بند کریں
صحت مضامینمضامینآسٹیوپوروسس کی علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
آسٹیوپوروسس کی علامات اور اس سے بچاؤ کے طریقے
2009 میں ہونے والی تحقیق کے مطابق کراچی میں 6سے 7 فیصد جبکہ لاہور میں 18عشاریہ 6فیصد ایسی 40سال یازائد عمر کی خواتین ہیں جوکہ آسٹیوپوروسس کاشکار ہیں۔ یہ اعدادوشمار ملک بھر میں مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین سے حاصل کیے گئے ہے ۔
2009 میں ہونے والی تحقیق کے مطابق کراچی میں 6سے 7 فیصد جبکہ لاہور میں 18عشاریہ 6فیصد ایسی 40سال یازائد عمر کی خواتین ہیں جوکہ آسٹیوپوروسس کاشکار ہیں۔ یہ اعدادوشمار ملک بھر میں مختلف سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والی خواتین سے حاصل کیے گئے ہے ۔
چالیس سال سے زائد عمر والی خواتین کے لیے آسٹیوپوروسس اکثرناگزیر بیماری تصور کی جاتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس مرض کو اتنی توجہ نہیں مل پاتی جتنی کہ ملنی چاہیے ۔ یہ ایک عام پائی جانے والی بیماری ہے اور کسی نہ کسی سطح پر خواتین کی بڑی تعداد اس مرض میں مبتلا ہے ۔ البتہ اب مردوں میں بھی یہ مرض زور پکڑ رہا ہے ۔ اس کی وجہ مردوں میں ایڈرینل کارٹیکس سے خارج ہونے والے ہارمون لرزا کی کمی ہے ۔
آسٹیوپوروسس ایک ایسی جسمانی کیفیت ہے جس میں ہڈیاں کمزور اور بھربھری ہونے لگ جاتی ہیں۔ یہ اتنی کمزور ہوجاتی ہیں کہ معمولی سی چوٹ بھی اس کے ٹوٹنے کا سبب بن سکتی ہے ۔ اس مرض میں ہڈیوں کو کام کرنے میں مشکل پیش آتی ہے ۔ دراصل اس بیماری میں ہڈیاں پتلی ہونے لگتی ہیں اور ہڈیوں کے مسام کھلنے لگ جاتے ہیں ۔ انسان کو ہڈیوں میں مرمت کاکام ہر وقت جاری رہتا ہے ۔ پرانی خلیات گھل جاتے ہیں جبکہ نئے خلیات بنتے ہیں۔ آسٹیوپوروسس اس وقت ہوتا ہے جب ہڈیوں کے خلیات گھلنے اور نئے بننے میں توازن قائم نہیں رہتا ۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یاتومنساب خلیات بن نہیں رہے یاضرورت سے زیادہ گھل رہے ہیں ۔
انسانی جسم میں ہڈیاں 20سال کی عمر تک بڑھتی ہیں۔ ہڈیوں کے مستقبل کاتعلق اس بات ست ہوتا ہے کہ آپ کا جسم کتنا کیلشیم اور فاسفیٹ جذب اور اسٹور کررہا ہے ۔ چالیس سال کی عمر تک جسم کیلشیم جمع کرتا رہتا ہے ۔ اگر آپ کے جسم میں کیلشیم کاتناسب آپ کی ضرورت کے اعتبار سے کافی ہے تو آپ کو آسٹوپوروسس ہونے کے خطرات کم ہوجاتے ہیں ۔جسم میں ایسٹروجین کی کمی آسٹیوپوروسس کی ایک بڑی وجہ بنتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ چالیس سے زاہد عمر کی خواتین میں یہ مرض زیادہ پایاجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ مرد جن میں اینڈروجن کی کمی ہوتی ہے وہ بھی اس مرض کاشکار ہوجاتے ہیں۔ جوخواتین زیادہ تر وقت گھر میں گزارتی ہیں اور جن کادھوپ میں نکلنا کم ہوتا ہے ان میں اکثر وٹامن ڈی کی کمی واقع ہوجاتی ہے جواس مرض کی ایک اور وجہ ہے ۔
خواتین اکثر دودھ پینے سے کتراتی ہیں یامچھلی سے اجنتاب کرتی ہیں۔ جس کے باعث ان کے جسم میں ضروری غذائیت کی کمی ہوجاتی ہے ۔ ہڈیوں کے اس مرض کی دیگر ممکنہ وجوہات میں تھائرائیڈ کے مسائل پٹھوں کوآرام کرنے کی عادت ، ہڈیوں کا کینسر ، سگریٹ نوشی، جینیاتی خرابی یامخصوص قسم کی ادویات کا استعمال شامل ہے ۔
علامات :
اس مرض کے علامات میں ہڈیوں میں شدید تکلیف شامل ہے ۔ اس کے علاوہ اس مرض میں اکثر گردن میں درد رہتا ہے ، ہڈیاں آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں اور ذراسی چوٹ سے بے حدتکلیف ہوتی ہے ۔ زرادیر کی جسمانی کثرت سے جسم دیر تک درد کرتا رہتا ہے اور ہڈیوں پر کسی بھی کسی قسم کابوجھ نہیں لیا جاسکتا۔
بچاؤ کے طریقے :
کئی ممالک میں آسٹیوپوروسس سے بچاؤ کے لیے طریقوں پر تحقیق کی جارہی ہے ۔ ساتھ ہی عام لوگوں میں اس کاشعور بیدار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ مندرجہ ذیل طریقوں سے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے ۔
کیلشیم :
18سے 50سال کی عمر میں جسم میں کیلشیم کی سطح کاحساب رکھنا ضروری ہے ۔ سگریٹ نوشی سے اجتناب کیجئے ۔ ساتھ ہی سافٹ ڈرنک کااستعمال بھی کم کردیں۔ ان چیزوں سے ہڈیوں کاکیلشیم کم ہونے لگتا ہے اس کے بجائے اپنی خوراک میں دودھ، ہری، سبزی ، پھل اور سی فوڈ کااستعمال بڑھائیں ۔ ساتھ ہی ورزش کو روز کامعمول بنائیں ۔ کیلشیم کے لیے سپلیمنٹ بھی استعمال کی جاسکتی ہیں لیکن ان سے گردے میں پتھری ہونے کے خطرات لاحق ہوجاتے ہیں اس لیے بہتر یہ ہی ہے کہ اسے قدرتی طریقوں سے ہی حاصل کیا جائے ۔
وٹامن ڈی :
جسم میں وٹامن ڈی کیلشیم جذب کرنے کی صلاحیت کوبڑھاتا ہت ۔ دھوپ میں بیٹھنا وٹامن ڈی حاصل کرنے کاایک اہم اور آسان طریقہ ہے ۔ ایک مخصوص وقت کے لیے جسم پر دھوپ لگانا نہ صرف ہڈیوں کو کیلشیم فراہم کرتا ہے بلکہ یہ جلدی بیماری سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
ورزش :
ورزش سے ہڈیوں میں لچک پیداہوتی ہے اور وہ مضبوط ہوتی ہیں۔ چاہے آپ عمر کے کسی بھی حصے میں ہوں ورزش آپ کی صحت اور تندرستی کے لیے ضروری ہے ۔ ورزش اپنے وزن کے حساب کریں۔ جسم کو اسٹریچ کریں۔ دوڑ، جاگنگ ، چہل قدمی اور سی کودنے سے جسم چست وتوانا رہتا ہے ۔
اپنی ہڈیوں کاخیال رکھیں۔ یہ آپ کاسب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے اپنی ہڈیوں کو اس تکلیف دہ مرض سے بچائیں۔ خود بھی اس کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں اور دوسروں کو بھی اس کے بارے میں آگاہ کریں ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان