Sehat Mand Dil

صحت مند دل

پیر دسمبر

Sehat Mand Dil
بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ ساتھ آدمی کے دل اور شریانوں کی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات بھی بڑھتے رہتے ہیں۔دل کی شریانوں کی بیماری یاCoronary Artery Diseaseسے جاں بحق ہونے والوں میں تقریباً85فیصد وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی عمریں65برس سے زیادہ ہوتی ہیں۔ یکساں عمر والوں پر کی گئی تحقیق کے مطابق مردوں میں دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ عورتوں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔

سن یاس کے بعدعورتوں میں دل اور شریانوں کی بیماریوں کا خطرہ مردوں جتنا ہی ہو جاتاہے۔اگر کسی کے والدین ،بھائی بہنیں دل کی بیماری میں مبتلا رہ چکے ہوں تو فیملی کے ارکان میں اس بیماری میں مبتلا ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتاہے یعنی اس معاملے میں وراثت اپنا ایک موثر کردار ادا کرتی ہے۔اگر ان عناصر کو افراد،خاندان اور دوستوں کی مدد سے قابو میں لایا جائے تو دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہوسکتے ہیں یا اگر بیماری کا حملہ ہو چکا ہوتو صورتحال کو مزید خراب ہونے سے روکا جا سکتاہے۔

(جاری ہے)


اگر چند احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے تو عارضہ قلب سے کافی حد تک محفوظ رہا جا سکتاہے۔تمباکو کا استعمال کسی بھی طرح سے ہو خطر ناک ہے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ تو بس روزانہ دو یا تین سگریٹ ہی پیتے ہیں۔تمباکو نوشی کے لیے کسی بھی تعداد یا مقدار کو قابل قبول نہیں کہا جا سکتا۔ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ذہن نشین رہے کہ ان لوگوں کی ہم نشینی بھی اتنی ہی مہلک ہے جو تمباکو نوش ہوں۔

اسے سیکنڈ ہینڈ اسموکنگ کہا جاتاہے۔خون میں کولیسٹرول یعنی اچھے کولیسٹرول اور خراب کولیسٹرول کو کھانے پینے کی اشیاء میں مناسب تبدیلیاں کرکے معمول کے مطابق لایا جا سکتاہے۔خراب کولیسٹرول کی وجہ سے چربی کی تہیں شریانوں میں جمتی ہیں جس کی وجہ سے خون کا بہاؤ کم ہو جاتاہے یا رُک بھی سکتاہے جس کی وجہ سے دل اور دماغ کو آکسیجن کی فراہمی میں کمی آجاتی ہے یہ صورتحال خراب نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔


ذیابیطس کی وجہ سے خلیات کا عمل متاثر ہوتا ہے اور شریانوں کی دیواروں کو بھی نقصان پہنچتاہے ۔اس کی وجہ سے دل کے امراض ہوسکتے ہیں۔وزن کی زیادتی کے جسم پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔آدمی جتنا وزنی ہو گا اس کے دل کو اتنی ہی سخت محنت کرنی پڑے گی تاکہ جسم کے ہر حصے تک غذائیت بخش خون پہنچ سکے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ معمول سے زیادہ وزنی لوگوں میں دل اور شریانوں کی بیماریاں زیادہ پائی جاتی ہیں۔


وہ لوگ جو کاہلی اور سستی کی زندگی بسر کرتے ہیں انہیں یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ وہ دل اور شریانوں کی بیماریوں میں مبتلا ہو جائیں گے،کسی بھی جسمانی عضو کے صحت مند اور طاقتوررہنے کے لیے چاق وچوبند رہناضروری ہے۔یہ بات دل کے لیے بھی ضروری ہے۔سادہ ورزش بھی اس کام میں مفیدہو سکتی ہے۔ اس عمل کی وجہ سے دل اچھی طرح خون پمپ کر سکتا ہے اور بلڈ پریشر بھی کنٹرول میں رکھا جا سکتاہے۔

