Pea - Hare Bhare Dane Motiyon Se - Article No. 1975

مٹر․․․ہرے بھرے دانے موتیوں سے - تحریر نمبر 1975

ہفتہ اکتوبر

Pea - Hare Bhare Dane Motiyon Se - Article No. 1975
مٹر کو انگریزی زبان میں Garden Peaکہا جاتا ہے ۔اردو میں ہم اسے مٹر کہتے ہیں اور یہ ہمارے مشرقی پکوانوں میں چاول اور قیمے کے علاوہ مکس سبزیوں اور سلاد کی شکل میں بھی استعمال کی جاتی ہے ۔آپ نے رشئین سلاد میں انہیں براجمان دیکھا ہو گا اور مٹر پلاؤ اور قیمہ مٹر بھی شوق سے کھائے ہوں گے ۔
آج ہم آپ کو مختلف امراض میں مٹر کی افادیت اور نقصانات سے متعلق معلومات دے رہے ہیں ۔

مٹر کا مزاج گرم اور خشک کہا جاتا ہے ۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ 7سے10گرام ہی استعمال کئے جائیں ۔یہ بلغم کے امراض کے لئے تریاق ہے ۔اگر آپ دائمی قبض کا شکار ہوں تو بھی یہ سبزی مفید ہے ۔گرمیوں کے بخار،نزلے اور بلغم دور کرنے کے لئے مٹر کو بھاپ میں ہلکا سا پکا کر شہد کے ساتھ بھی کھانے کی روایتیں ملتی ہیں ۔

(جاری ہے)

پرانے جان کا رحکماء اور طبیب مٹر کے منجن بھی بناتے تھے جو مسوڑھوں اور دانتوں کی جڑوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا تھا ۔


مٹر غذائی آیوڈین کا بہترین ذریعہ
وٹامن B7,B1,E,D,B,Cاور میٹا کیروٹین کے ساتھ یہ بہترین اور مفید سبزی ہے،ہمارے یہاں سردیوں اور اب گرمیوں میں بھی مارکیٹ ہو رہی ہے ۔پیٹ کے مروڑ اور پیچیش میں تل کے تیل کی چٹکی بھر مقدار ساتھ کھا لینے سے افاقہ ہوتا ہے مگر مٹر ابلے ہوئے ہوں ۔ گردوں کے زخم اور خراش میں یرقان اور تلی کے بڑھ جانے کی وجہ سے ہونے والے بخار میں بھی مٹر کی سبزی آرام دیتی ہے ۔

انہیں ابال کر سلاد میں شامل کرکے کھایا جائے یا سالن کی شکل میں دونوں طریقے صحیح ہیں ۔
مٹر کرے چہرے کے داغ دھبے دور
کچھ حیرت نہیں ہوتی کہ قدرت نے اپنی ہر تخلیق اور نعمت میں انسان کے لئے بے شمار فوائد رکھے ہیں ۔کسی کے چہرے پر برص کے داغ رہ گئے ہوں یا جلد ایک رنگی نہ ہو تو مٹر کو سادہ پانی میں ابال کر جوشاندہ تیار کرایا جائے اور اسے صاف شیشی میں رکھ کر انداز اًدن میں دو سے تین بار اس پانی سے چہرہ دھویا جائے تو چند ہی دنوں میں چہرے پر نکھار آجاتا ہے ،داغ دھبے دور ہو جاتے ہیں ۔


چہرے کی کلونچ کے لئے
چہرے پر آجانے والی کلونچ یا خراش،سیاہی مائل دھبے دور کرنے کے لئے مٹر کو گرائنڈ کرکے عرق گلاب میں ملا کر لیپ کرنے سے فائدہ ہوتا ہے ۔
پھوڑے اور پھیلنے والے زخموں کے لئے
شہد اور مٹر ہم وزن لے کر(مٹر پیس لیں)ملائیں اور اس کا لیپ کرنے سے جلد نارمل حالت میں لوٹ آتی ہے ۔

مٹر غذائی کاربوہائیڈریٹس کا مجموعہ ہوتے ہیں صرف دو کھانے کے چمچ کے برابر ابلے ہوئے مٹر اپنے اندر 60کیلوریز رکھتے ہیں ۔یہ خوراک کے ساتھ مل کر گلوکوز میں تبدیل ہوتے ہیں اور یوں گلوکوز خون میں شامل ہو کر جسم کے ہر حصے میں پہنچتا ہے ۔مٹر بہترین غذائی پروٹین بھی ہے ۔اگر ہم 100گرام مٹر غذائیں شامل کر رہے ہوں تو ہمیں 6.7گرام پروٹین دستیاب ہوجاتی ہے ۔غذائی ماہرین کے مطابق سبزی اور پھلوں میں بہت کم پروٹین پائی جاتی ہے تاہم یہ جس قدر مقدار میں دستیاب ہو سکتی ہو حاصل کر لینی چاہئے۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-10

Your Thoughts and Comments