بند کریں
صحت مضامینمضامینپانی کا کم استعمال

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پانی کا کم استعمال
جگر کے امراض کا خطرہ بڑھائے
غلام زہرا :
جگر انسانی کا وہ عضو ہے جس کو عام طور پر اُس وقت تک سنجیدہ نہیں لیاجاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بنتے لگتا ۔ انسان کو صحت مندرکھنے میں جگر کا اہم کردار ہے کیونکہ جگر خراب ہونے سے جسم میں تازہ خون کی افزائش کم جبکہ دوسری رطوبات کی افزائش بڑھ جاتی ہے اور رطوبات کے اس عدم توازن سے مجموعی طور پر صحت میں بگاڑ پیداہونے لگتا ہے ۔ ضعف جگر کی بنیادی وجہ غذائی بے احتیاطی ہے ۔ چنانچہ حد سے زیادہ گھی ، چکنائی والی غذاء بازاری کھانے اور تیز مرچ مصالحے استعمال کرنے والوں میں ضعف جگر کی تکلیف زیادہ ہوتی ہے ۔ اس کے علاوہ موٹاپا، شراب نوشی کی عادت اور قوت بخش غلط دواؤں کی وجہ سے بھی جگر خراب ہوجاتا ہے ۔ بہت سے مریض اس بیمار میں سیلف سروس کے تحت اپنا علاج کرتے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خطرناک بیماری کو خطرناک نہیں بلکہ معمولی نوعیت کا مرض سمجھتے ہیں۔ جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اُسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے ۔
تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی بیماری کی صورت میں جوعلامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثرانداز کردی جاتی ہیں۔ امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک چھوٹی سی عادت آپ کو جگر کے امراض کا شکار بناسکتی ہے ۔ اوروہ ہے مناسب امراض کاشکار بناسکتی ہے، اور وہ مناسب مقدار میں پانی نہ پینا۔ فنکشنل میڈیکل انسٹیٹوٹ کی تحقیق کے مطابق جسم میں پانی کی کمی براہ راست جگر کی جسم کے نقصان دہ اجزء کو فلٹر کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ جب انسان پانی کا کم استعمال کرتے ہیں تو جگر ڈی ہائیڈریشن کا شکار ہونے لگتا ہے اوران اجزاء کو کھونے لگتا ہے جوجسم کے باقی حصوں کی نگہداشت کاکام کرتے ہیں ۔
تحقیق کے مطابق ایسا ہونے کی صورت میں جگر کے مہلک امراض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور لوگوں کو اکثر ان کاعلم کافی دیرسے ہوتا ہے ۔ محققین نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مناسب مقدار میں پانی کے استعمال کو ہر صورت میں یقینی بنائیں چاہے موسم سرد ہی کیوں نہ ہو۔

(0) ووٹ وصول ہوئے

: متعلقہ عنوان