بند کریں
صحت مضامینمضامینسرد موسم میں ذہنی تناؤ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سرد موسم میں ذہنی تناؤ
اس سے جان کیسے چھڑا ئیں
موسم سرما کے شروع ہوتے ہی کیاآپ بھی سست روی اور ذہنی تناؤ کاشکار ہوجاتی ہیں؟ ایسا محفل آپ کے ساتھ ہی نہیں ہوتا بلکہ دنیا میں بہت سارے اور لوگ بھی اس موسم میں اس کیفیت کاشکار ہو جاتے ہیں لیکن کیاکبھی آپ نے اس کی وجہ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے کہ آپ کے ساتھ ایسا کیوں ہورہاہے؟ ایسا نہیں کہ آپ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں ہیں یاکسمپرسی کی زندگی گزاررہے ہیں۔ دراصل اس اداسی کی وجہ موسمی تناؤ کے احساسات کی موجودگی ہے جس سے ہم شعوری طور پر لاعلم ہوتے ہیں۔ موسمی تناؤ ذہنی دباؤ ہی کی ایک قسم ہوتی ہے جس کاتعلق موسم کے تغیرسے ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس تناؤ کااظہار سال کے مخصوص اوقات میں ہوتاہے۔ موسم سرماکے آغاز کے ساتھ ہی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں جبکہ جنوری اور فروری کے مہینوں میں یہ بیماری شدت اختیارکرجاتی ہے۔ اس بیماری کی علامات میں یاسیت ناامیدی‘ معمول کے کاموں میں عدم دلچسپی‘ اُداسی کی کیفیت‘ غم وغصہ کے جذبات ذہنی دباؤ‘ رات کونیندکانہ آنا‘ دن بھرنیند کاغلبہ رہنااور بے چینی سرفہرست ہیں۔ اس سے جان چھڑانے کیلئے اپنی غذاکاخاص خیال رکھیں۔ میٹھا کھانے سے جس قدرممکن ہو‘ اجتناب کریں‘ خصوصاََ چینی سے مکمل پرہیز کریں۔ ایسی غذائیں کھائیں جن میں پروٹین کی وافرمقدار پائی جاتی ہو۔ سردیوں میں خشک میوہ جات اس کابہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔ اگرہوسکے تو کسی ماہرنفسیات سے ملیں کیونکہ اس کیفیت سے نکلنے کیلئے ” ٹاک تھراپی“ یعنی باتوں کے ذریعے علاج کوممکن بنایاجاسکتا ہے۔ ہمیشہ کمرے میں اندھیرا اور گھٹے ہوئے ماحول میں رہنے کی بجائے کچھ تبدیلیاں کیجئے۔ کھڑکیوں اور دروازوں کوکھول کر رکھیں۔ پردوں کوہٹاکررکھیں تاکہ باہرکی روشنی اندر آسکے۔ کوشش کیجئے پردوں کے انتخاب میں روشن اور گہرے رنگوں کا انتخاب کیاجائے۔ ہر وقت مایوسی کی کیفیت میں گھرے رہنے کی بجائے گھرسے باہر نکلیے دوستوں سے ملیے‘ گپ شپ لگایئے‘ اگرممکن ہوسکے تو صبح کے وقت اٹھ کر کم ازکم دوگھنٹے کسی پارک میں گزارئیے‘ صبح کی تازہ ہوا میں سانس لینے سے بھی انسان فریش محسوس کرتاہے۔ ورزش کواپنا معمول بنایئے‘ ورزش اور جسمانی سرگرمیاں مایوسی اور ذہنی تناؤ کی علامات کوکم کرنے کاسبب بنتی ہیں۔ اللہ کے ذکر سے بھی دل کوسکون ملتاہے۔ عبادات میں بھی دل لگانے کی کوشش کیجیے اور خوش رہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے