بند کریں
صحت مضامینمضامینموٹاپا۔ ملکوں ملکوں میں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موٹاپا۔ ملکوں ملکوں میں
1970ء میں فن لینڈ میں دل کی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ تھی، جس کی بنیادی وجہ مٹاپا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں مہم چلائی، لوگوں کوغذا اور ورزش کے۔۔۔
شکیل صدیقی:
فن لینڈ:
1970ء میں فن لینڈ میں دل کی بیماریوں سے مرنے والوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ تھی، جس کی بنیادی وجہ مٹاپا تھا۔ حکومت نے اس سلسلے میں مہم چلائی، لوگوں کوغذا اور ورزش کے بارے میں تعلیم دی اور یہ بتایا کہ تمباکونوشی سے دل کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں، لہٰذا اسے ترک کردینا چاہیے۔ اس مہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ تیس سال بعد 80فیصد لوگوں کامٹاپا دور ہوگیا اور فن لینڈ کے رہنے والوں کی زندگی میں اوسطاََ دس سال کااضافہ ہوگیا۔ عالمی ادارہٴ صحت کے ڈائرکٹر پیکاکہتے ہیں کہ اس سلسلے میں عام افراد کو انعام کا لالچ دینا چاہیے، مثلاََ سگرٹ نوشی چھوڑ دیجیے اور انعام پائیے۔ اس کے علاوہ ” اگر آپ کا کولیسٹرول کم ہوجائے گا توا نعام ملے گا۔ یہ بھی لالچ دیا جاسکتا ہے کہ اپنا وزن کم کیجیے اور ہم سے انعام لیجیے۔
ہندستان:
48فیصد ہندستانیوں کو شکایت ہے کہ ان کی بیویوں کاوزن زیادہ ہوتا ہے، جس کی بنا پر وہ بدشکل اور بھدی لگتی ہیں۔ اسی طرح سے 46فیصد ہندستانی خواتین کوشکایت ہے کہ ان کے شوہر بدصورت اور بے ڈھنگے لگتے ہیں۔ گویا دونوں برابری کی بنیاد پرایک دوسرے سے ناخوش ہیں۔
چین:
37فیصد چینیوں نے اعتراف کیاہے کہ وہ وزن کم کرنے والی گولیاں کھاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ چین میں لوگ اپنے مٹاپے کی طرف سے فکر میں مبتلا رہتے ہیں، اس لیے وہ وزن کم کرنے والی گولیاں خریدتے ہیں، لیکن یہ گولیاں صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔ ان سے موت بھی واقع ہوسکتی ہے، اس لیے کہ ایسی گولیاں تیار کرنے والے صحت کے اصولوں کومدنظر نہیں رکھتے۔
سروے کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ دنیا بھر کی خواتین مردوں کے مقابلے میں و زن کم کرنے کے لیے زیادہ پریشان رہتی ہیں، اس لیے وہ وزن کم کرنے والی گولیوں سے دلچسپی رکھتی ہیں۔ برازیل میں وزن کم کرنے والی گولیاں 30فیصد روس میں 24فیصد اور میکسیکو میں 23فیصد افراد کھاتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ:
دنیا کے بہت سے ممالک کا سروے کرنے کے دوران جب سوئٹزر لینڈ کے لوگوں سے پوچھا گیا کہ وہ وزن کم کرنے کے لیے اتنی تگ ودود کیوں کرتے ہیں، جب کہ معالج اس بارے میں کوئی خصوصی ہدایت نہیں دیتے اور یہاں کے رہنے والے افراد بھی زیادہ موٹے نہیں ہوتے؟ تو اس سلسلے میں ایک دلچسپ بات سامنے آئی کہ یہاں کے افراد معالجوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ سوئٹزرلینڈ کی آبادی میں سے صرف 11فیصد افراد معالجوں کے مشورے پر عمل کرتے ہیں، جب کہ میکسیکو میں 46فیصد اور فرانس میں 39فیصد افراد معالجوں کواہمیت دیتے ہیں۔
