Pittey Ki Pathri Kaise Hoti Hai - Article No. 2103

پتے کی پتھری کیسے ہوتی ہے - تحریر نمبر 2103

جمعرات مارچ

Pittey Ki Pathri Kaise Hoti Hai - Article No. 2103
پیٹ کا درد،ریاح اور پیٹ کا پھول جانا ایسی تکالیف ہیں جو پتے کی پتھری کی عام علامات ہیں۔بعض دفعہ یہ پتھری پتے میں خراش پیدا کرتی ہے اور سخت درد کا باعث ہوتی ہے۔ایسے بھی لوگ ہیں جن کے پتوں میں پتھریاں ہوتی ہیں لیکن تکالیف دہ علامات سامنے نہیں آتیں۔
پتا کیا ہے اور اس کے افعال کیا ہیں؟
ناشپاتی کی شکل کا یہ جسمانی عضو جگر کے پیچھے واقع ہے۔

یہ صفرے کو جمع رکھتا ہے۔صفرا ایک تیزابی مائع ہے جسے جگر بناتا ہے ۔اس مائع میں چکنائیوں کو ہضم کرنے والے اجزاء بہت ہیں اور جگر یہ وقت ضرور صفرے کو چھوٹی آنتوں میں خارج کرتا رہتا ہے۔عام طور پر صفرے کے تیزابی اجزاء کولیسٹرول اور کیلشیئم دونوں کو محلول یعنی حل شدہ شکل میں رکھتے ہیں۔جب کولیسٹرول بڑھ جائے یا اس کو حل کرنے والے اجزاء کم ہو جاتے ہیں تو ان میں کچھ ذرات مل کر پتھر بن جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

پتے کی پتھریوں میں سے بیشتر کولیسٹرول سے بنی ہوتی ہیں۔دوسری پتھریاں ریت کے ذروں کی مانند ہو سکتی ہیں اور انڈے کے سائز کی بھی،یہ پتھریاں یا تو خود پتے کے اندر ہوتی ہیں یا ان نالیوں میں ہوتی ہیں جو پتے اور جگر کو چھوٹی آنتوں سے ملاتی ہیں۔مردوں کے مقابلے میں 20 سے 60 برس کی درمیانی عمر والی خواتین میں پتھریاں عام طور پر تین گنا زیادہ پیدا ہوتی ہیں لیکن 60 برس کے بعد پتے کی پتھریوں والی خواتین اور پتے کی پتھریوں والے مردوں کی تعداد برابر ہو جاتی ہے۔


خواتین میں پتھریوں کی عمومی وجہ
سائنسدانوں کے خیال میں مردوں کے مقابلے میں نوجوان خواتین میں پتھریاں اس لئے زیادہ ہوتی ہیں کہ زنانہ ہارمون ایسٹروجن کی وجہ سے ان کے صفرے میں زیادہ کولیسٹرول جمع ہوتا ہے دوسرے عوامل میں خاندانی منصوبہ بندی،ایسٹروجن تھراپی،وزن کی زیادتی،زائد چکنائی اور کم فائبر والی غذائیں کھانا شامل ہے۔


غذائی تدابیر
جو لوگ چکنائی زیادہ اور فائبر کم مقدار میں کھاتے ہیں ان میں پتھری کے امکان بڑھ سکتے ہیں۔ایشیائی افراد میں یہ مرض نسبتاً کم ہے۔ چکنائی کم کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم گوشت کم مقدار میں کھائیں اور فائبر بڑھانے کا آسان گر یہ ہے کہ ہم سالم اناج،سبزیاں اور پھل زیادہ کھائیں۔
وزن گھٹانا بہت اہمیت رکھتا ہے
بڑھا ہوا وزن پتے کی پتھری کی اہم وجہ ہے۔

بغیر سوچے سمجھے،بے تحاشہ اور بے وقت کھانے اور خاص کر متوازن غذا لینے سے وزن اعتدال میں رہتا ہے۔پھلوں میں چکوترا،اسٹرابیری اور سبزیوں میں پالک،چنے،پاپ کارن،ٹماٹر اور جئی کا استعمال کرنا بہتر ہے۔کولیسٹرول پر قابو پایا جانا چاہئے۔خراب کولیسٹرول کی زیادتی کی وجہ سے ہائی بلڈ پریشر اور دل کی بیماریاں ہونے کا امکان غالب رہتا ہے۔کھانوں کے درمیان وقفے کو بہت طول دینا بھی مناسب نہیں۔

دن کے آخری کھانے یعنی رات کے کھانے کے بعد صبح ناشتہ کرنا ضروری ہے۔طویل وقفہ نقصان دہ ہوتا ہے۔زیادہ وقفہ دینے سے صفرے میں کولیسٹرول کی مقدار 12 گنا بڑھ جاتی ہے۔زیادہ فائبر والی غذا وقفے سے کھاتے رہنا درست ہے۔پھل دو کھانوں کے درمیان کھانا زیادہ مفید ہے۔وٹامن C کولیسٹرول کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔بعض مچھلیوں میں اومیگا 3 روغنی تیزاب پائے جاتے ہیں جو چکنائی کو کم کم درجے پر بھی پگھلا ہوا رکھتے ہیں۔پتھری نکالنے کا روایتی آپریشن کبھی تکلیف دہ ضرور تھا مگر اب جدید و آسان طریقے استعمال کرکے پتھریوں یا پتے کو نکال دیا جاتا ہے۔تاہم اگر ہم اپنی غذائی عادات کو متوازن رکھیں تو مرض کو پیچیدہ ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-03-11

Your Thoughts and Comments