بند کریں
صحت مضامینمضامینقربانی کے گوشت کا صحیح استعمال

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
قربانی کے گوشت کا صحیح استعمال
یوں تو ہم سارا سال ہی گوشت کھاتے رہتے ہیں لیکن عید الاضحی پر اس کا استعمال خاصا بڑھ جاتا ہے اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ گوشت کے صحیح استعمال اور اسے محفوظ کرنے کا طریقہ کیا ہے۔

یوں تو ہم سارا سال ہی گوشت کھاتے رہتے ہیں لیکن عید الاضحی پر اس کا استعمال خاصا بڑھ جاتا ہے اس لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ گوشت کے صحیح استعمال اور اسے محفوظ کرنے کا طریقہ کیا ہے۔ ذیل میں گوشت محفوظ کرنے مختلف طریقے،احتیاطیں اور تجاویز دی جا رہی ہیں ۔فریزر میں گوشت زیادہ سے زیادہ تین ماہ تک محفوظ رکھنا چاہیے فریزر سے نکالا جانے والا ایسا گوشت جس پر برف جمی ہوئی ہو اسے فورا پکا لینا چاہیے ۔ جس گوشت کی برف پگھل جائے اور وہ ملائم ہوجائے اسے استعمال نہ کیا جائے ۔گوشت کو فریزر میں محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ گھر میں ایک وقت میں جتنا گوشت پکتا ہے اتنی ہی مقدار کے پیکٹ بنا کر رکھ لئے جائیں اور گوشت کو سیلوفین کی تھیلیوں میں رکھا جائے فریزر جس میں گوشت محفوظ ہو اس کا ڈھکنا بلا ضرورت نہ کھولاجائے جو لوگ گوشت کو نمک لگا کرسُکھا کر محفوظ کرتے ہیںانہیں اس گوشت کے استعمال میں احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ اس گوشت پر مکھیاں وغیرہ بیٹھتی ہیں ۔غذائی ماہرین کے مطابق گوشت خواہ قربانی کا ہو یا روزمرہ کا ،یہ خوراک کا وہ جزو ہے جسے جلد خراب ہونے والا کہا جاتا ہے ۔اس کی وجہ اس میں پانی کی مقدار کا زیادہ ہونا ہے جو تقریبا 75فیصد ہوتی ہے جبکہ عام اناج اور دالوں میں پانی کی مقدار صرف دس سے پندرہ فیصد تک ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کسی چیز کو زیادہ عرصے تک محطوٖ رکھنا ہو تو اس میںپانی کی مقدارختم کر دی جاتی ہے خشک اور تازہ دودھ کی مثال سب کے سامنے ہے تازہ دودھ چند گھنٹے جبکہ خشک دودھ کو سالوں محفوظ رکھا جا سکتا ہے لہذا گوشت کے لئے ضروری ہے کہ اسے قربانی کے فوری بعد تین گھنٹوں کے اندر استعمال کر لیا جائے یا پھر محفوظ کر لیجیے ۔پانی ،جراثیم کی من بھاتی غذا اور پنپنے کیلئے پسندید ہ چیز ہے جبکہ جراثیم تیزابیت سے بھاگتے ہیںلہذا یہ ضروری ہے کہ سب سے پہلے گوشت سے پانی ختم کیا جائے ۔اس کے لئے اسے دھوپ میں سکھا لیں چولہے پر خشک کر لیں یا پھر فریز کر لیں اگر تینوں طریقے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہوں تو گوشت کو خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے ۔اگر گوشت کو دھوپ میں خشک کرنا مقصود ہو تو خیال رکھیں کہ مکھیوں ،کیڑوں اور دھول مٹی سے محفوظ رہے کسی پتلی جالی یا کپڑے سے ڈھانپ دیں تو زیادہ اچھا ہے پھر تیز دھوپ میں دو سے ڈھائی گھنٹے رکھیں اس عمل سے گوشت میں موجود تمام پروٹین پگھل کر ایک تہہ سی بنا دے گی پانی خشک ہوجائے گا اور گوشت بھی محفوظ ہو جائیگا اس کے علاوہ نمک اور تیزابیت کے زریعے بھی جراثیم کا داخلہ روکا جا سکتا ہے مثلا گوشت کو دھوپ میں خشک کرنے سے پہلے اگر اس پر نمک کے ساتھ لیموں کا رس یا سرکہ چھڑک