Roghan Badam Ke Heran Kun Fawaid

روغن بادام کے حیران کن فوائد

Roghan Badam Ke Heran Kun Fawaid

نسرین شاہین

بادام کے تیل سے مالش کرنے سے جسم کو تازگی ملتی ہے جلد کی نرماہٹ ‘ہموار یت اور قدرتی کساؤپیدا کرنے کے لیے یہ بہترین روغن ہے
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑی عظیم نعمتوں سے نوازا ہے ۔انہی عظیم نعمتوں میں خشک میوہ جات ایک نمایاں حیثیت رکھتے ہیں جو نہ صرف غذائی اجزاء سے بھر پور ہوتے ہیں بلکہ طبّی لحاظ سے بھی صحت وتندرستی کے لیے بھی انمول ثابت ہوتے ہیں ۔

قدرت نے ان میں ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ایسی ایسی خصوصیات پوشیدہ فرمائی ہیں کہ ان کے سامنے بڑی قیمتی ادویات بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ مغرب میں غذاؤں ‘پھلوں سے علاج باقاعدہ طبّی سائنس کی شکل اختیار کرچکا ہے ۔موسم سرما میں ساری دنیا کے لوگ خشک میوہ جات بڑی رغبت سے کھاتے ہیں ۔

(جاری ہے)

ان میوہ جات میں بادام بھی شامل ہے جسے اپنی غذائی افادیت کی وجہ سے خشک میوہ جات کا بادشاہ بھی کہاجاتا ہے ۔


بادام کا درخت
بادام کا اصل وطن بحیرئہ روم کا ساحلی علاقہ ہے لیکن اب یہ جنوب مغربی ایشیا‘اٹلی ‘اسپین‘ امریکا‘ پرتگال‘ ایران‘ افغانستان اور مراکش میں بھی پایاجاتا ہے ویسے بر صغیر سمیت پوری دنیا میں ہزاروں برسوں سے بادام کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے اسے ہم بین الاقوامی میوہ کہہ سکتے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کے بادام سخت خول والے دوسرے میوؤں کا باواآدم ہے تو یہ بات بڑی حد تک درست ہو گی ۔

بادام کا چھوٹا سادرخت ہوتا ہے جس کا تعلق گلاب کے خاندان سے ہے ۔بادام کے خول میں جو مغز ہوتا ہے۔ اس کی افادیت اپنی جگہ مسلم تو ہے کی مگر اس کے خول کی افادیت سے انکار کرنا مشکل ہے بادام کی دو مشہور قسموں میں کاغذی اور کاٹھا بادام شامل ہیں ۔
انگلینڈ میں بادام کے درخت سجاوٹ کے لیے لگائے جاتے ہیں ۔ایسے ہی درخت امریکا میں بھی لگائے جاتے ہیں ۔

جن کی تعداد انگلینڈ سے بھی زیادہ ہوتی ہے ۔ا س کے سفید پھول بالکل روئی کی مانند ہوتے ہیں ۔جو نہایت خوشنما نظر آتے ہیں۔ بادام کے درخت کی لکڑی بھی بہت کار آمد ہوتی ہے اور یہ کیبنٹ وغیرہ بنانے میں استعمال ہوتی ہے ۔یادرہے کہ محض بادام کے خول کی تجارتی بنیاد پر بہت اہمیت ہے۔ چیچک کے نشان کو ختم کرنے کے لیے بادام کے خول کو سل پر چند قطرے دودھ ڈال کر آہستہ آہستہ گھستے رہیں ۔

اس رگڑ سے جو پیسٹ حاصل ہوتا ہے اُسے انگلی کی نوک کی مدد سے چیچک کے نشان پر لگانے سے یہ نشانات بتدریج ختم ہوجاتے ہیں۔ اصل میں ہوتا یہ ہے کہ اس عمل سے اُوپری حصے پر موجود ناہموار جلد ہموار ہوجاتی ہے اور رگڑ کی وجہ سے اندر کی شگفتگی باہر آجاتی ہے ۔اس عمل کو تجارتی انداز میں فیشیل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔
بادام کو پاؤڈر کی شکل میں نارنجی کے چھلکے بادام کے چھلکے کے پاؤڈر ‘دلیہ یا آٹے میں ملانے سے یہ ایک بہترین اسکرب (Crub)بن جاتا ہے ۔

