بند کریں
صحت مضامینمضامین ناشتا ضروری ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ناشتا ضروری ہے
جو افراد غذائیت سے بھر پور ناشتا کرتے ہیں ،وہ سارا دن ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔جو افراد ناشتا نہیں کرتے یا ان کا ناشتا غیر صحت بخش ہوتا ہے

کرن ناز
تندرستی ہزار نعمت ہے ،اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔اچھی صحت کا زیادہ انحصار غذائیت بخش غذا پر ہوتا ہے ،لہٰذا صبح کا نا شتا ،دو پہر کا کھانا اور رات کا کھانا متوازن غذا پر مشتمل ہونا چا ہیے۔تینوں وقت کے کھانوں میں نا شتا پورے دن کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔ناشتے کی اہمیت کو اجا گر کرنے کے لیے ایک امریکی مصنف ایڈیلے ڈیوس کا یہ قول ہی کافی ہے:”ناشتا کسی بادشاہ کی طرح کرو،دوپہر کا کھانا شہزادے کی طرح اور رات کا کھانا مزدور کی طرح کھاؤ۔“
جو افراد غذائیت سے بھر پور ناشتا کرتے ہیں ،وہ سارا دن ہشاش بشاش رہتے ہیں ۔جو افراد ناشتا نہیں کرتے یا ان کا ناشتا غیر صحت بخش ہوتا ہے ،وہ عموماً تھکے ہوئے ،ذہنی دباؤ کا شکار اور اعصابی تناؤ میں مبتلا رہتے ہیں ۔موجودہ دور میں زندگی بہت تیز رفتار ہو گئی ہے ۔اہداف کی تکمیل ،بہت سارے کام اور ان کے لیے انتہائی محدود وقت ،ان سب باتوں کی وجہ سے ہم سب ہی اکثر وبیشتر ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور یہ دباؤ ہماری صحت پر منفی اثرات مرتّب کرتا ہے۔
جب ذہنی دباؤ بڑھتا ہے تو اس سے نمٹنے کے لیے انسانی جسم دوطرح کے ہارمونوں کا اخراج کرتا ہے، جنھیں ایڈر ینا لین(ADRENALIN)اور کارٹی سول(CORTISOL)کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دونوں ہارمون ایک طرح سے دباؤ اور تناؤ کے خلاف مزاحمت کا کام کرتے ہیں ۔اگر یہ دباؤ مسلسل رہے تو انسان وقت سے پہلے بوڑھا ہو سکتا ہے ۔
آپ یقینا کبھی نہیں چاہیں گے کہ جلد بوڑھے ہو جائیں یا آپ پر مستقل تھکن طاری رہنے لگے،کیوں کہ اس صورت میں آپ کسی بیماری کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔اگر جسم زیادہ ہارمون پیدا کرے گا تو اس کا نتیجہ مٹا پے کی صورت میں ظاہر ہوسکتا ہے ،اس کے علاوہ ذیا بیطس قسم دوم اور یادداشت کی کم زوری کا عارضہ بھی لا حق ہو سکتا ہے ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناشتے میں کیا کھانا چاہیے؟آپ ہمیشہ ایسا ناشتا کریں ،جو بھر پور غذائیت پر مشتمل ہو ،مثلا ً دودھ ،انڈا ،دہی ،دلیا ،روٹی اور پھل ۔جدید تحقیق کے مطابق کدو کے بیج اور کیلا میگنیز ےئم سے بھر پور ہوتے ہیں ،لہٰذا یہ آپ کے کھنچے ہوئے عضلات ڈھیلا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں اور انھیں کھانے سے بے خوابی سے بھی نجات مل جاتی ہے ۔
انڈا ،دودھ ،دہی ،ڈبل روٹی اور کدو کے بیج حیاتین ب (وٹامن بی) کے حصول کا بھی بہترین ذریعہ ہیں ۔یہ ذہنی دباؤ کو ختم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔انڈے اور دہی میں امینو تیزاب (AMINO ACID)ہوتا ہے ۔ یہ تیزاب انسانی دماغ میں استعمال ہونے والا ایک کیمیائی جزو”سیروٹونن“(SEROTONIN)بناتا ہے۔ ا س جزو کے بارے میں کہاجاتا ہے کہ یہ غصے اور افسردگی کے جذبات کو قابو میں رکھتا ہے اور اس کی بلند سطح ہمیں خوشی کا احساس بخشتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ اسے خوشی کا ہارمون بھی کہاجاتا ہے۔
گندم اور مکئی سے بنائی گئی اشیا ،مثلاً ڈبل روٹی وغیرہ جس میں بھوسی شامل کی گئی ہو ،ریشے اور نشاستے سے بھرپور ہوتی ہیں ۔یہ اشیا خون میں موجود شکر کی سطح کو قابو میں رکھتی ہیں ،جس کے باعث تھکن کا احساس نہیں ہوتا اور ہماری توجہ اپنے کاموں پر مرکوز رہتی ہے ۔جَو کا دلیا ناشتے میں ایک اچھی غذا ہے ۔جَو کے دلیے میں ایسا نشاستہ ہوتا ہے ،جو رفتہ رفتہ دیگر اجزا کے ساتھ مل جاتا ہے ۔
اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ خون میں شکر کی سطح اعتدال میں رہتی ہے اور جسم کو صبح سویرے توانائی کی اچھی خاصی مقدار مل جاتی ہے۔دہی میں کیلسئیم ہوتا ہے اور یہ لحمیات (پروٹینز)سے بھی مالا مال ہوتا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق ناشتے میں لحمیات زیادہ مقدار میں لینے سے دیر تک بھوک نہیں لگتی ۔اس طرح دو پہر کے کھانے تک ہمیں کوئی الّم غلّم شے کھانے کی ضرورت پیش نہیں آتی اور ہم تن دہی کے ساتھ اپنے کام نمٹانے میں مصروف رہتے ہیں ۔
آج کل بہت سی خواتین ملازمت بھی کرتی ہیں اور ان میں سے بیشتر ملازمتوں کی نوعیت کچھ ایسی ہوتی ہے کہ جنھیں انجام دینے کے لیے بیک وقت کئی چیزوں پر توجہ مرکوز رکھنی پڑتی ہے ،اس لیے ذہنی اور جسمانی طور پر چاق چوبند رہنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔جسم میں پانی کی کمی ہوتو اس کا اثر انسانی تو جہ پر پڑتا ہے ۔پانی کی مناسب مقدار،پھلوں کے رس اور چاے سے اس کی کمی کوپورا کیا جا سکتا ہے ۔دن بھر کی بھاگ دوڑ کے لیے ہمیں توانائی کی سطح کو برقرار رکھنا مشکل ہوتا ہے ۔
ا س مشکل کو دور کرنے کا سب سے بہتر طریقہ متوازن اور بھر پور ناشتے کے سوا کچھ نہیں ۔ہمارا جسم ساری رات آرام کرتا ہے اور نیند کے دوران نشوونما بھی پاتا ہے ۔یہی وجہ ہے ک صبح کے وقت اسے توانائی حاصل کرنے کے لے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے ۔خالی پیٹ رہنے سے روز مرّہ کے معمولات انجام دینا ممکن نہیں ہوتا ۔اس سے ہماری صحت بری طرح متاثر ہوسکتی ہے ،اس لیے آپ خود بھی اچھا ناشتا کرنے کو معمول بنائیں اور بچوں کے علاوہ گھر کے دیگر افراد کو بھی بھر پور ناشتا کرنے کا مشورہ دیں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے