وقت ہوم ڈلیوری سروس سے فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں ۔ عام طور پر کم کھانے کا دعوٰی کرنے والی خواتین بھی اکثر ایسی غیر معیاری اشیاء شوق سے کھاتی ہیں ۔ اس لئے کم کھانے کے باوجود آپ کو یہ علم ہونا چاہیے کہ آپ جو خوراک کھارہی ہیں وہ صحت مند ہے یا نہیں ؟ اس کے علاوہ غیر معیاری مشروبات کی بجائے موسمی پھلوں کے تازہ جوس پئیں ۔جہاں تک ڈائیٹنگ کی بات ہے ، کسی بھی عمر میں ڈائیٹنگ ہرگز نہ کریں کیونکہ کھانا پینا چھوڑنے سے جسم کو غذائی اجزاء جوہڈیوں، پٹھوں اور جسم کو توانائی دیتے ہیں ، کی ضروری مقدار میسر نہیں آتی ڈائیٹنگ سے بظاہر تووزن کم ہوجاتا ہے مگر ہڈیوں اور پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں جو بعد میں بہت سی بیماریوں کا سبب بنتے ہیں ۔ لہٰذا اگر آپ اپنا وزن کنٹرول کرنا چاہتی ہیں تو سب سے پہلے ایک چارٹ تیار کریں جس میں اپنے روزمرہ معمولات ، اوقات اور کھانے پینے کی عادات درج کریں اور پھر آپ کے جو معمولات اور کھانے پینے کی عادات موٹاپے کا باعث بنی ہوئی ہیں انہیں فوراََ بدلنے کی کوشش کریں اور ان کا متبادل تلاش کریں ۔ کسی غذائی ماہر کی مدد بھی لے لیں جو آپ کی جسمانی ضروریات کو مدنظر رکھے ہوئے بہتر راہنمائی کرے ۔
ڈائیٹ پلان (Diet Plan) بناتے وقت بی ایم آئی کو مدنظر رکھیں
کوئی بھی ڈائیٹ پلان (Diet Plan) بناتے وقت اپنی عمر اور قد کے مطابق بی ایم آئی (bmi) یعنی بیزل میٹابولک انڈیکس (Bassl Metabolic Index) معلوم کرنا بھی ضروری ہے جس کا فارمولا کچھ یوں ہے کہ پہلے کلو گرام میں اپنا وزن اور میٹرسکوئر ( Meter Square) میں قدم معلوم کریں ، پھر وزن کو قد سے تقسیم کردیں ۔ اس سے بھی آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ انٹرنیٹ پر اپنا وزن اور قد لکھیں اور بی ایم آئی معلوم کر لیں ۔ اگر آپ کابی ایم آئی 20سے 25کے درمیان ہو تو یہ نارمل ہے لیکن اگر 25سے زائد ہوتو اسے موٹاپے میں شمار کیا جاتا ہے ۔ اگر بی ایم آئی 30سے 35کے درمیان یا اس سے زائد ہوتو اسے اوورویٹ (Over Weight) کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح اگر بی ایم آئی 20سے کم ہوتو اسے انڈرویٹ (Under Weight) سمجھا جاتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے