بند کریں
صحت مضامینمضامیننئے طریقے آزمائیے۔پُرسکون نیند پائیے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
نئے طریقے آزمائیے۔پُرسکون نیند پائیے
کیا آپ پُرسکون اور گہری نیند نہیں لے پاتے؟ سونے کے دوران بے چینی اور بے قراری میں مبتلا رہتے ہیں؟ لیکن آپ تنہا ہی نہیں، دنیا کے لاکھوں افراد اسی کیفیت کا شکار ہوکر بے کیفی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ کم خوابی کے بارے میں جو تازہ تحقیق ہوئی ہے
شکیل صدیقی:
کیا آپ پُرسکون اور گہری نیند نہیں لے پاتے؟ سونے کے دوران بے چینی اور بے قراری میں مبتلا رہتے ہیں؟ لیکن آپ تنہا ہی نہیں، دنیا کے لاکھوں افراد اسی کیفیت کا شکار ہوکر بے کیفی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ کم خوابی کے بارے میں جو تازہ تحقیق ہوئی ہے، اس کا سبب بلڈ پریشر کا بڑھان اور مٹاپا بھی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی دوسری وجوہ بھی ہیں، جن پر قابو پا کر آپ پُرسکون نیند لے سکتے ہیں۔
اچھی نیند کیلئے بہت سے افراد خواب آور گولیوں کا سہارا بھی لیتے ہیں، لیکن یہ مناسب حل نہیں ہے۔ آپ کو اس حقیقت سے بھی آگاہ ہونا چاہئے کہ نیند کو برباد کرنے والی چیزوں میں کیفین، نکوٹین اور الکحل شامل ہیں۔ آپ کیلئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ سونے سے قبل زیادہ پیٹ بھر کھانا یا بہت زیادہ ورزش کرنے سے بھی آپ اچھی نیند لینے سے قاصر رہتے ہیں۔ اچھی نیند لینے کیلئے یہ انتہائی ضروی ہے کہ آپ کے سونے اور جانگے کے اوقات مقرر ہوں ۔ ماہرین نے پُرسکون نیند لینے کے کچھ نئے طریقے بتائے ہیں، جن کے بارے میں ممکن ہے آپ نے پہلے نہ پڑھا ہو:
الجھنوں اور پریشانیوں کو ایک طرف کیجئے
جب آپ تاریکی میں تکیے پر اپنا سر رکھتے ہیں تو الجھنیں اور پریشانیاں آپ کے سامنے آکھڑی ہوتی ہیں۔ اگر آپ ان سے سمجھوتا کرلیں گے تو ممکن ہے آپ کو نیند آجائے۔ اس کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ ایک کاغذ اور قل لے لیجئے۔ اور ان الجھنوں اور پریشانیوں کو تحریر کیجئے، جو سارا دن آپ کے سرپر سوار رہتی ہیں۔ پھر ان کا حل سوچیے اور اسے بھی لکھ ڈالیے۔ اس کے بعد کاغذ قلم ایک طرف رکھ کر بتی بجھا دیجئے اور سو جائیے۔
اس کے باوجود نیند نہ آئے تو جسم کا مساج کرا لیجئے۔ سونے سے پیشتر اگر آپ یوگا کی ہلکی ورزش کرلیں گے، تب بھی اچھی نیند آجائیگی۔
یوگا کی آگے جھکنے والیورزش بھی مناسب ہے، جو بے خوابی کو دور کرنے میں مدد دیتی ہے۔ سیدھے کھڑے ہوکر ٹانگوں کو پھیلالیں، پھر آگے کو اپنے پیٹ کی طرف جھکیں۔۔ اپنے ہاتھوں کو جھولنے دیں۔ اتنا نہ جھکیں کہ گردن اور شانوں پر درد شروع ہوجائے۔
اگر آپ کو مسلسل جمائیاں آرہی ہیں تو ماہرین کے اندازے کے مطابق آپ کے دماغ کو مناسب آکسیجن نہیں مل رہی ہے۔ چنانچہ گہری سانسیں لیجیے۔ سانسوں کی اس ورزش سے آپ کوذ ہنی و اعصابی کھچاؤ سے نجات مل جائے گی اور آپ جلد ہی نیند کی وادی میں پہنچ جائیں گے۔
اپنی خواب گاہ میں تبدیلی کیجئے
اپنی خواب گاہ کے ماحول کو اس اندازے سے رکھیے کہ تکیے پر سر رکھتے ہی نیند آنے لگے۔ خواب گاہ میں ہر چیز آپ کے مزاج کے مطابق ہونی چاہئے۔ اگر ملحقہ کمرے سے آنے والی آوازیں نیند میں خلل ڈال رہی ہوں تو بستر کو دوسری دیوار کے قریب لے جاکر بچھالیجیے۔ آ پکا گدّا سخت ہونا چاہئے، تاکہ کمر سیدھی رہے۔ خواب گاہ کا درجہ حرارت اتنا ہونا چاہئے کہ ٹھنڈک سے فرحت محسوس ہو۔
بتی بجھا دیجئے
سوتے وقت تیز روشنی سے اجتناب کیجئے۔ تیز روشنی کو دیکھ کر دماغ یہ سوچتا ہے کہ اسے مستعد اور چاق وچوبند رہنا چاہئے۔ خواب گاہ میں ۳۰ سے ۴۰ واٹ کا بلب لگائیے۔ جس کی روشنی براہ راست آپ تک نہ پہنچے۔ اس کے علاوہ بھی سارے گھر میں شیڈ والی بتیاں لگائیے۔ کوشش کیجئے کہ جب صبح کو آپ بیدار ہوں تو سورج کی کرنیں آپ کی آنکھوں پر براہ راست نہ پڑیں۔ رات کو چاندنی یا سڑک کے کھمبے سے آنے والی روشنی بھی نیند میں رکاوٹ ڈالتی ہے، لہٰذا اس سے بھی بچنا چاہئے۔
صرف بیس منٹ انتظار کیجئے
نیند آنے کا صرف بیس منٹ تک انتظار کیجئے۔ اگر اس دوران نیند نہ آئے تو پھر بستر سے اٹھ جائیے اور دوسرے کمرے میں کاکر کوئی کام کیجئے۔ پھر جب آنکھیں نیند سے بوجھل ہونے لگیں تب بستر پر لیٹیں۔ رات میں اچانک آنکھ کھل جائے اور تادیر نیند نہ آئے، تب بھی یہی عمل کریں۔
سونے سے پہلے پُر لطف اور مزاحیہ کتابوں کا مطالعہ کریں۔ اس سے دماغ سونے کی طرف مائل ہوجائے گا۔

(4) ووٹ وصول ہوئے