دیا جائے تو گوشت کو مزیدزیادہ عرصے تک محفوظ بنایا جا سکتا ہے کیونکہ نمک میں موجود سٹرک ایسڈ اور سرکے میںپایا جانے والا ایسٹک ایسڈ بھی جراثیم کو ختم کر دیتے ہیں لیکن اگر دھوپ کم ہو یا نہ ہو تو گوشت کے پتلے پتلے قتلوں پر نمک یا دیگر مصالحے لگا کر اوون میں خشک کرکے محفوظ کیا جا سکتا ہے لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ زیادہ دیر تک محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ اسے فریز کر دینا ہے کیونکہ گوشت کو جما دینے کی صورت میں ان میں جراثیم کی نشوونما رک جاتی ہے ۔ غذائی ماہرین کی متفقہ رائے ہے کہ فریز کیا ہوا گوشت عام طور پر تین ماہ تک قابل استعمال رہتا ہے تاہم اگر صورتحال بہت مثالی ہو یعنی فریزر بہت اچھا ہو اور کم کھلے تو گوشت چھ ماہ تک بھی قابل استعمال رہتا ہے ۔ہمارے ہاں چونکہ بجلی کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور بعض اوقات طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ بھی ہوتی ہے جس سے گوشت کی حالت متاثر ہو جاتی ہے یہ بات یاد رکھیے جو فریزر کم کھلے گا اور بند کم ہو گا ایسے گوشت کو تین ماہ تک استعمال کیا جا سکتا اس کے ساتھ ساتھ ایک اور بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ فریزر سے گوشت نکالنے کے بعد وہ صرف اتنی دیر تک محفوظ رہتا ہے جب تک کہ اس میں سے برف پگھل نہیں جاتی برف پگھلنے کی صورت میں فوری طور پر پکا لینا بہتر ہے کیونکہ جیسے ہی برف پگھل جاتی ہے جراثیم گوشت پر تیزی سے حملہ کر دیتے ہیں اور زیادہ دیر ہونے کی صورت میں گوشت قابل استعمال نہیں رہتا اس لئے بہترین طریقہ یہی ہے کہ پلاسٹک کی چھوٹی چھوٹی تھیلیاں استعمال کی جائیں جو روزمرہ کی ضرورت کے مطابق ہوں ۔ہمارے ہاں عام طور خواتین محنت سے بچنے کیلئے گوشت کی بڑی بڑی تھیلیوں میں ڈال کر فریزر میں رکھ دیتی ہیں جس سے اس کے خراب ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں ۔ایک مرتبہ برف پگھلنے کے بعد دوبارہ گوشت کو فریز کرنا حفظان صحت کے اصولوں کے منافی ہے ایک اور بات جو انتہائی اہم ہے وہ یہ ہے کہ گوشت تقسیم کرنے یا وقتی طور پر محفوظ کرنے کے لئے اخبار کا ہر گز استعمال نہیںکرنا چاہیے ۔ماہرین کے مطابق اخباری کاغذکی روشنائی میں ’’لیڈ‘‘ ہوتا ہے جو انتہائی خطرناک ٹاکسن ہے ۔اس کام کے لئے بلاٹنگ پیپر بہترین ہے ۔ماہرین کی رائے میں گوشت پکانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے کم سے کم وقت میں پکایا جائے دھیمی آنچ پر گوشت کو گھنٹوں گلانے کیلئے چھوڑ دینا قطعی صحیح نہیں ہے ۔گوشت کو کم وقت میں بھاپ میں پکانا بے حد مفید ہے اور اس کے لئے بہترین چیز پریشر ککر ہے جس سے گوشت جلدی گلتا ہے اور غذائیت بھی برقرار رہتی ہے اس کے علاوہ مصالحوں کا استعمال کم سے کم رکھنا چاہیے ۔گھی کی بجائے تیل میں کھانا پکانے کو ترجیح دیں کیونکہ گھی میں غیر سیر شدہ چکنائی ہے جو انسانی صحت کے لئے مضر سمجھی جاتی ہے۔قربانی کے بعد گھروں میں عام طور پر کلیجی پکائی جاتی ہے لہذا پکانے سے قبل اس بات کا اطمینان کر لیں کہ کلیجی میں کہیں سوراخ وغیر ہ تو نہیں ہیں اس کی رنگت خراب تو نہیں ہے اگر ایسا ہو تو گوشت پکانے سے گریز کرنا چاہیے ۔

(0) ووٹ وصول ہوئے