Redish - Jaundice Ki Dushman

مولی۔یرقان کی دشمن

Redish - Jaundice Ki Dushman
ظل ہما
سبزیوں کی افادیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،مگر بعض سبزیوں کو ہم کم ہی اہمیت دیتے ہیں،حالانکہ ان میں صحت،توانائی اور بیماریوں سے بچاؤ کا بیش بہا خزانہ ہوتاہے۔انھی سبزیوں میں سے ایک مولی بھی ہے۔مولی برصغیر پاک وہند میں سب سے زیادہ کھائی جانے والی سبزی ہے۔مولی کے تمام فوائد حاصل کرنے کے لیے اسے کچی حالت میں ہی کھانا چاہیے۔

پکانے پر اس کے حیاتین(وٹامنز)ضائع ہوجاتے ہیں۔مولی ایک جڑ ہے ۔اس کا رنگ عموماً سفید ہوتاہے۔اس کی دو قسمیں ہیں:ایک لمبی اور دوسری گول۔یہ شلجم،کھیرے اور ٹماٹر کی طرح سلاد کے طور پر کچی کھائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بطور تر کاری پکائی بھی جاتی ہے۔
مولی میں فاسفورس ،کیلسیئم اور حیاتین ج(وٹامن سی)کے علاوہ فولاد کی بھی کافی مقدار ہوتی ہے۔

(جاری ہے)

مولی بواسیر،تلی کے ورم،یرقان،معدے اور پتے کے امراض دور کرنے کے لیے اکسیر ہے۔مولی یورک ایسڈ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔یہ گردے صاف کرتی اور فضلات کو خارج کرتی ہے۔ایشیائی ملکوں، بالخصوص چین میں مولی کو کئی کھانوں کا جزو لازم سمجھا جاتاہے۔دنیا بھر میں دورنگوں کی مولی پائی جاتی ہے:ایک سرخ اور دوسری سفید رنگ کی ،مگر عرب ممالک میں سرخ مولی زیادہ مقبول اور پسندیدہ ہے۔

مولی ریشے سے بھر پور سبزی ہے۔مولی کھانے کے چند فوائد یہ ہیں:بھوک بڑھانے میں مدد گار ،جسم میں موجود مضر صحت جراثیم کے خاتمے میں معاون ،جگر کے مسائل دور کرنے میں موٴثر ،زہریلے اثرات بالخصوص سانپ کا زہر دور کرنے کا ذریعہ،چہرے کی بشاشت بڑھانے میں فائدہ مند،بال گرنے سے روکنے میں سود مند،معدے کی جلن دور کرنے ،معدے کو اندر سے صاف کرنے میں مفید،پیچش سے
نجات دلانے ،سانس کے امراض ختم کرنے میں مفید اور اعصابی مسائل کے حل میں اعانت کرتی ہے۔

اس کے علاوہ مولی کے اور بھی بہت سے فائدے ہیں۔
مولی میں حیاتین الف،ب،ج اور د(وٹامنز اے ،بی،سی اور ڈی)ہوتی ہیں۔گرتے بالوں کو روکنے کے لیے مولی کا باقاعدہ استعمال کریں۔گنج پر مولی کا پانی ملیں۔یہ کمزوری دور کرنے اور پتھری خارج کرنے کے لیے بھی مفید ہے۔غذا کو فوراً ہضم کرتی ہے۔
یرقان میں مولی کے پتوں کا پانی نکال کر گرم کرکے گڑیا شکر ملا کر بار بار پلائیں ،فائدہ ہو گا۔

مولی کی بھجیا بھی مفید ہے۔تلی بڑھی ہوئی ہوتو مولی اور سر کے کا کھانا بہت فائدہ مند ہے۔پرانے نزلے میں مولی کا پانی اور لیموں کا رس ملا کر پلانے سے فائدہ ہوتاہے ۔گلے کے درد میں مولی کے ساتھ لہسن کا کھانا مفید ہوتاہے۔
شراب،ہیروئن اور دوسری نشہ آور اشیا سے نجات حاصل کرنے کے لیے مولی کے سبزپتے پانی میں پیس کردوچمچے شہد ڈال کر ایک پیالی ایک ماہ تک صبح نہار منھ اور سوتے وقت پلائیں،جلد نجات مل جائے گی۔

حلق کا ورم اور خناق میں مولی کے پانی میں لیموں کا رس اور شہد ملا کر چٹانے سے افاقہ ہوتاہے۔
بواسیر کے خاتمے کے لیے روزانہ دو مولیوں پر چینی لگا کر کھائیں یا مولی کے پتے چینی ملا کر روزانہ کھائیں۔مولی یا اس کے پتے کھانے سے پیٹ کے کیڑے ختم ہو جاتے ہیں۔ذیا بیطس کے مریضوں کو زمین کے اندر پیدا ہونے والی سبزیاں کھانے سے منع کیا جاتاہے،لیکن مولی میں یہ خاصیت ہے کہ یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے مفید ہے اور خون میں شکر کی سطح کو قابو میں رکھتی ہے۔


کان کے درد سے چھٹکارا پانے کے لیے مولی کے رس میں ہم وزن تلوں کاتیل ملائیں اور ہلکی آنچ پر پکائیں،جب رس جل جائے اور خالی تیل رہ جائے تو اسے چھان کر بوتل میں محفوظ کرلیں اور نیم گرم تیل کے چند قطرے کانوں میں ٹپکائیں ،اس سے درد اور کان کی دیگر بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔یرقان
کے مرض میں مولی کے پتوں کا رس نکال کر چینی ملا کر پلانے سے مریض شفایاب ہو جاتاہے۔


مولی کے نمک کو کھار کہتے ہیں۔یہ کبھی مولی کی جڑ اور کبھی پتوں سے حاصل کیا جاتاہے۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ مولی کی جڑیا اس کے پتوں کو خشک کرکے جلا کر اس کی راکھ حاصل کرلی جاتی ہے،جس کو بار بار صاف ستھرے باریک کپڑے سے پانی میں حل کرتے ہیں،پھر اس پانی کو پکاتے ہیں تو نمک جم جاتاہے ۔ایک پاؤ راکھ سے 12تولہ کھار حاصل کیا جا سکتاہے ۔اس کا فائدہ یہ ہے کہ پیٹ کی خرابی اور بدہضمی کو دور کرتا ،کھانے کو جلد ہضم کرتا اور بھوک بڑھاتاہے۔

ریاح کو تحلیل کرتا اور پیٹ کے نفخ میں مفید ہے۔
مولی معدے میں تیزابیت کو کم کرتی اور سینے کی جلن کا خاتمہ کرتی ہے۔مولی میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں،جو سرطانی خلیوں(سیلز)سے لڑتے ہیں۔مولی خون میں پوٹاشیئم اور سوڈیئم کی مقدار کو مناسب رکھتی ہے،جس کی وجہ سے بلڈ پریشر قابو میں رہتا ہے۔گردے یا مثانے میں پتھری کی صورت میں روزانہ مولی کھانے سے پتھری ریزہ ریزہ ہو کر جسم سے خارج ہوجاتی ہے۔

بواسیر کے مرض میں مولی کا رس اور مولی کے پتے مریض کو کھلانے سے شفا ملتی ہے۔مولی کھانے سے جگرکی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔مولی انتڑیوں کی حرکت تیز کرتی ہے اور اس طرح قبض دور ہو جاتاہے۔
بچھو پر اگر مولی کا رس ڈالا جائے تو فوراً مر جاتاہے ۔مولی کے بیج بھی بڑے کا ر آمد ہوتے ہیں۔ آدھا تولہ مولی کے بیج اگر نیم گرم پانی سے کھلائے جائیں تو بند حیض جاری ہوجاتاہے۔

کسی بھی درد والی جگہ پر مولی کے بیج لیموں کے رس میں ملا کر پیس کر لگانے سے آرام آجاتاہے۔ٹھنڈے پانی سے مولی اور نمک کھانے سے پیشاب کا رک رک کر آنا،کم آنا اور قطرہ قطرہ آنے کی شکایت دور ہو جاتی ہے۔
مولی کھانے کے بعد گڑ کھانے سے مولی جلد ہضم ہو جاتی ہے اور منھ سے بُو اور ڈکار وغیرہ بھی نہیں آتی۔ تلی کے امراض میں مولی کھانا بہت مفید ہے ۔اس کے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ مولی کاٹ کر چھیل کر کالی مرچ اور ہلکا سا نمک لگا کر رات کو کھلے آسمان کے نیچے رکھ دیں،تاکہ وہ اوس میں بھیگ جائے۔ صبح نہار منھ کھالیں ۔مولی کو رات میں کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-06

Your Thoughts and Comments