بند کریں
صحت مضامینمضامینموتیا بند کا علاج۔ صرف آپریشن

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
موتیا بند کا علاج۔ صرف آپریشن
جب ہم بوڑھے ہونے لگتے ہیں توپروٹین جمنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کا لوتھڑا سا بن جاتا ہے، جس سے عدسے کا ایک حصہ دھندلانے لگتا ہے۔ یہ دھند لاہٹ رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہے۔ اس دھند لاہٹ کو موتیا بند کہتے ہیں
ڈاکٹر خواجہ علی شاہد:
معالجین کا کہنا ہے کہ آپ کی بینائی بالکل صاف ہونی چاہیے ، تاکہ آپ کو سب کچھ واضح نظر آئے اور آپ صحیح طور پر کام کرسکیں، مگر بعض اوقات ایسا نہیں ہوتا، اس لیے کے وہ عدسہ جو ہماری آنکھ کی پتلی کے پیچھے ہوتا ہے اور روشنی کی شعاعوں کو آنکھ کی پتلی کے پیچھے پردہٴ چشم پر مرتکز کرنے اور ہمیں شفاف و واضح طریقے پر دیکھنے میں مدد دیتا ہے، دھندلا جاتا ہے۔یہ عدسہ پانی اور پروٹین پر مشتمل ہوتا ہے۔ قدرتی صاف شفاف رہے اور روشنی اس میں سے گزرسکے ۔ ایسا عمر کے ہر حصے میں نہیں ہوتا، اس لئے کہ جب ہم بوڑھے ہونے لگتے ہیں توپروٹین جمنا شروع ہوجاتا ہے اور اس کا لوتھڑا سا بن جاتا ہے، جس سے عدسے کا ایک حصہ دھندلانے لگتا ہے۔ یہ دھند لاہٹ رفتہ رفتہ بڑھنے لگتی ہے۔ اس دھند لاہٹ کو موتیا بند کہتے ہیں۔ دھند لاہٹ بڑھنے پر دیکھنا دشوار ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے اعدادوشمار کے مطابق دنیا کے دوکروڑافراد موتیا بند میں مبتلا ہیں۔ یہ خرابی بتدریج پیدا ہوتی ہے اور اس کا احساس نہیں ہونے پاتا یا یہ کہ ہم اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔ نظر انداز کرنے کی وجہ سے بصارت دھند لاجاتی یا کم زور ہوجاتی ہے۔ پھر کچھ عرصے بعد رات کو دیکھنے میں دشواری پیش آنے لگی ، روشنی کے چاروں طرف دھبّے بن جاتے یا ایک کے دو نظر آنے لگتے ہیں۔ جب بینائی میں یہ خرابیاں پیدا ہونے لگتی ہیں تو آپ چشمہ ساز کے پاس جاتے ہیں اور چشمے کا نمبر تبدیل کرنے لگتے یا کانٹیکٹ لینز بدلوا دیتے ہیں۔ حقیقت سے لاعلم ہونے کی بنا پر موتیا بند کا مرض پھیلنے لگتا ہے اور پردہٴ چشم تک روشنی کم پہنچنے لگتی ہے، جس کے نتیجے میں بصارت مزید دھندلا جاتی ہے۔ موتیا بند تعدیے کی بیماری نہیں ہے، مگر ایک سے دوسری آنکھ میں بھی ہوسکتی ہے۔ موتیا بند کے بڑھنے کی وجہ صرف بڑھاپا ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ نے کبھی آپریشن کرایا ہو، موروثی طور پر والدین سے یہ مرض آپ تک پہنچ گیا ہو، آنکھ میں چوٹ لگ گئی ہو، آپ کو ذیابیطس ہوچکی ہو، آپ نشہ آور چیز استعمال کرنے لگے ہوں ، ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں، آپ نے تمباکو نوشی شروع کردی ہو یاآپ پر مٹاپا طاری ہوگیا ہو، تب بھی موتیا بند کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے۔ جب موتیا بند کا ابتدائی مرحلے میں علاج نہیں کرایا جاتا یا بیماری کے بارے میں علم نہیں ہوپاتا تو مریض نابینا ہوجاتا ہے۔ موتیا بند کا آپریشن کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے۔ علاج سے ممکن ہے کہ معمولی سا فائدہ ہوجائے، لیکن موتیا بند آپریشن ہی سے ختم ہوتا ہے۔ آپریشن کرنے کا فیصلہ معالج ہی کرتا ہے کہ بصارت میں دھند لاہٹ کس تناسب سے گھٹ یا بڑھ رہی ہے۔ کسی وجہ سے وہ آپریشن کو وقتی طورپر ملتوی بھی کرسکتا ہے، مگر اسے ترک نہیں کرسکتا، چناں چہ مریض کو اس سے مستقل رابطہ رکھنا چاہیے۔ اگر بینائی چشمے کے شیشے تبدیل کرنے پردرست نہ ہو، مطالعے میں پریشانی ہورہی ہو، رات کو صحیح نظر نہ آرہا ہو یا ڈرائیونگ میں دشواری پیش آرہی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو لازماََ آپریشن کروالینا چاہیے۔ آپریشن عدسے کا کیا جاتا ہے اور اس کو ہٹا کر مصنوعی عدسہ لگادیا جاتا ہے۔ کبھی کبھی معالج عدسے کو نہیں نکالتا اور بینائی کو درست رکھنے کے لیے کانٹیکٹ لینز لگادیتا ہے۔ اس کا ایک علاج یہ بھی ہے کہ عدسے کو لیزر شعاعوں سے توڑ دیا جاتا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے لیے باقاعدہ اسپتال کے بستر پر نہیں لیٹنا پڑتا ۔ اس سرجری کوکرانے میں کوئی نقصان نہیں ہے اور مریض کوکوئی پریشانی نہیں اٹھانی پڑتی۔ عموماََ دس سے پندرہ روز میں زخم مندمل ہوجاتے ہیں۔ اگر دونوں آنکھوں میں موتیا بند ہوتو آپریشن باری باری کیا جاتا ہے او ر دو سے چار ہفتوں کا وقفہ رکھا جاتا ہے۔ مصنوعی لینزوں کی اب بہت سی اقسام بازار میں آچکی ہیں۔ آئی کیمپوں میں عموماََ مریضوں کو یہی لینز لگائے جاتے ہیں۔ مصنوعی لینزوں میں تہ کیے جانے والے لینزوں کی مانگ زیادہ ہے۔ آپریشن کرانے کے بعد پابندی سے ہر سال ماہر چشم سے آنکھوں کا معائنہ کرانا ضروری ہے، ایسے میں جب کہ عمر 40 برس سے تجاوز کرچکی ہو یہ معائنہ اور بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ اگر بینائی میں کوئی فرق محسوس ہوتو معالج سے فوری رابطہ کرنا چاہیے۔ تاریک شیشوں کا چشمہ لگائیں۔ کوشش کریں کہ آنکھوں پر براہ راست دھوپ نہ پڑے ۔ توانائی بخش غذائیں کھائیں، تمباکو نوشی ترک کردیں اور ذیابیطس کو قابو میں رکھیں ۔ ان احتیاطوں سے موتیا بند کا مرض تیزی سے نہیں بڑھے گا اور آپ کی بینائی تادیر قائم رہے گی۔

(0) ووٹ وصول ہوئے