بند کریں
صحت مضامینمضامینپاکستان میں ہر سال تین لاکھ افراد کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پاکستان میں ہر سال تین لاکھ افراد کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں
کینسر کے مریضوں کی بڑ ی تعداد علاج نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔علاج کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بہت سے مریض جن کے کینسر کی تشخیص آخری مرحلہ میں ہو تو وہ ہسپتالوں میں پہنچ بھی جائیں
ڈاکٹر ارم مبشر:
کینسر ایک موذی مرض ہے۔ یہ جملہ عرصہ دراز سے مستعمل ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس بیماری کی تشخیص مشکل ہو ا کرتی تھی اور علاج اس سے بھی مشکل ترین تھا۔ اس مرض کے حوالے سے عالمی سطح پر جو ریسرچ رفتہ رفتہ ہو رہی ہے اس کے باعث اس مرض سے اموات میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔اگرچہ پاکستان میں کینسر کی تشخیص اور علاج کے حوالے سے ابھی بھی بڑا خلا موجود ہے۔ پوری دنیا میں ہر سال 4فرور ی کو عالمی کینسر ڈے منایا جا تاہے۔یہ دن اس مرض پر قابو پانے کی انسانی کوششوں کی کامیابی کا اعلان ہے کہ ایک مشکل اور پیچیدہ چیلنج کو کس طرح پورا کیا جا رہاہے۔
پاکستان کے حوالے سے کینسر کے مرض کا مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ابھی بہت کام باقی ہے۔ پاکستان میں دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال 3لاکھ افراد کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ ملک بھر میں کینسر کے علاج کے لئے دستیاب سہولتیں صرف چالیس ہزار مریضوں کے لئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کینسر کے مریضوں کی بڑ ی تعداد علاج نہ ہونے کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہے۔علاج کی سہولیات نہ ہونے کے باعث بہت سے مریض جن کے کینسر کی تشخیص آخری مرحلہ میں ہو تو وہ ہسپتالوں میں پہنچ بھی جائیں تو غیر سرکار ی ہسپتال انہیں داخل کرنے کے بجائے قدرت کے رحم و کرم پر چھوڑدیتے ہیں۔حالانکہ یہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ہے۔ کینسر کا مرض دوسری بیماریوں سے اس لئے مختلف ہے کیونکہ اگر کینسر کے آخری مرحلے پر مریضوں کو خصوصی توجہ نہ دی جائے تو انہیں ناقابل بیان درد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔زندگی موت سے بھی بدتر ہو سکتی ہے۔ان مریضوں کو دردکش دوائی مورفین کے ساتھ دوسری ادویات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ان مریضوں کو کھانے پینے میں بھی مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ان کے جسم میں خوراک بہم پہنچنے کا متبادل نظام نالیوں یا معدہ سے براہ راست رسائی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔سانس لینے میں دشواری اور رکاوٹ دور کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ذہنی اور روحانی سکون بہت اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔اس علاج کے لئے ایک علیحدہ وارڈ اورتربیت یافتہ خصوصی معالج درکار ہوتے ہیں۔اس مرحلے کے علاج کو "علامتی علاج کا وارڈ " (Palliative Care Ward)کہا جاتا ہے جو علامتی علاج کے ماہرین کے زیر نگرانی چلایاجاتا ہے۔ یہ وارڈ پاکستان بھر میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔صوبہ پنجاب میں 162,000مریض ہر سال کینسر میں مبتلا ہوتے ہیں جبکہ ان مریضوں کیلئے شوکت خانم سمیت پنجاب بھر میں صرف 573 بیڈ اور 35کینسر سپیشلسٹ Oncologistموجود ہیں۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو کینسر پر قابو پانے کیلئے پنجاب بھر میں سرکار ی اور غیر سرکار ی سطح پر کئی سنٹر بنانے پڑیں گے۔کینسر سپیشلسٹ (اونکالوجسٹ ) کے گروپ نے پروفیسر ڈاکٹر شہریا ر کی قیادت میں دکھی انسانیت کا درد محسوس کرنے والے صاحب دل اور فیاض لوگوں کے تعاون سے سرطان (کینسر) جیسے اذیت نا ک مرض اور قابل برداشت درد میں مبتلا مریضو ں کیلئے کینسر کئیر ہسپتال اور ریسر چ سنٹر کو معرض وجود میں لانے کیلئے کام شروع کردیا ہے۔ یہ ہسپتال 4سو بستروں پر مشتمل ہوگا۔ اس میں کینسر کے علاج کیلئے جدید ترین مشینری استعمال کی جائے گی۔یہاں کسی مریض کو علاج سے انکار نہیں کیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ میں 60بستروں پر مشتمل Palliative Card Wardسب سے پہلے شروع کیا جائے گا اور یہ پاکستان کا پہلا Wardہوگا جہاں کینسر کے ایڈوانس سٹیج کے مریضوں کا علامتی علاج کیا جائے گا ، کینسر کے درد سے نجات دلائی جائے گی اور باقی تمام تر تکالیف کا ازالہ کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی زندگی کے بقایا ماہ و سال آسانی سے گزار سکیں۔

(3) ووٹ وصول ہوئے