Quwat Madafiyat Barhane Wali Qudrati Ashiya - Article No. 1951

قوت مدافعت بڑھانے والی قدرتی اشیاء - تحریر نمبر 1951

جمعرات ستمبر

Quwat Madafiyat Barhane Wali Qudrati Ashiya - Article No. 1951
انسانی جسم کے سب سے اہم اور کار آمد نظام کو عرف عام میں مدافعتی نظام (Immune System) کہا جاتا ہے۔ایک تندرست جسم کے لئے،انفیکشن جیسی دوسری بیماریوں کو مات دینے یا پھر انسانی جسم کو مضبوط اور طاقتور بنانے کے لئے قوت مدافعت (Immunity) بڑھانا ضروری ہے۔انسان کیا کھاتا ہے،کیا پیتا ہے․․․․؟کتنی ورزش کرتا ہے۔یہ سب چیزیں قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

طبی ماہرین قوت مدافعت کی مضبوطی کے لئے صحت بخش غذا کا استعمال لازم و ملزوم قرار دیتے ہیں۔مختلف نوعیت کے وٹامن، مناسب مقدار میں پروٹین اور لحمیات کے علاوہ کیلشیم سے بھرپور غذا کا استعمال مدافعت کے نظام کو رواں رکھنے کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔لیکن قوت مدافعت کو بہتر بنانے کے لئے کن غذاؤں کا استعمال ضروری ہے یہ بات توجہ طلب ہے۔

(جاری ہے)

آئیے آج بات کرتے ہیں ان غذاؤں کی جن کے ذریعے مدافعتی نظام یعنی امیون سسٹم کا کردار فعال بنایا جا سکتا ہے۔
کھٹے پھل
امیون سسٹم کی بہتری کے لئے وٹامن سی کا استعمال بہت مفید ہے۔وٹامن سی ایک اہم فزیالوجیکل اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو کولیجن فائبر اور نیورو ٹرانسمیٹر کے بننے اور پروٹین میٹا بولزم میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

وٹامن سی کھٹے یا ترش پھلوں میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔ایک مطالعہ کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ کھٹے ذائقے والے پھل مثلاً سنگترہ،لیموں،چکوترا اور موسمبی استعمال کرتے رہنا صحت مند رہنے کے لئے مفیدہے۔وٹامن سی کی کمی سے زخموں کے بھرنے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور انفیکشن سے بچاؤ کے لئے جسمانی مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے ۔
ادرک
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ادرک میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس انسانی جسم میں قوت مدافعت کو بہتر اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔

ادرک میں پایا جانے والا جنجرولز (Gingerols) نامی مادہ ادرک کے طبی فوائد کا باعث ہے۔ماہرین کے مطابق بہتر فوائد کے حصول کے لئے خشک کے بجائے تازہ ادرک استعمال کی جانی چاہیے۔
وٹامن ڈی
امیون سسٹم یا مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں ”وٹامن ڈی“ کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اس کی مدد سے مختلف جراثیم کو مارنے والے سیلز پیدا ہوتے ہیں۔

ایک اور تحقیق کے مطابق وٹامن ڈی قوت مدافعت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتاہے۔وٹامن ڈی کی کمی سے جسم آسانی سے انفیکشن سے متاثر ہو جاتا ہے۔بہتر صحت کے لئے ضروری ہے کہ جسم میں وٹامن ڈی کی کمی نہ ہو۔سورج کی روشنی وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔صبح کے وقت دس سے پندرہ منٹ کے لئے دھوپ میں بیٹھیں۔اپنی غذا میں وٹامن ڈی سے بھر پور اشیاء شامل کریں۔

مچھلی،پنیر،انڈے کی زردی اور کچھ مشرومز میں وٹامن ڈی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
کیلا
کیلا دنیا بھر میں لوگوں کے پسندیدہ پھلوں میں سے ایک ہے،بیش بہا فوائد لئے اس اہم پھل میں تین طرح کی قدرتی شکر پائی جاتی ہے۔ سکروز،فروکٹوز اور گلوکوز․․․․کیلے میں فائبر یا ریشے بھی موجود ہوتے ہیں۔کیلے کو فوری توانائی پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

کیلے میں وٹامن Bاور Cکی زیادہ تر اقسام پائی جاتی ہیں۔کیلا کا ملک شیک بھی انسانی جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے کے علاوہ اعصابی نظام کی بہتری میں مدد کرتا ہے۔ایک کیلے میں سیب کی نسبت 4گنا زیادہ پروٹین،دو گنا زیادہ کاربوہائیڈریٹس،تین گنا زیادہ فاسفورس،پانچ گنا زیادہ وٹامن Aاور آئرن اور دو گنا زیادہ دوسرے وٹامنز اور معدنیات شامل ہوتے ہیں۔


لہسن
لہسن بھی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اسے خالی پیٹ کھانے سے جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔لہسن ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے اس کا استعمال خون کو پتلا کرنے کے ساتھ ساتھ دوران خون بھی بہتر کرتا ہے۔
دہی
دہی ڈیری پراڈکٹس میں سپر فوڈ کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے۔دہی نہ صرف قوت مدافعت بڑھانے اور بیماریوں سے لڑنے کا فوری اور سستا ذریعہ ہے بلکہ اسے وٹامن ڈی اور جسم کی قدرتی حفاظت کا ذریعہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔

مختلف پھلوں کے ملاپ سے دہی کی افادیت میں مزید اضافہ کیا جا سکتا ہے۔چونکہ یہ دودھ سے بننے والی ایک بہترین غذا ہے اس لئے اس میں کیلشیم،پروٹین اور پروبائیوٹک کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔اس میں پائے جانے والے پروبائیوٹک(مفید بیکٹیریا)نا صرف نظام انہضام کو بہتر کرتے ہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی مضبوط کرتے ہیں۔
پالک
بات ہو امیون سسٹم بہتر بنانے کی اور پالک کا ذکر نہ آئے تو یہ ادھوری سی بات لگتی ہے۔

پالک وٹامن سی،اے،بیٹا کیروٹین اور دیگر اہم غذائی اجزاء پر مشتمل ہونے کے باعث مختلف انفیکشن سے لڑنے میں مدافعتی نظام کی مدد کرتا ہے۔تاہم پالک استعمال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ زیادہ دیر نہ پکایا جائے کم پکانے کے باعث اس کی غذائی صلاحیت برقرار رہتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-10

Your Thoughts and Comments