بند کریں
صحت مضامینمضامینمنہ میں چھالے آخرکیوں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
منہ میں چھالے آخرکیوں
جب آپ کسی مصالحے دار چیز کو منہ میں ڈالیں اور معلوم ہوکہ منہ میں تو کوئی زخم ہوچکا ہے جس کے لیے وہ نوالہ بہت تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے یا دانتوں پر برش کرتے ہوئے کسی زخم پر برش ٹکرا جائے تو ایک دن پہلے نہ تھا۔
غلام زہرا :
جب آپ کسی مصالحے دار چیز کو منہ میں ڈالیں اور معلوم ہوکہ منہ میں تو کوئی زخم ہوچکا ہے جس کے لیے وہ نوالہ بہت تکلیف دہ ثابت ہورہا ہے یا دانتوں پر برش کرتے ہوئے کسی زخم پر برش ٹکرا جائے تو ایک دن پہلے نہ تھا۔
اگر تو منہ میں چھوٹے سفید نشان گلابی سطح پر اُبھر آیا ہے تو یہ منہ میں چھالے یازخم کی نشانی ہے۔ یہ چھالے چھوٹے اور تنگ زخم ہوتے ہیں جو منہ کے نرم ٹشوز میں بنتے ہیں جو گال، مسوڑوں اور زبان کسی بھی جگہ ہوسکتے ہیں۔ نیویارک یونیورسٹی کے مطابق یہ زخم کسی کے منہ میں بھی ہوسکتے ہیں اور بہت زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں خاص طور پر جب کوئی مرچ مصالحے یا تیزابی چیزکوکھایا جائے بلکہ اکثر پانی پینا بھی اذیت کاباعث بنتا ہے ۔ ابھی یہ تو واضح نہیں کہ ان چھالوں کے اُبھرنے کی اصل وجہ کیا ہے تاہم کچھ چیزوں کے بارے میں خیال ہے کہ وہ اس کی وجہ بنتے ہیں ۔
مایوکلینک کے مطابق طاقت سے برش کرنا، مصالحے دار یا تیزابی غذائیں، ہارمونز ، میں تبدیلیاں اور تناؤ وغیرہ ان چھالوں کا سبب بنتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ چھالے آٹو امیون سرگرمیوں کا نتیجہ ہوتے ہیں اور ایسااس وقت ہوتا ہے جب جسم کسی وائرس کے خلاف لڑتے ہوئے خود کو ہی نشانہ بنالیتا ہے ۔ عام طور پر یہ چھالے صحت بخش غذا کے استعمال سے ایک ہفتے کے اندر ٹھیک ہوجاتے ہیں جبکہ مصالحے دار، تیزابی اور چپس جیسی چیزوں سے دوری اختیار کرنا ہوتی ہے اور داتنوں پر برش احتیاط سے کرنا پڑتا ہے ۔
اگر یہ چھالے ایک ہفتے سے زیادہ ہیں،خون نکلنے لگے یاوقت کے ساتھ بڑے ہونے لگیں تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے کہ کہیں یہ کسی سنگین مسئلے جیسے منہ کے کینسر کا نتیجہ تونہیں ۔چند گھریلو ٹوٹکے چھالے یازخم کوکم یا ختم کرنے میں کافی حدتک مدد مل سکتی ہے ۔ بیکنگ سوڈا اکلائن ہوتا ہے جو اس تیزابی کیفیت کو معمول پر لاتا ہے جو منہ کے چھالوں فوری علاج میں مدد دیتا ہے ۔ ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا آدھا کپ گرم پانی میں ملائیں اور اس کلیاں کرلیں۔ ایک استعمال شدہ ٹی بیگ کو پانچ منٹ تک چھالے یا زخم پر لگائے رکھیں تو ریلیف محسوس ہوگا۔ چائے میں ایک اکلائن ہے جو چھالوں یازخم کی تکلیف بڑھانے والے تیزاب کو معمول پر لاتی ہے، جبکہ اس میں ایسے اجزا بھی شامل ہیں جو تکلیف میں کمی لانے میں مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہائیڈرجن پر آکسائیڈ ایک طاقتور جراثیم کش محلول ہوتا ہے اور یہ منہ کے چھالوں یا زخم کو انفیکشن سے بچاتا ہے ، اس محلول کو ماؤتھ واش کی طرح استعمال کریں تاہم اسے نکلنے کی کوشش نہ کریں۔ نمک ملا پانی یعنی سوڈی کلورائیڈ پانی میں مل کر ٹشوز کے گرد جا کر زخموں کے ٹھیک ہونے کا عمل تیز کردیتا ہے ۔
وٹامن ای کے ایک کیپسول کو کاٹ لیں اور اس کے محلول کو متاثرہ حصے پر لگادیں، یہ تیل چھالے پر ایک کوٹنگ بنادے گا جو اسے انفیکشن سے تحفظ دے گی اور جلد ٹھیک ہونے میں بھی مددگار ثابت ہوگی ۔
ایلوویراجیل بھی منہ کے چھالوں یا زخموں کو ٹھیک کرنے کا عمل تیز کردیتا ہے جبکہ درد میں بھی کمی لاتا ہے ۔ ایک صاف چمچ کے ذریعے اس جیل کی کچھ مقدا ر براہ راست متاثرہ حصے پر لگائیں اور ضرورت پڑنے پر اس عمل کو دہرائیں ۔ میگنیشیا کا دودھ کی معمولی مقدار منہ میں بھریں اور منہ صاف کرنے کے لیے استعمال کریں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ یہ متاثرہ حصے کو بھی صاف کرے۔ میگنیشیا کے دودھ میں موجوداجزاء منہ کی تیزابیت پر قابوپاتے ہیں جو چھالوں کو تکلیف دہ بناتے ہیں ، اس کے علاوہ آپ روئی کو اس دودھ میں بھگو کر براہ راست میں چھالوں پردن میں تین سے چار دفعہ لگاسکتے ہیں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے