بند کریں
صحت مضامینمضامینپانی کے حیرت انگیز فائدے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پانی کے حیرت انگیز فائدے
اگر آپ یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ معدے کی جلن پانی کی کمی کی بنا پر ہے اور آپ نے علاج کی غرض سے کوئی دوا کھالی تو آپ کے معدے کی سوزش میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے
سینے اور معدے کی جلن دُور:
اگر آپ سینے یا معدے میں جلن محسوس کریں تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا جسم پانی کی کمی کا شکار ہے۔ اس جلن کودُور کرنے کیلئے دوائیں ہرگز نہ کھائیں۔ پانی کی کمی کو پورا کرنے کیلئے پانی پینا ہی بہتر ہے۔ اگر آپ یہ اندازہ نہیں لگا سکے کہ معدے کی جلن پانی کی کمی کی بنا پر ہے اور آپ نے علاج کی غرض سے کوئی دوا کھالی تو آپ کے معدے کی سوزش میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس کے علاوہ معدے کے نیچے کی چھوٹی آنت (Duodenum) بھی متاثر ہو سکتی ہے آپ کو آنت اُترنے(Hernia)کی تکلیف بھی ہو سکتی ہے آپ کی آنتوں میں زخم بھی ہو سکتے ہیں۔یہاں تک کہ آپ کا جگر اور لبلبہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
جوڑوں کا وردم دُور:
جوڑوں میں درد یا ورم ہونا اس بات کی نشان دہی ہے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہو چکی ہے ۔یہ تکلیف جوان اور بوڑھے، دونوں کو ہو سکتی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں دوا کھانے سے تکلیف میں اضافہ ہونے کا امکان ہو سکتا ہے۔ پانی خوب پییں اور تھوڑا سا نمک بھی کھالیں، اس سے تکلیف میں افاقہ ہو جائے گا۔
کمر کے درد کا خاتمہ:
اگر آپ کی کمر کے نچلے حصے میں درد اور ریڑھ کی ہڈی میں ورم ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی کی جگہ پر پانی کی کمی ہو چکی ہے ۔ ریڑھ کی ہڈی میں پلیٹیں ہوتی ہیں اور ان کے درمیان پانی۔ یہ سب مل کر آپ کے جسم کا وزن برداشت کرتے اور آپ کو سیدھا کھڑا ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں پانی زیادہ پییں اور اگر معالج کوئی دوا دیتا ہے تو وہ بھی ضرور کھائیں۔ اگر آپ کو جسم میں پانی کی کمی کا اندازہ نہ ہو سکے تو ایکوپنکچر یعنی سوئیوں سے علاج کروائیں یا ریڑھ کی ہڈی کی سرجری کرالیں لیکن یہ یاد رکھیں کہ سرجری کروانے کی صورت میں اکثر نقصان ہوتا ہے اور ریڑھ کی ہڈی بدنما اور ٹیڑھی ہو جاتی ہے۔ اس ضمن میں اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔
سینے کے درر(انجائنا) کا ازالہ:
سینے یا دل میں درد ہونے کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ آپ کے جسم میں پانی کی کمی ہو چکی ہے ۔ایسی شکایت ہونے پر پانی زیادہ سے زیادہ پییں تاکہ آپ کو دوائیں نہ کھائی پڑیں۔ اس بارے میں کسی معالج سے مشورہ کرنا ضروری ہے لیکن زیادہ پانی پی کر آپ اس بیماری پر قابو پا سکتے ہیں۔
آدھے سر کے درد کی روک تھام:
جب آدھے سرکا درد ہو تویہ اس بات کی علامت ہے کہ دماغ اورآنکھوں کی پانی کی ضرورت ہے۔ اگر آپ زیادہ مقداد میں پانی پی لیں تو دوا کھائے بغیر یہ شکایت دُور ہوسکتی ہے ۔ پانی کی کمی کے باعث جو آدھے سرکا درد ہوتا ہے اس میں آنکھوں کے پچھلے حصے میں سوزش ہو سکتی ہے اوربینائی بھی جا سکتی ہے۔
بڑی آنت کے درد کا خاتمہ:
بڑی آنت میں درد ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آنتوں میں پانی کم ہو گیا ہے ۔اس کمی سے قبض بھی ہو جاتی ہے ۔ آنتیں خشک ہو جائیں تو ان کی چکنائی ختم ہو جاتی ہے اور فضلہ رُک جاتا ہے۔ اگر آپ پانی کی کمی کو دُور نہ کر سکے تو دائمی قبض میں مبتلا رہنے کا خدشہ ہے ۔ مستقل پانی کی کمی سے بڑی آنت اور مقعد (ANUS) کا سرطان بھی ہو سکتا ہے۔
دمے کا خاتمہ:
پانی کی کمی سے جسم میں ایسی پیچیدگی پیدا ہو جاتی ہے جس سے دمہ ہو جاتا ہے تقریباََ ایک کروڑ چالیس لاکھ بچے ہر سال اس بیماری میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن میں سے ہزاروں ہلاک بھی ہو جاتے ہیں۔ زیادہ پانی پینے سے دمے کی شکایت ختم ہو جاتی ہے۔ جن افراد کو دمے کی شکایت ہو انھیں چاہیے کہ وہ پانی میں تھوڑا سا نمک بھی ملالیں۔ ان افراد کے پھیپڑوں میں بلغم جم جاتا ہے اس لیے سانس کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ نمک سے بلغم صاف ہو جا تا ہے اور سینے کی گھٹن ختم ہو جاتی ہے ۔ دمے کے مریض اگر پانی میں نمک ملا کر پینا چاہتے ہوں تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کرلیں۔
ابتدائی ذیابیطس سے بچاوٴ:
جسم میں پانی کی زیادہ کمی سے ذیابیطس بھی ہو سکتا ہے ۔ ناکافی پانی جسم کے سارے حصوں تک نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں انسولین جسم کے سارے خلیوں تک نہیں پہنچ پاتی۔ ذیابیطس میں صرف چند خلیے پانی کو ذخیرہ کر پاتے ہیں۔ اگر پانی زیادہ مقدار میں پیا جائے اور اس میں تھوڑا سا نمک بھی ملا لیا جائے تو ابتدائی ذیابیطس کو روکا جا سکتا ہے۔
اگر آپ نے پانی کی کمی کی علامات پر توجہ نہ دی تو خون کی نالیوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ دورانِ خون رک جانے سے جسم کے حصے ،خاص طور پر پاوٴں کے انگوٹھے اور پاوٴں بے جان ہو سکتے ہیں۔ آنکھوں کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے اور بعض اوقات مریض نابینا بھی ہو سکتا ہے۔

(20) ووٹ وصول ہوئے