اس پیسٹ کو ہوابند (اےئر ٹائٹ)ڈبے میں رکھیں اور آئل کلینزر سے کلینزنگ کرتے وقت اسے بطور اسکرب استعمال کریں ۔اسکرب دراصل جلد کو رگڑنے کا عمل ہے ۔بہر حال بادام کا خول اور بادام کے درخت کی لکڑی دونوں کار آمد ہیں ۔
بادام کے اجزائے ترکیبی
اس کے علاوہ بادام کے اجزائے ترکیبی میں پروٹین‘ بی گروپ وٹامنز‘ پوٹا شیم‘ میگنیزیم اور فاسفیٹ جیسے منرلز بھی ہوتے ہیں ۔

بادام کے اجزائے ترکیبی سے بخوبی اندازہ لگایاجاسکتا ہے کہ یہ بچوں نوجوانوں بزرگوں کے لیے یکساں مفید ہے بادام سے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں اور جسم پھلتا پھولتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز یعنی تن سا ز‘بادام خاص طور پر استعمال کرتے ہیں ۔بادام کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے استعمال سے جسم میں چربی نہیں بڑھتی کیلشیم کی وجہ سے ہڈیاں اور دانت مضبوط ومستحکم ہوتے ہیں یہ زود ہضم ہونے کی وجہ سے دماغ ار بینائی کے لیے مفید ہے ۔

دماغی کام کرنے والوں کے لیے تو قدرت کا یہ خاص تحفہ ہے ۔بادام میں حراروں کی مقدار کافی ہوتی ہے یعنی سوگرام باداموں میں چھ سو حرارے ہوتے ہیں ۔اسے موسم سرما میں لوگ آسانی سے اسے ہضم کر لیتے ہیں ۔
بادام کی تا ثیر گرم ہوتی ہے لیکن چھلکا اُتارنے کے بعد معتدل ہوجاتی ہے ۔یادداشت کے لیے تو بادام اکیسر کی حیثیت رکھتا ہے مغل بادشاہ اکبر کی ذہانت کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ بادام استعمال کرتا تھا ۔

بعض گرم مزاج لوگوں کو موسم سرما میں بھی موافق نہیں آتا ۔گرم مزاج کے لوگ گرمیوں میں بادام کا استعمال سروائی کی صورت میں کر سکتے ہیں یہ سروائی ہماری مشرقی روایت بھی ہے جو صحت کے لیے بہت مفید ہے ۔اس کی تیاری کا طریقہ یہ ہے ۔
دودھ‘ ایک کلو‘ مغزبادام‘15 سے18 عدد‘ خشخاش ‘ایک چائے کا چمچہ‘ سونف‘ ایک چائے کا چمچہ‘ مغزپستہ 12عدد‘ چھوٹی الائچی‘ تین عدد شہد ایک کھانے کا چمچہ تمام اشیاء دودھ میں پیش کریا مٹی کے بڑے پیالی میں گھونٹ کر برف سے ٹھنڈا کرکے نوش جاں کریں ۔

اس سے طبیعت کو فرحت ملے گی اور توانائی ملے گی۔
بادام کی قسمیں
بادام کی دو قسمیں ہیں ۔بادام شیریں اور بادام تلخ شیریں یا میٹھا ہی بادام ہی کھانے کے کام آتا ہے ۔چھلکے کی سختی کے لحاظ سے بھی بادام کی دو قسمیں ہیں ۔
کا غذی بادام ‘کا ٹھا‘ بادام کھٹا یا ٹھڑ وابادام‘ کاغذی بادام چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس کا چھلکا پتلا اور نرم ہوتا ہے جس کی وجہ سے آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے مگر کاٹھے یا ٹھڑرے بادام کا چھلکا سخت اور موٹا ہوتا ہے یہ آسانی سے نہیں ٹوٹتا ۔

بادام کی گری میں روغن‘ شکر‘ پروٹین‘ معدنی اجزاء‘ نمکیات ‘نشاستہ اور وٹامنز پائے جاتے ہیں کڑوے یا تلخ بادام میں ان چیزوں کے علاوہ ایک بہت تیز قسم کا زہر” ہائیڈروسیانک ایسڈ“ پایاجاتا ہے ۔اس زہر کی صرف ایک بوند انسان کی زندگی کو ختم کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔
بین الاقوامی منڈی میں بادامِ تلخ کی مانگ زیادہ ہے تاہم اس کا اندرونی طور پر استعمال منع ہے کیونکہ اس میں سک ایسڈ پایاجاتا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ دوسرے ممالک میں بادام شیریں اور بادام تلخ الگ الگ کھیتوں میں لگا ئے جاتے ہیں تا کہ آپس میں مل نہ جائیں مگر ہمارے ہاں اس پر توجہ ہی نہیں دی جاتی ۔یہی وجہ ہے کہ ہر چوتھی یاپانچویں گری تلخ نکل آتی ہے ۔بادام شیریں ہویا بادام تلخ ہودونوں سے روغن بھی کشیدکیاجاتا ہے ۔بادام شیریں اور بادام تلخ کا روغن حسن کی حفاظت اور جلد کی رنگت نکھارنے میں استعمال ہوتا ہے بادام تلخ کا روغن عام طور پر کاسمیٹکس میں استعمال کیا جاتا ہے ۔

