بند کریں
صحت مضامینمضامینسردیوں کی بیماری انفلوئنزا، علامات اور احتیاطی تدابیر

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
سردیوں کی بیماری انفلوئنزا، علامات اور احتیاطی تدابیر
اس خوبصورت موسم میں بیمار ہوجاتے ہیں اور اس موسم کا مزہ نہیں لے پاتے اس لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اس موسم میں محفوظ بنا نے کے لئے گرم کپڑوں اور ماسک کا استعمال کریں
ڈاکٹر چوہدری تنویر سرور:
بہت سے لوگ سردی کے موسم کو پسند کرتے ہیں لیکن احتیاط نہیں کرتے جس سے وہ اس خوبصورت موسم میں بیمار ہوجاتے ہیں اور اس موسم کا مزہ نہیں لے پاتے اس لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو اس موسم میں محفوظ بنا نے کے لئے گرم کپڑوں اور ماسک کا استعمال کریں تاکہ اس موسم کی سختی سے بچا جاسکے۔ جب سردی کا موسم آتا ہے تو اپنے ساتھ کئی بیماریاں بھی لے آتا ہے جن میں نزلہ وزکام ، بخار،سردرد،حلق اور سانس کی بیماریاں قابل ذکر ہیں۔ انفلوئنزا بھی سردیوں کی بیماری ہے اور یہ ایک وائرس سے پھیلتی ہے یہ ہمارے نظام تنفس پر اثر انداز ہوتی ہے جس سے ہمارے ناک ، گلا اور پھیپھڑے متاثر ہوتے ہیں اس بیماری کے جراثیم فضا میں موجود ہوتے ہیں جو متاثرہ فرد کے چھینکنے ، بات کرنے اور کھانسنے سے دوسرے افراد میں منتقل ہوجاتے ہیں۔ یہ بیماری ہر عمر کے فرد کو ہوسکتی ہے لیکن زیادہ تر اس بیماری سے بچے،بوڑھے اور کمزور افراد متاثر ہوتے ہیں۔ انفلوئنزا کے جراثیم جب کسی متاثرہ شخص میں داخل ہوتے ہیں تو اس کے دو سے تین دن کے اندر اسے نزلہ، زکام اور تیز بخار کی شکائت ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ سردی لگنا اور سردی کپکپی بھی ہوتی ہے۔ اور پورے جسم میں درد شروع ہوجاتا ہے اور اگر یہ مرض بگڑ جائے تو اس سے متاثرہ مریض کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے اس کے علاوہ سینے میں درد، الٹیاں اور اسہال لگ جاتے ہین اس لئے ضروری ہے کہ شروع میں ہی مریض کو کسی ڈاکٹر کو دکھا دینا چاہیے تاکہ بیماری مزمن صورت اختیار نہ کرے۔ اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ کئی اور پچیدگیاں پیدا ہوسکتی ہیں ۔ اور بیماری مہلک صورت حال اختیار کرجاتی ہے۔ جس کا علاج زیادہ مدت تک کیا جاتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ چھوٹے بچوں اور عمر رسیدہ افراد کو سردیوں کے موسم میں سردی سے بچا یا جائے تاکہ وہ اس مہلک مرض سے محفوظ رہ سکیں۔ چھوٹے بچوں میں یہ بیماری حلق میں درد سے شروع ہوتی ہے اس کے علاوہ بخار 100 فارن ہیٹ تک پہنچ جاتا ہے جس سے سر درد اور جسمانی درد شروع ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ ناک کا بہنا اور خشک کھانسی ہوجاتی ہے۔ انفلوئنز ا ایک شخص سے دوسرے شخص میں جلد منتقل ہوجاتا ہے اس لئے اگر گھر میں کوئی فرد اس میں مبتلا ہوجائے تو باقی افراد بھی ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ ان کو بروقت دوا یا ویکسین دی جاسکے تاکہ وہ اس بیماری سے محفوظ رہ سکیں۔اگر کوئی شخص اس بیماری میں مبتلا ہوجائے تو اس کو مکمل بستر کا آرام دیں اور اسے گرم یخنی اور پھلوں کا تازہ رس پلائیں اس کے علاوہ مریض کو پانی زیادہ سے زیادہ پلائیں۔ ٹھنڈے پانی سے اجتناب کریں اور نارمل پانی ہی پلائیں۔ ایسے مریض جن کو دمہ، ذیا بیطس یا دل کا عارضہ لاحق ہو انہیں زیادہ احتیاط کی ضرور ت ہے۔
علامات:
(1) چھینکیں آنا، ناک بہنا اس کی شروع کی علامات ہو سکتی ہیں۔
(2)سردرد ،خشک کھانسی ہوجاتی ہے۔
(3)گلے میں خراش ، نزلہ وزکام ہوجاتا ہے
احتیاطی تدابیر:
(1).کھانستے اور چھینک مارتے وقت اپنا منہ ڈھانپ کررکھیں۔
(2).ناک منہ کی صفائی کے صاف تولیہ یا رومال استعمال کریں۔
(3).اپنے ہاتھوں کو ہمیشہ صابن سے دھوئیں۔
(4).اگر یہ وبا پھیل چکی ہوتو بازار یا بھیڑ والی جگہ پر نہ جائیں۔
( 5).نیند پوری کریں اور ہلکی ورزش کو اپنا روزانہ کا معمول بنائیں۔
(6).حاملہ خواتین اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے حفاظتی ٹیکہ لگوائیں۔
(7).مریض کے استعمال کی چیزوں کو جراثیم کش محلول سے دھوئیں۔
(8).مریض اگر ٹشو پیپر استعمال کرہا تو انہیں جلادیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے