Polio Ka Khatma Qareeb - Article No. 2334

پولیو کا خاتمہ قریب - تحریر نمبر 2334

پیر 27 دسمبر 2021

Polio Ka Khatma Qareeb - Article No. 2334
رؤف ظفر
پولیو کا مرض پولیو وائرس کی وجہ سے لاحق ہوتا ہے۔یہ وائرس ریڑھ کی ہڈی پر حملہ کرتا ہے،جس کے باعث انسان زندگی بھر کے لئے معذور ہو جاتا ہے۔پاکستان میں گزشتہ 14 برسوں کے دوران تقریباً 1400 بچے پولیو وائرس سے معذور ہو چکے ہیں۔شعبہ طب کی تاریخ بتاتی ہے کہ پولیو کئی ہزار برس پُرانا مرض ہے،جو قدیم مصریوں میں پایا جاتا تھا۔

مصر میں کھدائی کے دوران دیواروں پر ایسے نقش و نگار سامنے آئے ہیں،جن میں صحت مند افراد کے ساتھ ٹانگوں،ہاتھوں سے معذور اور بیساکھیوں کے سہارے کھڑے بچے بھی موجود ہیں۔پھر اہرامِ مصر سے ملنے والی بعض ممیوں (Mummies) میں بھی ایسی علامات پائی گئیں،جو پولیو سے ملتی جُلتی ہیں۔1789ء میں پہلی بار ایک برطانوی ڈاکٹر مائیکل انڈرووڈ (Michael Underwood) کے مطابق پولیو کا مخصوص وائرس منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر اعصابی نظام کو کمزور کر دیتا ہے،جس کے نتیجے میں یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)


1900ء میں یورپ اور امریکہ پولیو کی زد میں آگئے تھے۔1907ء میں نیویارک میں پولیو سے 2500 افراد ہلاک ہوئے،جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوا۔1908ء میں دو فاضل ڈاکٹروں کارل لینڈ اسٹینر (Karl Landsteiner) اور ارون پوپر (Erwin Popper) نے اس مرض کا باعث بننے والے وائرس کی دریافت کا اعلان کیا،مگر 1916ء میں نیویارک ہی میں پولیو اس قدر تیزی سے پھیلا تھا کہ لوگوں نے خوف کے مارے گھر بار چھوڑ کر نزدیکی پہاڑوں میں رہائش اختیار کرنی شروع کر دی تھی۔

تیز بخار کے ساتھ لوگوں کے جسمانی اعضاء مفلوج ہو رہے تھے،جب کہ کئی افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔1917ء سے لے کر 1950ء تک پولیو کے علاج کے ضمن میں کئی طریقے آزمائے گئے،جن میں ہائیڈرو الیکٹرک (Hydroelectric) اور کیج (Cage) کے علاوہ ناکارہ ہو جانے والے اعضاء،خصوصاً ٹانگوں میں حرکت پیدا کرنے والی ورزشیں اور مساج وغیرہ شامل تھے،تاہم پولیو کے علاج میں انقلاب اس وقت آیا،جب 1950ء میں ایک امریکی فزیشن اور تحقیق کار ولیم مک ڈووال ہیمن (William Mcdowell Hammon) نے پولیو کے مریضوں کے خون سے حاصل کی گئیں ضدِ اجسام (Antibodies) سے ایک سیرم (Serum) تیار کیا،جو پولیو کا پھیلاؤ روکنے میں 80 فیصد موٴثر ثابت ہوا،مگر یہ طریقِ علاج مہنگا تھا۔

بالآخر 1952ء میں پولیو کے خلاف تیار کردہ ویکسین پہلی بار آزمائی گئی اور 12 اپریل 1955ء کو اس ویکسین کی کامیابی کا اعلان باقاعدہ طور پر ریڈیو کے ذریعے کیا گیا۔1955ء میں امریکہ نے بھی پولیو ویکسین کی منظوری دے دی،جس کے بعد مختصر عرصے میں امریکہ میں پولیو کے کیسز 58000 ہزار سے کم ہو کر صرف 5600 رہ گئے۔یہ ویکسین ٹیکے (انجکشن) کے ذریعے پٹھوں (مسلز) میں لگائی گئی تھی،جسے طبی اصطلاح میں آئی پی وی (Inactivated Polio Vaccine) کہتے ہیں۔

1961ء میں ڈاکٹر البرٹ سابن (Albert Sabin) نے اورل ویکسین او پی وی (Oral Polio Vaccine) متعارف کروائی،جو قطروں کی صورت پلائی جاتی ہے۔مذکورہ دونوں اقسام کی ویکسینز کی بدولت 1961ء میں امریکہ میں پولیو کے صرف 161 کیسز رپورٹ ہوئے،جب کہ دیگر ممالک بھی بتدریج پولیو ویکسین کے ذریعے ایک موذی مرض کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔1979ء میں امریکہ میں پولیو کا آخری کیس رپورٹ ہوا۔

پولیو کے خلاف موٴثر ویکسین میسر آنے کے بعد دنیا بھر میں انسدادِ پولیو مہم زور پکڑتی چلی گئی۔اس وقت پاکستان،افغانستان اور ایک آدھ افریقی ملک کے علاوہ پوری دنیا سے پولیو کا خاتمہ ہو چکا ہے۔
پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکوں کی ابتداء 1974ء میں ہوئی،تاہم سرکاری طور پر اس مرض کے خلاف اعلانِ جنگ 1994ء میں کیا گیا۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران یہ جنگ عروج پر رہی اور پولیو ویکسی نیشن کی 100 سے زیادہ ملک گیر مہمات عمل میں آئیں،لیکن نتیجہ حوصلہ افزا نہ تھا۔

مارچ 2001ء میں دو کروڑ 70 لاکھ بچوں کی ویکسی نیشن کی گئی اور قطرے بھی پلائے گئے۔2004ء میں 3 کروڑ بچوں کی ویکسی نیشن کے لئے آٹھ بار پولیو مہم شروع کی گئی۔2015ء میں ملک میں 40 لاکھ بچوں کو ویکسین کی ایک ہی حتمی ڈوز دی گئی۔ان مہموں کے نتیجے میں 2014ء کے مقابلے میں 2015ء میں پولیو کیسز میں 70 فیصد کمی واقع ہوئی اور خیال تھا کہ 2016ء میں پاکستان ”پولیو فری ملک“ کہلائے گا،لیکن جب گڈاپ،کوئٹہ،پشین،قلعہ عبداللہ،پشاور کے نواحی علاقوں،مثلاً مردان، چارسدہ،نوشہرہ اور لکی مروت سے حاصل کردہ پانی کے نمونوں میں پولیو وائرس پایا گیا تو ہدف حاصل ہوتا نظر نہیں آیا۔

افسوس کہ مزید 5 برس کا عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی ان علاقوں میں نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے اور نہ صفائی ستھرائی کی صورت حال میں کوئی بہتری آئی ہے،جب کہ مقامی لوگوں کے ذہنوں میں ویکسین سے متعلق شکوک و شبہات بھی برقرار ہیں۔رواں برس پولیو کے 8 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں،جو گزشتہ دو برسوں کی نسبت اگرچہ کم ہیں،لیکن یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ ایک ایٹمی قوت ہونے کے باوجود پاکستان ایتھوپیا،سرالیون اور افغانستان جیسے ممالک کی صف میں کیوں کھڑا ہے۔


پاکستان گزشتہ دو عشروں سے پولیو کے خاتمے کی جدوجہد کر رہا ہے،اس کے باوجود ”پولیو فری زون“ میں داخل نہیں ہو سکا،جس کے پس پردہ کئی عوامل کار فرما ہیں،مثلاً حکومتی غفلت،غلط ترجیحات،غیر ملکی فنڈز اور عطیات کا لالچ،ہمارا فرسودہ سماجی ڈھانچا اور صحت کا غیر مربوط نظام وغیرہ۔ایک سابق منتظم کے مطابق پاکستان میں شروع ہی سے پولیو کے خاتمے کی مہم کا کام غیر حقیقی اور ناقص بنیادوں پر ہوا،کیونکہ صرف پولیو کے قطرے پلانے اور ٹیکے لگوانے پر زور دیا گیا،جب کہ پولیو کا باعث بننے والے دیگر عوامل پر بالکل توجہ نہیں دی گئی۔

پولیو کا وائرس انسانی فضلے اور آلودہ پانی کے ذریعے پھیلتا ہے۔افسوس ناک امر ہے کہ زیادہ تر دیہات میں کھلے مقامات،خاص طور پر کھیتوں، دریاؤں اور نہروں کے کنارے بہ طور بیت الخلا استعمال کیے جاتے ہیں۔انھی جگہوں پر بچے کھیلتے کودتے بھی ہیں۔یوں آلودہ مٹی یا پانی کے ذریعے وائرس جسم تک رسائی حاصل کر لیتا ہے۔(2015ء کی یونی سیف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 4 کروڑ افراد بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہیں)،اسے طبی اصطلاح میں ”فیکو اورل ٹرانس میشن“ (Feco Oral Transmission) کہا جاتا ہے، جو پولیو کے مرض کا ایک بنیادی سبب ہے۔

پولیو سے بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں 5 برس سے کم عمر 40 فیصد بچے غذائیت کی کمی اور مناسب نشوونما نہ ہونے کے باعث قوتِ مدافعت سے محروم ہیں۔پھر بعض شہروں میں صاف پانی کی عدم فراہمی بھی مختلف امراض بشمول پولیو کا سبب ہے۔دیہات میں ایک ہی جوہڑ سے انسان اور جانور پانی پیتے اور اُسی میں نہاتے بھی ہیں۔تب ہی پولیو سروے کرنے والی ٹیمیں اکثر انھی علاقوں کو پولیو سے متاثرہ علاقے شمار کرکے پاکستان کو پولیو زدہ قرار دیتی ہیں۔


جناح ہسپتال،لاہور میں معدے اور جگر کے امراض کے ماہر ڈاکٹر مزمل کے مطابق پولیو یونانی لفظ ”پولیو مائی لِٹس“ (Poliomyelitis) سے نکلا ہے،جس کا مطلب ریڑھ کی ہڈی کی سوزش ہے۔بعد ازاں صرف پولیو لفظ رہ گیا۔ترقی یافتہ ممالک نے پولیو ویکسین اور صفائی ستھرائی کے ذریعے اس مرض کو شکست دی ہے۔پاکستان میں بھی پولیو ویکسین کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں،لیکن نکاسی آب کی بوسیدہ پائپ لائنیں،آلودہ پانی،گندگی و کوڑے کے ڈھیر اور کھلے مقامات پر رفعِ حاجت جیسے دیگر عوامل پولیو کے خاتمے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

ہمارے ہاں نومولودوں کو حفاظتی ٹیکوں کے ساتھ پولیو سے بچاؤ کا صرف ایک ٹیکا لگاتے ہیں،جس پر قطروں کی نسبت زیادہ لاگت آتی ہے،مگر یہ زیادہ موٴثر رہتا ہے۔ہمارے ہاں زیادہ تر والدین حفاظتی ٹیکوں کی ساری ذمے داری حکومت پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔میری والدین سے درخواست ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے میں خود بھی دلچسپی لیں۔

ہمارے ہاں 60۔70 فیصد بچوں کو بھرپور غذا نہیں ملتی،لہٰذا وہ مختلف امراض کا آسانی سے شکار ہو جاتے ہیں۔یہ بھی ایک سنگین طبی مسئلہ ہے ،جس پر فوری توجہ دے کر حل کیا جائے۔
دنیا میں پاکستان اور افغانستان پولیو وائرس سے متاثر آخری دو ممالک رہ گئے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق ویکسین سے ختم ہونے والے مرض سے دونوں ملکوں میں رواں برس صرف دو بچے معذور ہوئے ہیں،جب کہ 30 برس قبل ہر سال ساڑھے تین لاکھ کے لگ بھگ کیسز رپورٹ ہوتے تھے۔

رواں برس تاریخ کے سب سے کم کیسز رپورٹ ہوئے۔ہمارے پاس پولیو جیسے موذی وائرس کے مکمل خاتمے کا سنہری موقع موجود ہے،لیکن اس کے لئے مزید محنت کرنی پڑے گی۔اس ضمن میں ویکسین کی مخالفت کرنے والے خاندانوں کو ویکسین کے لئے رضا مند کرنے کے لئے سب کو مل کر کوشش کرنی چاہیے۔افغانستان میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کا گھر گھر جانے کا اعلان بہت خوش آئند ہے،جس سے پاکستان اور افغانستان دونوں ملکوں کو فائدہ ہو گا۔ہر بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔ہمیں اپنی نئی نسل کی صحت کے لئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔کیونکہ مستقبل میں ملک کی باگ ڈور اس نے ہی سنبھالنی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-12-27

Your Thoughts and Comments