Pneumonia - Bachoon Ka Qatil

نمونیا۔بچوں کا قاتل

پیر نومبر

Pneumonia - Bachoon Ka Qatil
شیخ عبدالحمید عابد
ہم ایک ایسے دور میں رہ رہے ہیں،جہاں انسان دوسرے سیاروں پر رہنے کی کوشش کررہا ہے۔دوسری طرف یہ حقیقت انتہائی دل خراش اور تکلیف دہ ہے کہ آج بھی ہمارے بچے نمونیا جیسی بیماری سے زندگی کی بازی ہاررہے ہیں۔جن دس بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جاتے ہیں،ان ٹیکوں میں نمونیا سے بچاؤ کا ٹیکا بھی شامل ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان یہ ویکسین لوگوں کو مفت فراہم کررہی ہے،لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ اس کے باوجود اپنے بچوں کو یہ ٹیکا نہیں لگواتے۔آگہی اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے یہ نہیں جان پاتے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے ہی ہاتھوں مہلک بیماریوں کے خطرات کی طرف دھکیل رہے ہیں۔نمونیا کا خطرہ سردیوں کے موسم میں زیادہ ہوتاہے۔

(جاری ہے)

اس بیماری کی شدت سے پسلیوں میں درد ہونے لگتاہے اور سانس لینے میں دقت ہوتی ہے۔

بچہ کچھ کھاپی نہیں سکتا، کیونکہ اس کی ساری توانائی سانس لینے میں صرف ہورہی ہوتی ہے۔بخار بھی ہوتاہے۔اوکسیجن کی کمی سے پھیپڑے بھی متاثر ہوتے ہیں۔
دماغ کو اوکسیجن نہیں پہنچتی تو وہ بھی متاثر ہوتاہے۔نمونیے میں بچہ کچھ کھاپی نہیں سکتا۔اس بیماری سے ٹھیک ہونے کے باوجود بچے کی بھوک کھلتے کھلتے ایک ہفتہ لگتاہے۔ اس دوران بچہ بہت کمزور ہوجاتا ہے۔

نمونیے کے علاج کے بعد بچے کو پہلے کی نسبت زیادہ بہتر غذائیں کھلانی چاہییں۔زرد اور سبز رنگ والی سبزیاں،مثلاً ساگ ،گاجر وغیرہ کھلانا چاہیے۔ایسی غذائیں،جن میں حیاتین الف(اے)ہو، زیادہ کھلانی چاہییں۔حیاتین الف تعدیے کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔یہ سوچ غلط ہے کہ بچوں کو بیماری میں کھانا نہیں دینا چاہیے،بچے کو کچھ نہ کچھ کھلاتے رہیں، کھانا نہ بند کیا جائے۔

پاکستان میں بیماریوں کے خلاف حفاظتی ٹیکے لگانے کی شرح انتہائی کم ہے۔ کراچی جیسے شہری علاقوں میں اوسطاً شرح صرف29فیصد ہے،حالانکہ کراچی ایک بڑا شہر ہے،یہاں چھوٹے بڑے سینکڑوں ہسپتال اور ای پی آئی سینٹرز ہیں۔طبّی معلومات کی کمی صورت حال کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ای پی آئی سینٹرز کی بھی ذمے داری ہے کہ اگر بچے نہیں آرہے تو بچوں تک پہنچنے کی کوشش کریں۔


دیہی علاقوں میں تو یہ شرح انتہائی کم ہے۔سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں حفاظتی ٹیکا لگانے کی یہ شرح صرف16فیصد رہ جاتی ہے،حالانکہ دیہی علاقوں میں بھی بیسک ہیلتھ یونٹ(بی ایچ یو)، یعنی بنیادی صحت کا مرکز اور متعلقہ ہسپتال ہوتے ہیں،جہاں یہ ٹیکے بچوں کو مفت لگائے جاسکتے ہیں، لیکن ناخواندگی کا بھی اس میں دخل ہے۔ماں باپ کو بنیادی معلومات نہیں ہوتیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ بچہ جب بیمارہی نہیں تو پھر ٹیکے کیوں لگوائیں۔

بہت سے غلط نظر یات بھی رائج ہیں،مثلاً بچے کو نزلے زکام اور کھانسی میں ٹیکا نہیں لگتا یا یہ کہ ٹیکا لگنے سے بچہ بیمار ہو جاتاہے۔نمونیے کی ویکسین 73ممالک کو فراہم کی جاتی ہے۔ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔پاکستان میں یہ ویکسین60 لاکھ بچوں کے لیے فراہم کی جاتی ہے،جس کی مالیت 84ملین ڈالرز ہے۔اب تک9مہلک بیماریوں کے ٹیکے لگائے جاتے ہیں ۔

صوبہ سندھ میں حفاظتی ٹیکے لگانے کی شرح انتہائی کم ہے۔
خطر ناک بیماریوں ،مثلاً خسرہ،اسہال اور تشنج پر ہم نے کافی حد تک قابو پالیا تھا،لیکن ان بیماریوں نے دوبارہ سر اٹھا لیا ہے۔یہ تمام بیماریاں جان لیوا ہیں۔اگر اس ویکسین کو خرید کر لگایا جائے تو اس کا پورا کورس24000روپے کا پڑتاہے۔پاکستان کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتاہے،جہاں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا رجحان کم ہے۔


ماہرین صحت کے مطابق بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا رجحان اگر100فیصد ہو جائے تو جان لیوا بیماریوں کی روک تھام کی جا سکتی ہے۔یونیسف کی رپورٹ کے مطابق2000ء سے2018ء کے دوران بچوں کی اموات کی شرح میں 17لاکھ کمی دیکھی گئی۔پاکستان کے کئی علاقوں میں لوگ ایک کمرے کے مکان میں رہتے ہیں۔وہ سوتے بھی اسی کمرے میں ہیں اور کھانا بھی وہیں پکاتے،کھاتے ہیں۔

بعض اوقات جانور بھی اُسی کمرے میں رکھتے ہیں۔گھر کے مرد اُسی کمرے میں سگریٹ نوشی بھی کرتے ہیں۔ ایسا ماحول نمونیا پھیلانے کا باعث بنتاہے۔نمونیا دراصل تعدیے ہی کی ایک شکل ہے۔
یہ بیمارئی صرف بچوں ہی میں نہیں پائی جاتی،بلکہ بزرگ اور ایسے تمام افراد جن کی قوت مدافعت کمزور ہو،وہ اس میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔غریب اور دیہی علاقوں میں اس بیماری کا پھیلاؤ زیادہ ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق2015ء میں9لاکھ22ہزار بچے نمونیے کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے گئے،جن میں سے زیادہ بچے5برس کی عمر سے کم تھے۔اس بیماری کا زیادہ شکار جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بچے ہوتے ہیں۔پاکستان میں ہر برس80ہزار سے زائد بچے نمونیے میں مبتلا ہو کر انتقال کر جاتے ہیں ۔نمونیے کا علاج موجود ہے۔ضد حیوی ادویہ(اینٹی بائیوٹکس)کے ذریعے اسے قابو میں کیا جاتاہے، لیکن اگر بچے کی صحت زیادہ خراب ہوتو اس کو ہسپتال میں داخل کر لیا جاتاہے۔

ضد حیوی ادویہ کے ساتھ کھانسی اور بخار کم کرنے کی دوائیں بھی کھلائی جاتی ہیں۔
ادویہ کے ساتھ اس کی غذا بند نہیں کی جاتی ہے۔اگر بچہ شیر خوار ہے تو ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتاہے۔بچہ اگر چھے ماہ سے اوپر ہوتو اس کو سوپ ،یخنی ،شہد یا کم پتی والی چائے پلائی جائے۔یہ بھی بچے کے گلے کو سکون پہنچاتی ہیں۔بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اگر اس کو حفاظتی ٹیکوں کا کورس شروع کروادیا جائے تو بچے کو نمونیے اور اس طرح کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکتاہے۔

اس کے ساتھ ماں بچے کے کام کرتے ہوئے ہاتھ ضرور دھوئے ،اس سے بھی نمونیے کے امکان کو بہت حد تک کم کیا جا سکتاہے۔ماں کو چاہیے کہ بچے کوکم از کم چھے ماہ تک اپنا دودھ ضرور پلائے،اس لیے کہ ماں کا دودھ نمونیے جیسی بیماری کے امکان کو کم کرتاہے۔اس کے ساتھ بچے کے اردگرد کا ماحول بہت صاف ستھرارکھنا چاہیے۔
بچے کے قریب تمباکونوشی سے پر ہیز کریں۔

بچے کے قریب جانور نہیں ہونے چاہییں۔ماں بچے کی چھاتی کا خود بھی معائنہ کر سکتی ہے،جس وقت وہ سورہا ہو۔اگر بچے کی سانسیں تیز ہوں تواس کو فوری طورپر ڈاکٹر کو دکھایا جائے۔نمونیے کی بیماری میں65برس سے زیادہ عمر کے لوگ بھی مبتلا ہو سکتے ہیں،لیکن یہ فالج ،سرطان،ذیابیطس اور ایڈز کے مریض ہوتے ہیں۔اس کے ساتھ تمباکونوشی وشراب نوشی اور منشیات کے عادی افراد بھی بڑھاپے میں اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر برس5 لاکھ عمر رسیدہ افراد اس مرض کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے۔اگر ضعیف افراد میں یہ علامات دیکھیں کہ وہ پریشانی وگھبراہٹ کا شکار ہیں،ان کا بلڈ پریشر گررہا ہے،سانسیں بے ترتیب ہیں ،بخار اور کھانسی ہے تو انھیں فوراً ہسپتال میں داخل کرائیں۔اگر نمونیے کے علاج پر فوری توجہ نہ دی جائے تو جراثیم خون میں پھیل سکتے ہیں،جس کی وجہ سے دوسرے اعضا بھی متاثر ہو جاتے ہیں،اس لیے بر وقت علاج سے قیمتی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ مریض کو مکمل علاج اور آرام کروایا جائے۔سادہ پانی،سوپ اور یخنی دی جائے۔ادویات کو وقت پر دیا جائے اورمریض کو کورس مکمل کروایا جائے۔ہر عام انسان کو اس بیماری سے بچنے کے لیے ویکسین لگوانی چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-11

Your Thoughts and Comments