روس:
دبلا ہونے اور پنا وزن کم کرنے کے لیے بہت سے افراد سگرٹ نوشی بھی کرتے ہیں، حالا نکہ یہ احمقانہ سوچ ہے۔ میکسیکو چین، فلپائن اور خاص طور پر روس میں لوگ بھوک ختم کرنے کے لیے تمباکونوشی کرتے ہیں، تاکہ ان کاوزن کم ہوجائے۔23فیصد روسی مرد اور 18فیصد خواتین نے اعتراف کیا کہ وہ وزن کم کرنے کے لیے تمباکو نوشی کرتے ہیں۔
فلپائن:
فلپائن کے 95فیصد افراد نہایت دیانت داری سے کہتے ہیں کہ انھیں وزن کم کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ پیٹ بھرکر اطمینان سے کھاتے ہیں، جب کہ 82فیصد کاکہنا ہے کہ ان میں اتنی ہمت وتوانائی نہیں کہ وہ بھوک کا مقابلہ کرسکیں۔ صرف 38فیصد افراد ایسے ہیں، جووزن کم کرنے کے خواہش مند ہیں۔
تھائی لینڈ:
تھائی لینڈ کے باشند کے کھانا پکانے میں ماہر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے کھانوں میں کالی مرچ ضرور چھڑکتے ہیں، جس سے ہضم وجذب کا نظام درست رہتا ہے، مگر وہ کالی مرچ اس خیال کے پیش نظرڈالتے ہیں کہ کھانوں کے ذائقے میں چرپراپن پیدا ہوجاتا ہے اور آپ تیزی سے نہیں کھاپاتے۔ امریکی کھانا بہت تیزی سے کھاتے ہیں، اس لیے جب دماغ یہ ہدایت دیتا ہے کہ وہ کھانا کھانا بندکردیں ، اس وقت تک وہ ضرورت سے زیادہ کھاچکے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس جب آپ سستی سے کھاتے ہیں تو آپ کے معدے میں غذاکم پہنچتی ہے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ چرپرے کھانے کھائیں۔
انڈونیشیا:
انڈونیشیا کامذہب اسلام ہے، جس میں روزہ رکھنا فرض ہے۔ روزہ رکھ کرآپ صبح سے شام تک کچھ نہیں کھاتے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ وزن کم کرنے کے لیے فاقہ کشی کی ضرورت نہیں ہے، البتہ اعتدال کے ساتھ فاقہ کشی کرنے سے کسی حدتک زیادہ کھانے سے نجات مل جاتی ہے۔ اس طرح سے آپ کے جسم میں کم سے کم حرارے پہنچتے ہیں۔
پولینڈ:
پولینڈ کے باشندوں کاکہنا ہے کہ باہر کے مقابلے میں جب آپ گھر میں کھانا کھاتے ہیں توزیادہ کھاتے ہیں، اس لیے کہ باہر کھاتے وقت آپ کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں اور ضرورت سے کم کھاتے ہیں اس طرح سے رقم بچ جاتی ہے اور آپ کے پیٹ میں حرارے بھی کم پہنچتے ہیں۔
فرانس:
92فیصد فرانسیسی رات کاکھانا مل کرکھاتے ہیں۔ وہ کھانا دیرتک کھاتے ہیں اور کھانے کے دوران گفتگو کرتے رہتے ہیں، تاکہ کھانا معدے میں کم سے کم جائے۔ دیرتک کھانے سے احساس بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ آپ کا پیٹ بھر چکا ہے اور اب مزید نہیں کھانا چاہیے۔
جرمنی:
75فیصد جرمن ناشتا ضرور کرتے ہیں۔ وہ ناشتے میں صرف انڈا روٹی نہیں کھاتے، بلکہ بغیر چھنے آتے کی روٹی، دلیا اور پھل بھی کھاتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ صبح کے وقت ناشتا ضرور کرنا چاہیے۔ ناشتا نہ کرنے پر آپ کو بھوک زیادہ لگے گی اور آپ دوپہر کو زیادہ کھانے کی کوشش کریں گے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے