Qalb K Marezoon K Liye 6 Sunehri Usool

قلب کے مریضوں کے لیے چھے سنہری اصول

بدھ نومبر

Qalb K Marezoon K Liye 6 Sunehri Usool

شہید حکیم محمد سعید
دل کے صحیح فعل کی علامت یہ ہے کہ آپ کو اس کی آہٹ قطعی محسوس نہ ہو۔اگر قلب کی حرکت میں کسی قسم کی بے ترتیبی ہوتی ہے،جسے آپ معاً محسوس کر لیتے ہیں تو سمجھ لیجیے کہ اس کے عمل میں کوئی خرابی پیدا ہورہی ہے۔جن لوگوں کو بد قسمتی سے دل کا کوئی دورہ پڑ چکا ہے،وہ اس صعوبت کو اچھی طرح جانتے ہیں اور نصف معالج کا درجہ رکھتے ہیں۔

وہ جانتے ہیں کہ قلب کو صحیح حالت میں رکھنے کے لیے کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہییں۔قلب کے بعض مریضوں کو دل میں سخت درد سا محسوس ہوتاہے۔اگرچہ ایسے امراض کی بہت سی دوائیں نکل آئی ہیں اور قلب کے بڑے اچھے ماہر بھی پیدا ہو گئے ہیں،تاہم معالج آپ کی اتنی مدد نہیں کر سکتا،جتنی آپ خود کر سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

بعض مریض احتیاطی تدابیر کی مدد سے عمر طبعی کو پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

قلب کے مریضوں کے لیے چھے سنہری اصول ذیل میں درج کیے جارہے ہیں۔اگر وہ ان پر عمل کریں گے تو انھیں دوا کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی:
1۔اپنے وزن پر نظر رکھیے۔فربہی اچھی چیز نہیں ہے۔سیدھی بات یہ ہے کہ آپ کا جسم جتنا زیادہ لحیم ہو گا،آپ کے قلب پر اتنا ہی زیادہ بار پڑے گا۔اگر قلب کے کسی مریض کا وزن برابر بڑھتا جارہا ہے تو اسے غیر معمولی احتیاط کی ضرورت ہے۔

قلب کے علاوہ دوسرے اعضا بھی فربہی سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔اضافی چربی پھیپڑوں کی جھلی کے چاروں طرف جمع ہو جاتی ہے اور سانس لینے میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔جب سانس اچھی طرح نہیں آتا تو خون کو ضرورت بھراوکسیجن میسر نہیں آتی اور وہ گندگی سے پاک نہیں ہوتا۔
2۔خالص شہد کا کھانا امراض قلب میں مفید رہتا ہے۔اگر آپ کو مستقل طور پر قبض رہتا ہے تو کبھی کبھار ہلکا جلاب لینے میں کوئی حرج نہیں۔

اس مقصد کے لیے بعض دیسی جڑی بوٹیوں کو تیز اور خراش پیدا کرنے والی دواؤں پر ترجیح دیجیے۔اپنی غذا میں سلاد اور دوسری کچی ترکاریاں افراط سے شامل کیجیے،تاکہ آپ کو قبض نہ ہونے پائے۔مستقل قبض امراض قلب کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوتاہے۔
3۔اگر آپ سگرٹ پیتے ہیں تو اسے قطعی ترک کر دیجیے۔تمباکو کا استعمال امراض قلب میں قطعی طور پر مضر ثابت ہوتاہے۔

یہ نکتہ آپ کو خوب سمجھ لینا چاہیے۔
4۔اپنے جثے اور طاقت کے مطابق ہر روز تھوڑی بہت ورزش ضرور کیجیے،ساتھ ساتھ جسم کو آرام بھی خوب دیجیے۔اپنی نیند میں ہر گز ہر گز کمی نہ آنے دیجیے۔
5۔امراض قلب میں شراب نوشی اور نشہ آور اشیاء کا استعمال نہایت مضر ہوتاہے۔ان سب سے اجتناب نہایت ضروری ہے۔
6۔شکر اور نمک کھانا کم کر دیجیے۔
سادگی
علاج میں سادگی ملحوظ رکھیے۔

ہم لوگ نفسیاتی طور پر سادہ اور سستے علاج کی تاثیر کے قائل نہیں ہوتے،لیکن یہی علاج اکثر اوقات مفید ثابت ہوتاہے،مثلاً پانی پینا اور شہد کا کھانا بظاہر معمولی بات ہے،مگر پابندی سے اسے کھاتے رہنے سے مریض کو خاصا افاقہ محسوس ہوتاہے۔
سادے پانی کے بھی اپنے بہت سے فائدے ہیں۔مصفا ہونے کے علاوہ وہ درد سینہ(ANGINA) کے مریضوں کے لیے خاص طور پر مفید ہوتاہے۔

گرم پانی سے خون کی شریانیں کھل جاتی ہیں اور مریض کو درد میں افاقہ محسوس ہوتاہے ۔اس کامطلب یہ نہیں کہ مریض کو گرم پانی کے ٹب میں بٹھا دیا جائے۔اس طرح بلڈ پریشر بڑھ جائے گا ،البتہ مریض کی کلائیوں تک اس کے ہاتھ گرم پانی میں ڈبوئے جاسکتے ہیں۔اس طرح خون کی شریانیں کھل جاتی ہیں اور درد سینہ میں معتدبہ کمی پیدا ہو جاتی ہے۔
امراض قلب کے مریضوں کے لیے آرام نہایت ضروری ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کے مریض تجربہ کریں گے کہ لیٹنے سے خون کا دباؤ کم ہو جاتاہے۔اگر مریض کا دل ہر منٹ پر 100سے 130بار تک حرکت کر رہا ہے تو بستر پر دراز ہو جانے سے اس کی دھڑکن80،90فی منٹ ہو سکتی ہے،یعنی ہر منٹ آپ کا قلب 40مرتبہ کم دھڑکے گا،گویا اسے ایک گھنٹے میں 2400دھڑکنوں کی کفایت ہو جائے گی۔اس طرح بہت سی توانائی بچ جائے گی۔
اگر مریض کو یکا یک دل میں درد محسوس ہوتو پہلا علاج یہ ہے کہ وہ فوراً بستر پر دراز ہو جائے۔

اگر سر چکرانا شروع ہو،تب بھی یہی ترکیب کرنی چاہیے۔اس طرح قلب بے جابار سے بچ جاتاہے اور اسے ضروری آرام مل جاتاہے۔
مختصر فاقے
دل کے کسی دورے یا درد سینہ کے بعد شفایاب ہونے کے دوران مختصر فاقہ نہایت مفید رہتاہے۔اس قسم کی کسی بھی تکلیف کے بعد آپ کو محسوس ہو گا کہ آپ کی بھوک کم ہو گئی ہے۔یہ فطری تقاضوں کے عین مطابق ہے کہ کمزوری کے عالم میں آپ کے معدے پر زیادہ بارنہ پڑے۔

فاقے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ گوشت کے بجائے مچھلی کھالی جائے۔فاقے کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کی ٹھوس غذا سے مکمل اجتناب کیا جائے۔فاقے کے دوران صرف سادہ پانی یا پھلوں کے پتلے رس کی اجازت دی جاسکتی ہے۔کمزور مریض کو شروع میں ایک دن کا فاقہ بھی نہایت تکلیف دہ اور ناگوار محسوس ہو گا۔اگر ایسا محسوس ہوتو اسے ناشتے پر تھوڑی سی کشمش دیجیے۔اس طرح دوپہر اور شام کے وقت کچھ کشمش کھلائی جاسکتی ہے۔

اس کے ساتھ بعض پھلوں کا رس بھی دیا جا سکتاہے،لیکن اس میں پانی کی مقدار وافر ہونی چاہیے۔شیرینی کے لیے اس میں تھوڑا سا شہد شامل کیا جا سکتاہے۔
شہد
کم لوگوں کو شہد کی افادیت واہمیت کا صحیح اندازہ ہو گا۔یہ بلاشبہ ایک حیرت انگیز غذاہے،جسم کے لیے بالعموم اور قلب کے لیے بالخصوص ۔اس کا کھانا بے بدل ہے،کیونکہ یہ آسانی سے جزوبدن ہو جاتاہے۔

اس سے ہماری آنتوں میں کسی قسم کی خراش پیدا نہیں ہوتی اور اس کے اجزاء فوری طور پر ہمارے نظام جسم میں شامل ہو جاتے ہیں۔شہد سے ہمارے گردوں پر کسی قسم کا بار نہیں پڑتا۔یہ ہلکا اور قدرتی قبض کشا بھی ہے۔اگر اسے سوتے وقت کھایا جائے تو اس سے نیند بھی اچھی آتی ہے۔اگر مریض قلب ذیابیطس میں مبتلا ہوتو شہد کھانے میں اعتدال اور احتیاط ضروری ہے۔


ہمارے ملک میں بعض بز عم خود ماہرین قلب ایسے بھی ہیں،جو شہد اور عام شکر میں کوئی فرق محسوس نہیں کرتے۔یہ وہ لوگ ہیں،جو قدرت کو بھول رہے ہیں اورمصنوعی غذاؤں اور دواؤں پر واہ واکرتے ہیں۔حالانکہ ایک معمولی عقل کا انسان بھی قدرتی اور مصنوعی فرق کو جانتا ہے۔ان ماہرین کو بر خود غلط سمجھنا چاہیے اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ کر ہمیں قدرت اور قرآن پر کامل بھروسا کرنا چاہیے،جس نے شہد کی تعریف کی ہے۔

ہمارا ایمان کسی ماہر قلب کی سائنس پرستی اور کوتاہ عقل سے متزلز ل نہیں ہونا چاہیے۔اب دنیا بھر کے تحقیق کار اور معالج اس امر پر متفق ہیں کہ سگرٹ اور تمباکو کا استعمال انسان کے لیے مضر ہے۔سدئہ قلبی(THROMBOSIS)اور درد سینہ کے مریضوں کو اس سلسلے میں احتیاط برتنی چاہیے۔اگر سگرٹ نوشی ترک کر دینا ممکن نہ ہو،تب بھی اعتدال بہر حال نہایت ضروری ہے۔


شراب کا پینا اس لحاظ سے مضر رہتا ہے کہ اس سے شریانوں میں سختی پیدا ہوتی ہے۔ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کو شراب سے اجتناب کرنا چاہیے۔آخر میں یہ بتانا ضروری ہے کہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی بیماری پر گفتگو نہ کیجیے،خواہ آپ ہائی بلڈ پریشر میں مبتلا ہوں،درد سینہ میں، شریانوں کی سخت میں یا سدئہ قلبی میں۔اس قسم کی گفتگو سے فائدہ تو کچھ نہیں ہوتا،البتہ سب کی ہمدردیاں اور اظہار حیرت آپ کو مایوسی میں ضرور مبتلا کر سکتاہے۔اپنے دل سے یہ خیال نکال دیجیے کہ چونکہ آپ امراض قلب میں مبتلا ہیں،اس لیے آپ کو شفا نہیں ہوسکتی۔شفا قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے اور اس کی رحمت سے مایوس ہونا کفر ہے۔آپ مناسب احتیاط کے ساتھ مریض ہونے کے باوجود عمر طبعی کو پہنچ سکتے ہیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-11-13

Your Thoughts and Comments