خاص طور پر رنگت نکھارنے اور جھائیاں دورکرنے والی کریموں میں بطور خاص استعمال کیا جاتا ہے ۔
روغن بادام حسن کا محافظ
زمانہ قبل ازمسیح مصر کے بادشاہوں (فرعون )کی لاشوں کو محفوظ رکھنے کے لیے جو مصالحے تیار کیے جاتے تھے ان میں بادام کی گریاں استعمال ہوتی تھیں عراق میں سات ہزار برس پرانے اکے شہر کی کھدائی کے دوران ماہرین کو اس زمانے کے بادام ملے ہیں جن کا چھلکا اور گریاں بالکل محفوظ ہیں اور ذائقے میں بھی فرق نہیں آیا مگر روغن خشک ہو چکا ہے ۔

یہ بادام عراق کے عجائب گھر میں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں ۔
بادام کا روغن جادوئی اثرات رکھتا ہے ۔طب میں اس کا استعمال مثانہ اور آنتوں کی خراش‘ خشک کھانسی اور قبض کشا کے طور پر ہوتا ہے دماغ کی خشکی بھی دور کرتا ہے ۔جسم کو توانائی دیتا ہے نیند لاتا ہے دماغ کو طاقتور بناتا ہے ۔روغن بادام کے طبّی خواص بیشمار ہیں اسے ہر گھر کی ضرورت سمجھاجاتا ہے ۔

سر کا مساج ہویا چہرے کا روغن بادام کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے ۔
تلخ باداموں کا روغن حسن افزاء سنگھاری مصنوعات یعنی کاسمیٹک پروڈکٹس کی تیاری میں بطور خاص استعمال کیا جاتا ہے ۔چہرے کی جھائیوں کو دور کرنے اور جلد کی رنگت نکھارنے یا کے لیے بطور لیپ کیاجاتا ہے ۔اس وجہ سے عالمی منڈی میں بادام تلخ کی مانگ زیادہ ہے ۔تاہم تلخ بادام کا صرف بیرونی طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔

اندرونی طور پر اس کا استعمال منع کیا جاتا ہے ۔بادام میں ایک خاص قسم کے ریشے کی کافی مقدار ہوتی ہے جو کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدددیتی ہے دل کی بیماری کم کرنے میں اہم ثابت ہوتے ہیں ۔یہ اجزاء Saponinsاورsterolsہوتے ہیں ۔بادام میں پائے جانے والے پروٹین کا خون میں شامل چکنائی پر اچھا اور مثبت اثر ہوتا ہے ۔
روغن بادام حسن کا محافظ ہے ۔ہر طرح کی جلد کے لیے روغن بادام بہترین ہے ۔

حیرت انگیز طور پر اس کے تیل میں کئی مفید اجزاء شامل ہوتے ہیں ۔بادام کے تیل سے مالش کرنے سے جسم کو تازگی ملتی ہے اور ناہموار حصوں کو ہموار بناتا ہے ۔جلد کو نرم کرنے اور اس پر قدرتی کساؤیادلکش تناؤ پیدا کرنے کے لیے بادام کے تیل کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔اسی لیے جلد سے متعلق پروڈکٹ میں اس کو لازمی طور پر شامل کیا جاتا ہے ۔
خشک موسم سے متاثرہ پھٹے اور کھردرے ہونٹ چہرے کی دلکشی کو متاثر کرتے ہیں ۔

خاص طور پر سردیوں میں یہ شکایت عام ہوتی ہے ۔ہونٹوں کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے کے لیے شہد ‘بیکنگ پاؤڈر اور روغن بادام ایک ایک کھانے کاچمچہ ملا کر کچھ دیر کے لیے ہونٹوں پر لگائیں پھر ہلکے ہاتھ سے صاف کرکے روغن بادام لگالیں ۔اس عمل کو دن میں دوبار کرنے سے ہونٹ نرم وملائم رہتے ہیں ۔
بادام کا تیل احتیاط سے اپنی آنکھوں کے گرد کی جلد پر لگائیں اس حصے پر آہستگی ‘احتیاط اور نرمی سے پندرہ منٹ تک مساج کریں ۔

اس کے بعد نم آلودکاٹن وول سے اس حصے کو صاف کرلیں ۔
روغن بادام میں چونکہ وٹامن ای کی خصوصیات کثیر مقدار میں پائی جاتی ہیں ۔اس لیے اس کو خواتین عمر رسیدگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بطور اینٹی ایجنگ نیچرل پروڈکٹ کے استعمال کرسکتی ہیں۔ چہرے کی جلد کو خوبصورتی میں اضافہ اور جھریوں کو کم کرنے کے لئے روغن بادام سے چہرے کا مساج کریں ۔


اپنے چہرے کو کسی معیاری کلینزنگ لوشن سے اچھی طرح صاف کرلیں ۔اس کے بعد دو چمچے نیم گرم بادام کے تیل میں چند قطرے عرق گلاب کے شامل کرکے ہلکے ہاتھ سے انگلیوں کو گول دائروں میں حرکت دیتے ہوئے پورے چہرے کا مساج کریں۔ یہ عمل 5-10منٹ تک کریں ۔اس سے چہرے کی جلد کا دوران خون گردش کرے گا اور چہرے پر واضح ہونے والی باریک لکیریں اور جھریاں پھر کم ہوجائیں گی ۔

اس کے علاوہ روغن بادام کے مساج کے ذریعے آنکھوں کے گردپڑنے والے سیاہ حلقوں اور جھریوں کو ختم اور کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔
جلد کو نرم کرنے اور اس کے قدرتی تناؤ میں اضافے کے لیے بادام کے تیل کو خاص اہمیت حاصل ہے اس لیے جلد سے کی خوبصورتی بر قرار رکھنے اور اس کی بہترین نگہداشت کے حوالے سے تیار کی جانے والی پروڈکٹ میں روغن بادام کو لازمی طور پر استعمال کیا جاتا ہے برابر مقدار میں اسے زیتون کے تیل میں ملالیں تو یہ بہترین ہےئر ٹانک میں تبدیل ہوجاتا ہے۔

اگر ٹربن تھراپی (سرپر تولیہ لپیٹنے کا عمل )سے قبل اس سے کھوپڑی پر مساج کرلیا جائے تو یہ عمل بالوں کے لیے بہت مفید ہے ۔
خشکی دور کرنے کے لیے نیم کے پتے کا سفوف اور کا فوراس کے تیل میں شامل کرکے لگائیں تو خشکی جاتی رہے گی نہانے کے پانی میں ایک چند قطرے ملالیں تو یہ جلد کوخشک ہونے سے محفوظ رکھتا ہے ۔یہ عمل سردیوں میں بہت فائدہ مند رہتا ہے ۔


ایسے لوگ جن کی جلد خشک ہے اور جو بہت زیادہ مصروف بھی رہتے ہیں ۔انہیں چاہیے کہ وہ ایسی پروڈکٹ کا انتخاب کریں ۔جو اپنے اجزا میں بادام کا تیل ضرور رکھتے ہوں شکن آلود جلد بادام شامل والی نائٹ کریم سے بہت آرام پانی ہے ۔خشک جلد کے حامل افراد کو ایسا جیل اور کلینزنگ کریم استعمال کرنا چاہیے جن کی بنیاد بادام پر ہو یعنی بادام ان کے اجزا کا اہم حصہ ہو۔


خشک جلد پر اسے لگانے سے جلد کا کھنچاؤ جاتا رہتا ہے اور جلد تروتازہ ہو جاتی ہے ۔اگر اس کے تیل میں دلیہ شامل کرکے پیسٹ بنا کر چہرے پر لگایا جائے تو یہ حساس جلد کے لیے بہترین ماسک ثابت ہوتا ہے ۔بادام کو شہد اور انڈے کی زردی کے ساتھ ملا کر لگانے سے جلد خشک نہیں ہوتی ۔اس پیسٹ کو گردن کے آس پاس اور آنکھوں کے گرد لگانے سے سیاہ حلقے نہیں بنتے اور اگر پورے جسم میں لگالیا جائے تو جلد روشن تروتازہ اور موئسچرائز ہوجاتی ہے ۔مختصر یہ کہ بادام اور اس کا تیل صحت بخش اور فائدہ مند ہے ۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-03

Your Thoughts and Comments