ہلکی سی ورزش ذہنی دباؤ میں کمی کا باعث بھی ہوتی ہے اور جسم کا وزن معمول کے مطابق رہتاہے ۔اس ورزش کے ذریعہ خون میں شکر کی سطح کو متوازن اور بہتررکھنے میں مدد ملتی ہے۔زیادہ چربی دار(فیٹی فوڈ) غذائیں دل اور شریانوں کی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہیں۔ایسی غذائیں ہائی بلڈ پریشر ،ہائی بلڈ کولیسٹرول ،ذیابیطس اور موٹاپے کا سبب بنتی ہیں․․․․․
اگر کسی کے خاندان میں دل کی بیماریاں ہیں تو اس کے لیے ایسے عوامل اور اندیشوں کی طرف خاص طور پر توجہ دینا ضروری ہے۔

مندرجہ بالا کے علاوہ ایک اہم عنصر جس پر قابو پا یا جا سکتا ہے وہ ہے ذہنی دباؤ کیونکہ اس کی وجہ سے ہارمونی نظام اور بلڈ پریشر پر مضر اثرات پڑ سکتے ہیں۔طرز زندگی اور لوگوں کے ساتھ برتاؤ میں مناسب تبدیلیاں لاکر صحت کے لیے مفید نتائج حاصل کیے جاسکیں۔ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دادا،دادی،والد،والدہ،نانا ،نانی والد کے بھائی،بہن والدہ کے بھائی بہن، اپنے اور اپنے بھائی بہنوں کے بارے میں صحت کے تعلق سے معلومات رکھے۔

ان معلومات میں ایسی باتیں بھی شامل رہیں جن کا تعلق پیدائشی نقائص،دل کی بیماریوں ،ذیابیطس ،آنکھوں کے نقائص ، گردوں اور جگر کی بیماریوں ،ہڈیوں اور عضلات کی بیماریوں،نفسیاتی یا دماغی امراض،سانس کے امراض اور جلدی امراض سے ہو۔
ایسی معلومات ناصرف خود کی صحت بلکہ شادیوں وغیرہ کے سلسلے میں بھی ہو سکتی ہیں۔جس قدر معلومات بھی ملیں یہ علاج کے لیے مفید ہوگی۔

کئی بیماریوں موروثی بھی ہوتی ہیں جو خاندان کے ایک فرد یا ایک نسل سے دوسری نسل کو پہنچتی ہیں۔فیملی ریکارڈ ایسی حالتوں میں بیماریوں کوروکنے اور ان کا علاج کرنے میں مدد گار ہو سکتاہے۔ممکن ہے ابتداء میں یہ بات کچھ نا مناسب لگے گی کہ اسلاف کی بیماریوں کو ضبط تحریر میں لایا جائے مگر ان باتوں کو عیوب کی حیثیت ہی کیوں دی جائے اس بیماری کو ضبط تحریر میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی نسل کے لوگوں کو ان بیماریوں سے محفوظ رکھا جائے۔


جب کوئی فرد بیمار ہونے کے بعد معالج سے رجوع کرتاہے تو علاج و تشخیص میں سہولت کے لیے ضروری ہے کہ بیمار کا ایک ذاتی صحت کا تفصیلی تذکرہ بھی موجود ہو،آج کل لوگوں میں اس کی اہمیت کا احساس بڑھ رہا ہے اور کئی لوگ فائل وغیرہ رکھ رہے ہیں لیکن اس بات کو مزید عام کرنے کی ضرورت ہے۔بیمار کی کیفیت کا کوئی بھی جز ،چاہے وہ بیمار کے لیے اہم نہ ہو معالج کے لیے بہت اہم ہو سکتاہے۔اس لیے ہر چھوٹی سی چھوٹی بات کا تذکرہ ہونا چاہیے اور اسے معالج کے علم میں آنا چاہیے۔
تاریخ اشاعت: 2019-12-09

Your Thoughts and Comments