Sar Dard - Article No. 1952

سر درد - تحریر نمبر 1952

جمعہ ستمبر

Sar Dard - Article No. 1952
ایسا شاید ہی کوئی فرد ہو جو کبھی نہ کبھی درد سر میں مبتلا نہ ہوا ہو۔درد سر کے زیادہ تر واقعات محض سطحی اور وقتی نوعیت کے ہوتے ہیں جو کسی عارضی سبب کی پیداوار ہوتے ہیں۔ان کا دماغ میں کسی عضویاتی (Organic) تبدیلی سے تعلق نہیں ہوتا۔درد سر،اکثر قدرت کی طرف سے انسان کے لئے ایک وارننگ ہوتی ہے جو اسے،جسم کے کسی حصے میں کسی خرابی یا کسی گڑبڑکی طرف متوجہ کرتی ہے۔

درد سر کندھوں،گردن اور کھوپڑی کے عضلات میں اعصاب کے سروں (Nerve Engings) میں ہیجان پیدا ہونے اور ان مقامات پر خون کی نالیوں کے ملائم عضلات میں سوزش ہونے کی وجہ سے ظاہر ہوتا ہے۔
درد سر کے عام اسباب میں الرجی،جذباتی،ہیجان،آنکھوں کا کھنچاؤ،ہائی بلڈ پریشر،لو بلڈ پریشر،انفیکشن،خمار اترنے کی اعضا شکنی،غذائیت کی کمی،ٹینشن،جسم میں زہریلے مادے اور مائیگرین شامل ہیں۔

(جاری ہے)

درد سر کا باعث بننے والی الرجی کے بھی کئی اسباب ہو سکتے ہیں جن کا تعین آسانی سے نہیں ہو سکتا۔بعض لوگوں کو دودھ اور اس کی مصنوعات استعمال کرنے سے الرجی ہو جاتی ہے۔بعض لوگوں کو چاکلیٹ،مرغی کا جگر یا پنیر کھانے سے ہو جاتی ہے۔چھینکیں آنا اور اسہال لگنا بھی الرجی کی علامت ہوتی ہیں۔
جذباتی ہیجان بھی سر درد کا سبب بن جاتا ہے۔کئی لوگ جو بظاہر خوش باش طبیعت کے مالک ہوتے ہیں،اپنی ملازمت یا پیشے سے متعلق تشویش میں مبتلا ہونے یا کسی شخص یا چیز سے دل میں اچانک نفرت ابھر آنے کی بنا پر درد سر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

دل کی خفیہ کدورت بھی درد کی صورت میں اپنا اظہار کرتی ہے۔لہٰذا ضروری ہے کہ منفی جذبات کو دل کے اندر چھپائے رکھنے کی بجائے ان کا کسی بے ضرر طریقے سے اظہار کر دیا جائے۔درج ذیل نسخے سر درد میں مفید بتائے جاتے ہیں۔
خالص سرسوں کا تیل تین بڑے چمچ کی مقدار گرم کریں،پھر سوتی کپڑے کو اس میں ڈبوئیں اور اس کی پٹی بنا کر پیشانی پر رکھیں۔
شیشے کے ایک بڑے پیالے میں دھنیا کے بیچ ڈالیں۔

اس پیالے میں کھولتا ہوا پانی انڈیلیں اور چند منڈ تک ایسے ہی رکھیں،بعد ازاں سر پر تولیہ رکھ کر پیالے میں سے اٹھنے والی بھاپ کو سانس کے راستے اندر کھینچیں۔اس طرح Sinus کی وجہ سے ہونے والے سر درد میں افاقہ ہوتا ہے۔
سر درد میں آرام کے لئے Chamomile کی چائے بھی مفید ہے۔
رائی (سرسوں) کے دانوں کو پیس کر اس کا سفوف بنائیں۔چائے کے چمچ کی مقدار یہ سفوف گرم پانی سے بھرے ایک بڑے پیالے میں ملائیں اور اس سے پاؤں کو غسل دیں۔

سر درد کے علاوہ نزلہ،زکام میں بھی اس سے فائدہ ہو گا۔
تازہ لہسن کے جوئے چھیل کر اور باریک کتر کے سلاد میں شامل کریں۔اگر نزلے کی وجہ سے سر اور سینہ بھاری اور جکڑا ہوا محسوس ہو رہا ہے تو آرام ملے گا۔
سر درد میں دھنیا اور پودینہ کی چائے بھی اپنا اثر دکھاتی ہے۔دیگر جڑی بوٹیاں جن کی چائے بنا کر پی جا سکتی ہے،ان میں گلاب کے پھول کا ڈنٹھل (Rosheip)، میڈوسوئیٹ،لیمن بام اور اسپیرمنٹ شامل ہیں۔


سر درد کی پرانی شکایات اور درد شقیقہ کے علاج کے سلسلے میں ریسرچرز ایک خوشبودار جھاڑی(FeverFew) جس پر سفید پھول (درمیان میں زرد حلقہ) لگتے ہیں،پر تحقیق کر رہے ہیں۔طبی جائزوں سے معلوم ہوا ہے کہ جو مریض اس کی چند تازہ پتیاں چبا کر کھا لیتے ہیں یا ان پتیوں کا عرق روزانہ پیتے ہیں،انہیں آدھے سر کا درد کم ہوتا ہے،نیز اس کی شدت میں بھی کمی آجاتی ہے۔


پانی سے علاج
درد سر کے لئے پانی کا استعمال بہت مفید پایا گیا ہے۔پانی کافی مقدار میں پیجیے۔اس کے علاوہ پاؤں کو گرم پانی میں ڈبو کر بیٹھنا بھی مفید ہے ۔تولیہ گرم پانی میں ڈبونے کے بعد نچوڑنے کے بعد اس سے گردن کے پیچھے ٹکور کیجیے۔سر اور چہرے پر نیم گرم پانی کی پٹیوں سے ٹکور کیجیے۔ #یاسر اور چہرے اور ریڑھ کی ہڈی پر باری باری گرم پٹیاں لگائیے۔

یوگا کی ورزشیں بھی درد سر دور کرنے میں مفید کردار ادا کرتی ہیں۔جسم میں اگر بعض اہم وٹامنز یامنرلز کی کمی ہو جائے تو اس سے بھی سر میں درد کی شکایت ہو سکتی ہے۔مثلاً نیا سین اور وٹامن B6 کی کمی سر درد کا باعث بن سکتی ہے۔علاوہ ازیں بی وٹامنز کی تمام قسمیں ذہنی دباؤ دور کر نے اور ٹینشن کی وجہ سے ہونے والے سر درد سے بچانے میں مددگار ہوتی ہیں۔


پروٹین والی غذائیں مثلاً چکن،مچھلی،پھلیاں،مٹر،دودھ،پنیر،مغزیات اور مونگ پھلی کے مکھن (Peanut Butter) سے نیا سین اور وٹامن B6 کی ضروریات بڑی آسانی سے پوری کی جاسکتی ہیں۔کیلشیم اور میگنیشیم جیسی معدنیات ایک ساتھ مل کر سر درد سے بچاتی ہیں، خاص طور پر وہ سر درد جن سے خواتین مخصوص ایام میں دو چار ہوتی ہیں ۔کیلشیم کے حصول کے بہترین ذرائع ڈیری مصنوعات،گہرے سبز پتوں والی سبزیاں مثلاً پالک،بروکلی نیز پھلیاں،مٹر وغیرہ ہیں جبکہ میگنیشیم بھی ہمیں سبز پتوں والی سبزیوں سے مل سکتی ہے۔علاوہ ازیں گری دار میوے،کیلے،گندم کا چھلکا،سی فوڈ مثلاً مچھلیاں اور جھینگے،پھلیاں اور مٹر بھی میگنیشیم کے حصول کے اچھے ذرائع ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-09-11

Your Thoughts and Comments