بند کریں
صحت مضامینمضامینناشتہ نہ کرنا اچھی عادت نہیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ناشتہ نہ کرنا اچھی عادت نہیں
لوگ عجیب وغریب عادتیں ا پنائے ہوئے ہیں لیکن اپنے جسم کی مشینری کو بھولے رہتے ہیں۔ صبح ہوئی تو اُلٹا سیدھا کچھ بھی کھایا اور کام پر نکل گئے۔
درخشاں:
لوگ عجیب وغریب عادتیں ا پنائے ہوئے ہیں لیکن اپنے جسم کی مشینری کو بھولے رہتے ہیں۔ صبح ہوئی تو اُلٹا سیدھا کچھ بھی کھایا اور کام پر نکل گئے۔ زیادہ سے زیادہ لباس، میک اپ، جوتوں اور تعیشات پر نظر رکھتے ہیں اس جسم کو بھول جاتے ہیں جس میں دماغ‘ دل اور باقی اعضاء ہیں جنہوں نے دن بھر ہمارے کام آنا ہے اور ہمیں کام کے قابل بناناہے۔ جسمانی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ضروری ہے کہ جسم کی مشینری کو معیاری ایندھن فراہ کیاجائے اور یہ بہترین ناشتے کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
اچھی صحت اور طویل العری کاراز جانٹا ہوتو سادہ طرز زندگی اختیار کرلیجئے۔ جدید طرز زندگی نے تو ویسے بھی مسائل میں اضافہ کردیاہے اور ہم درست غذائیت تقریباََ غافل ہوتے جارہے ہیں۔ اکثر بچے سکول کالج جاتے وقت بھوک نہ لگنے کی شکایت کرتے ہیں اور ناشتہ نہیں کرتے۔ وہ نہیں جانتے کہ ناشتہ نہ کرنا بری عادت ہے اور جوبچے ناشتہ کرتے ہیں وہ چائے بسکٹ یا کیک پیش کو ناشتہ سمجھ کر خوشی کھاپی کردرسگا کی راہ لیتے ہیں۔
متوازن اور بھرپور ناشتہ جسم کی لازمی ضرورت ہے۔ دراصل دو کھانے کے درمیانی وقفہ کی خوراک ہوتا ہے۔ اگر آپ رات کوکھانا رات نو بجے سے ساڑھے دس بجے کے درمیانی عرصہ میں کھالیتے ہیں اور سوتے وقت تک اسینکس نہیں لیتے رہتے تو پھر صبح بیدارہونے پر سات ساڑھے سات یاآٹھ بجے سے ہلکی ہلکی بھوک کااحساس ہوناچاہئے۔ اگر آپ نے بہت زیادہ مرغن کھانا کھایاہواور نظام ہاضمہ گڑبڑ کرے تواسپغول کھاکے سولیں یاعلی الصبح بیدار ہونے پر استعمال کریں۔ نہائیں دھوئیں‘ ہلکی ورزش کریں اور پھر ناشتے کیلئے جسم اور دماغ دونوں کوتیار پائیں گے۔ اگر بچے سستی اور کاہلی کامظاہرہ کریں تو ماؤں کو سختی کرنی پڑتی ہے اس بچوں کو اجابت کے بارت میں بتاتے ہوئے شرم آتی ہے لیکن قبض امر الا مراض ہے۔ ایسے بچوں کو پانی کا استعمال بڑھادیں۔ صبح جلدی بیدا کرکے وقفہ وقفہ سے پانی پلائیں تو سکول‘ کالج روانگی سے پہلے مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ جسمانی صحت کی طرف سے اطمینان ہوتو زندگی کے دوسرے کاموں میں دل بھی لگتا ہے اور مکمل یکسوئی سے کیرئیر بنانے پر توجہ دی جاسکتی ہے۔
ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ آپ اپنے گھر کے بجٹ کو دیکھ کر ایسا مینیو بنائیں جس میں شکر‘ چکنائی‘ پروٹین وٹامنز‘ معدنیات اور ریشہ شامل ہوں چیزوں کی ضرورت سے انکار نہیں مگر صرف بیکری آئٹمز اور چائے کوئی ناشتہ نہیں ہوتا۔ دماغی کام کرنے والوں کیلئے بڑھتے ہوئے بچوں کیلئے بزرگوں کیلئے کبھی ایک جیسا ناشتہ نہیں ہو سکتا ۔ ہرفرد کی جسمانی صحت اور ضرورت دوسرے سے مختلف ہوسکتی ہے۔ دماغی کام کرنے والے اور چھوٹے بچوں کو قدرے زیادہ توانائی درکار ہوتی ہے ان کا ذہن نئی نئی معلومات اور چیزیں جذب کررہاہوتا ہے لہٰذا انہیں دودھ یادودھ سے بنی اشیاء دیسی انڈے ‘ دلیے اور پھلوں پر مشتمل ناشتہ دیا جاسکتا ہے۔ انہیں خشک میوے مختلف شکلوں میں دیئے جانے چاہئیں۔ اس طرح وہ آئے دن بیمار نہیں ہوتے۔موسم کوئی بھی ہودودھ ہروقت استعمال کیاجاسکتا ہے۔ دودھ میں صرف کیلشیم‘ وٹامن ڈی کاخزانہ ہی نہیں ہوتا بلکہ معدنیات اور نمکیات بھی ہوتے ہیں۔ بڑانہ سہی‘ ایک چھوٹا پیالہ کسی دلیے کے ساتھ دودھ شامل کرکے ناشتے میں شامل کرلیں۔ اس سے ذہنی وجسمانی نشوونما بہتر انداز میں ہوگی۔ پھل بھی ہرموسم میں کھائے جاسکتے ہیں۔ کوئی ایک پسندیدہ پھل ناشتے میں ضرور لیں۔ قبض کی شکایت والے پپیتا ضرور کھالیں اور اگر کیلے کھاسکیں تو اس میں کاربوہائیڈریٹ اور پوٹاشیم شامل ہوتا ہے جو بھر پورتوانائی دیتا ہے۔ یعنی اناج‘ بیرونی ممالک میں دلیوں کے ساتھ ساتھ براؤن چاولوں کی کھیر بھی ناشتے کے مینیو میں شامل کی جاتی ہے تاکہ قدرتی طور پر فولک ایسڈملتا رہے۔ اس کے علاوہ اس میں زنک ‘ آئرن اور نمکیات بھی موجود ہیں۔
ٹوسٹ ڈبل روٹی کھائیں توہمیشہ براؤن یابغیر چھٹے آٹے سے بنی ہوئی چپاتی‘ یہ دونوں چیزیں بدل بدل کر کھائیں۔ ہاضمے کی خرابی کی شکایات نہیں رہے گی۔ صبح صبح دہی کانا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ دو کھانے کے چمچے بھی ٹوسٹ کے ساتھ کھارہی ہیں یابچوں کو دین تو ان کی کیلشیم کی ضرورت پوری ہوتی ہے۔
#عموماََ ناشتہ کرنے کاکیا عذردیا جاتا ہے۔ جی ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا لیکن ایک پیالہ دلیہ یاایک ٹوسٹ یاپھل کھانے میں وقت ہی کتنا درکار ہوتا ہے۔ اگر بھوک نہیں لگتی تو اس کا سادہ حال یہ ہے کہ پچھلی رات کو مرغن کھانے دیرسے کھانے کی عادت ترک کردیں۔ ناشتہ وزن نہیں بڑھاتا‘ یہ آپ کے میٹابولزم کوفعال رکھتا ہے اور تادیر تروتازہ اور توانا رکھتا ہے۔ اس کے بعد آپ نے چلنا پھرنا ہے۔ کسی کو بس سٹاپ تک جانا ہے تو کسی کوکوئی اور جسمانی یاذہنی مشقت کرنی ہے۔ اس طرح اضافی حرارے جلیں گے ۔ ناشتا کرنا اچھی عادت ہے۔ صرف پھل کھانے بھی غذائی ریشہ حاصل ہوتا ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ اب آپ ناشتہ کرنے کو ترجیح دیتی ہیں یااپنی پہلے والی روٹین پرہی قائم ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے