Schizophrenia - Article No. 2856

Schizophrenia

شیزوفرینیا - تحریر نمبر 2856

مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری

منگل 25 جون 2024

ڈاکٹر مسز صدیق
شیزوفرینیا ایک کرانک، زیادہ شدت والی اور مضمحل کرنے والی ذہنی بیماری کا نام ہے۔اس میں مریض کے خیالات بکھرے ہوتے ہیں اور اس کا معاشرتی رویہ نارمل نہیں ہوتا بلکہ عام طور پر سوسائٹی کے قوانین اور رسم و رواج کے مخالف ہوتا ہے۔اس مرض میں مبتلا افراد کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے بلکہ وہ سمجھتے ہیں کہ باقی سب غلط ہیں اور وہ خود ٹھیک ہیں۔
شیزوفرینیا میں مبتلا مریض معاشرے سے کٹ جاتا ہے شیزوفرینیا کی بیماری کو سنجیدگی سے لینا بہت ضروری ہے کیونکہ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ مریض کیا سوچتا ہے؟ کس طرح محسوس کرتا ہے اور کس طرح ری ایکشن کا اظہار کرتا ہے؟ مریض عام طور پر معاشرے کے مطابق نارمل رویے کا اظہار نہیں کرتا۔

(جاری ہے)

عام لوگ یہ تصور کرتے ہیں کہ مریض دہری یا تہری شخصیت کا حامل ہوتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔


اس مرض میں مبتلا لوگوں کی بہت بڑی تعداد تشدد پر مائل نہیں ہوتی اور نہ ہی ان سے دوسرے لوگوں کو کوئی خطرہ ہوتا ہے۔شیزوفرینیا کے مریض عام طور پر فریب نظری کا شکار ہوتے ہیں اور انہیں خیالی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔انہیں عجیب و غریب خیالات ستاتے رہتے ہیں، ان کی باتوں میں اور سوچ میں ربط نہیں پایا جاتا۔ان کے خیالات بھٹکتے رہتے ہیں۔
ان کے فقروں سے مطلب نکالنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ان کے کپڑے گندے اور بعض اوقات کیچڑ وغیرہ سے لت پت ہوتے ہیں۔ان میں اعتماد کی کمی اور معاملات کو جانچنے کی صلاحیت کا فقدان پایا جاتا ہے۔ان کے خیالات بگاڑ کا شکار ہوتے ہیں مثلاً وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے دماغ میں جو خیالات آتے ہیں وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں بلکہ کسی اور نے ان کے دماغ میں ان کو ٹھونسا ہے۔
یہ لوگ کسی بات پر اپنا ردعمل بھی ظاہر نہیں کرتے۔
ایسی وجوہات کی بنا پر یہ لوگ خود کو تنہائی کا شکار بنا لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کو کام کرنے میں دقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ویسے بھی اگر کوئی کام کریں تو سست روی کا شکار ہوتے ہیں۔ان کی یادداشت بھی کمزور ہوتی ہے۔شیزوفرینیا کے نصف یا کچھ کم مریض اس بات کو ماننے کے لئے ہی تیار نہیں ہوتے کہ وہ کسی بیماری کا شکار ہیں لہٰذا وہ ادویات کو مناسب طریقے سے استعمال بھی نہیں کرتے۔
ان مریضوں کے چہرے عام طور پر کسی قسم کے جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ایک بہت اہم علامت جو زیادہ تر مریضوں میں پائی جاتی ہے وہ نفسیاتی طور پر پائی جانے والی پیاس کی زیادتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ پانی یا دوسرے مشروب پیتے رہتے ہیں۔
شیزوفرینیا کی وجوہات موروثی اور سماجی دونوں کا مجموعہ ہوتی ہیں۔اگر کسی کے خونی رشتہ داروں میں مرض پایا جاتا ہے تو اس کو مرض ہونے کے امکانات سات فیصد بڑھ جاتے ہیں۔
جڑواں بچوں میں سے اگر ایک کو مرض لاحق ہو تو دوسرے بچے کو مریض ہونے کے چالیس فیصد امکانات ہیں۔اگر والدین میں سے ایک کو مرض ہو تو بچوں میں تیرہ فیصد جبکہ دونوں والدین کے متاثر ہونے کی صورت میں امکانات پچاس فیصد ہو جاتے ہیں اور سماجی وجوہات میں بچے کا ماحول، نشہ آور ادویات کا استعمال اور والدین اور رشتہ داروں کا رویہ اہم ہیں۔بعض والدین بہت زیادہ سخت اور غصہ والے ہوتے ہیں یا والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کی وفات ہو جانا بھی بچے پر برا اثر ڈالتی ہے۔
جنسی بد اخلاقی بھی باعث بن سکتی ہے۔نشہ آور اشیاء کا استعمال بھی ایک وجہ بن سکتا ہے۔ماں کو اگر حمل کے دوران وائرل انفیکشن ہو جائے یا پیدا ہونے سے قبل بچے میں آکسیجن کی کمی واقع ہو جائے یا ماں غذائی قلت کا شکار ہو جائے تو اس کا اثر پیٹ میں پرورش پانے والے بچے پر ہوتا ہے۔

Browse More Healthart