بند کریں
صحت مضامینمضامینپھٹی ایڑیاں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
پھٹی ایڑیاں
شوگر اور آئیوڈین کی کمی والے اس کازیادہ شکار ہوتے ہیں
موسم سرمامیں جس طرح جلد اور بالوں کے مسائل بڑھ جاتے ہیں اس طرح بہت سے لوگ اپنی ایڑیوں کے پھٹنے کی شکایت بھی کریے نظرآتے ہیں۔چونکہ سردی میں نمی کاتناسب بڑھ جاتاہے اسی لیے یہ مسئلہ سراٹھاتاہے۔سردی کے آغاز سے ہی جلد اپنی قدرتی نمی کھونے لگتی ہے اور جلد میں کھچاؤ جلد ڈھیلی پڑنا،اور جھریوں کے علاوہ سخت کھردری، پھٹی ایڑیوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں،اس وقت اگر بے پروائی برتی جائے تو دن بہ دن جلد کھنچنے لگتی ہے جس سے ایڑیوں میں دراڑیں پڑجاتی ہیں۔
دراصل ہمارے جسم کی سب سے سخت جلد ایڑیوں ک ی ہوتی ہے یہ یہی وجہ ہے کہ اگر جلد کے اس حصے پرسوئی چبھوئیں تو درد محسوس نہیں ہوتاکیونکہ اس جگہ دوران خون نسبتاََ سست ہوتاہے اور جسم کے اس حصے میں پہلے سے ہی نمی کی مقدار کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ کارپٹ پر ننگے پاؤں چلنے سے بھی پاؤں کی چلی جلد روکھی اور خشک ہوجاتی ہے۔ گھریلو خواتین اپنی جلد کی حفاظت نہیں کرتیں جس کی وجہ سے ان کی جلد کی حفاظت نہیں کرتیں جس کی وجہ سے ان کی جلد بہت سے مسائل کاشکار رہتی ہے۔ انھیں چاہیے کہ وہ گھریلو استعمال کے لیے ایسے جوتے پہنیں جن میں ان کے پاؤں آرام محسوس کریں، سخت جوتوں کی وجہ سے بھی پاؤں کی ایڑیاں خراب ہوجاتی ہیں۔
ایڑیوں کاپھٹنا وراثتی بھی ہوسکتا ہے اس کے علاوہ کیراٹوڈرما بھی ایسی بیماری ہے جس سے ہاتھوں اور پاؤں کی مچلی جلدکے ساتھ ساتھ ایڑیوں بھی بری طرح سے متاثرہوتی ہیں۔ ایسے افراد جن کاوزن زیادہ وہ شوگر،آئیوڈین کی کمی یاتھائی رائیڈجیسی بیماریوں کاشکارہوں توان کی ایڑیاں سخت ہوکر پھٹنے لگتی ہیں۔پھٹی ایڑیوں سے نجات پانے کے لیے وہ سردیوں میں روزانہ 25سے50گرام ڈرائی فروٹ کھاسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ پھلوں کاجوس پینے کے بجائے“ فرویش فروٹ” کھائیں خصوصاََ رنگ کے پھل پھٹی ایڑیوں کے لیے بہت مفید ہیں،جن میں اورنج سنگترہ، چکوتہ ،آم، اور خربوزہ شامل ہیں۔ موسم کی مناسبت سے ان پھلوں کاباقاعدہ استعمال فائدہ مندہے۔اس کے علاوہ آپ ہاتھوں اور پاؤں پر دن بھرکوئی موئسچرائزنگ کریم اور لوش لگاکر رکھیں۔موئسچرائزنگ“ کے لیے ایسی کریمز اور لوشنز استعمال کریں جن میں یوریا، لیکٹک ایسڈ اور سیلے سلک ایسڈ موجود ہوں اس کے علاوہ ایسی کریمز اور لوش کااستعمال جن میں یوریا، پٹرولیم جیلی،اور گلیسرین شامل ہو بہت مئوثر ہے اگر ایڑیاں زیادہ خراب ہوں تو ڈاکٹر سے معائنہ کروانا بھی ضروری ہے۔
ذیل میں کچھ ایسے نسخے اور احتیاطی تدابیر بیان کررہے ہیں جن پر عمل کرکے آپ اپنی ایڑیوں کی حفاظت خود بھی کرسکتے ہیں۔
ایسے افراد جن کی ایڑیاں کافی حدتک پھٹی ہیں وہ ہفتے میں دومرتبہ نیم گرم پانی میں دوچمچے سرکہ اور سکمڈملک ملائیں اور اس پانی میں15منٹ کے لیے پاؤں ڈبوکررکھیں۔پھرکسی پتھریافٹ فامکر (Foot Filer) سے ایڑیوں کوآہستہ آہستہ رگزنے کے بعد تولیے سے خشک کرلیں۔ اب ایڑیوں پر پٹرولیم جیلی کااچھے طریقے سے لیپ کریں۔ حتیٰ کہ جیلی داراڑوں کے اندرچلی جائے اور اس کے بعد جربیس پہن لیں کوشش کریں کہ یہ عمل روزانہ رات کوسونے سے پہلے دہرائیں۔
اگر آپ کی ایڑیاں زیادہ خراب نہیں ہیں توموم بتی پگھلاکرموم کے قطرے ایڑیوں پر اس طرح گرائیں کہ داراڑیں بھر جائیں اس کے بعد جرابیں پہن کر20منٹ کے بعد موم کے قطرے چھیل کر اتارلیں یہ عمل ہفتے میں دو سے تین مرتبہ دہرائیں۔
سرخ صابن کی آدھی ٹکیاکرش کریں پھر اس میں25ملی لیٹر گلیسرین ملاکرہاتھوں سے گوندھ کر پیسٹ بنالیں۔اور روزانہ رات کوسونے سے پہلے یہ پیسٹ پھٹی ہوئی ایڑیوں پرلگائیں۔اس پیسٹ کے روزانہ استعمال سے ایڑیاں نہ صرف نرم ہوں گی بلکہ ان کی رنگت بھی گلابی ہوجائے گی۔
ایک مٹھی بھٹے کے بال لے کر تین پیالی پانی میں اچھی طرح جوش دے کرجب ایک پیالی پانی رہ جائے چولہے سے اتارکرنیم گرم پی لیں اور گلیسرین اور عرق گلاب ہم وزن ملاکرایڑیوں پرلگائیں۔ان نسخوں سے ان کوبہت فائدہ ہواور ایڑیوں کادرد بھی ختم ہوگیااور ایڑیوں کاپھٹنا بھی ختم ہوگیا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے