Sehat Mand Jald Tandrusti Ki Alamat

صحت مند جلد تندرستی کی علامت

Sehat Mand Jald Tandrusti Ki Alamat

ڈاکٹر یاسمین شیخ
بیرونی عوامل میں متعدد قسموں کے جراثیم شامل ہیں جو جلد میں داخل ہو کر دانوں ،پھوڑوں اور زخموں کا باعث بنتے ہیں ۔اڑنے والے حشرات جیسے کھٹمل ،جوئیں ،مچھر جلد سے خون چوس کر بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں جیسے ملیریا،چکن گونیا، ڈینگی وائرس وغیرہ وغیرہ ،اسی طرح رینگنے والے حشرات الارض مثلاً سانپ، بچھو،کن کجھو را وغیرہ بھی جلد پر حملہ آور ہوتے ہیں اور اپنا زہر جسم میں داخل کردیتے ہیں ۔

سمندر میں پائی جانے والی جیلی فش جب انسانی جلد سے ٹکراتی ہے تو تمام ڈنک چبھو کر خون چوس لیتی ہے ۔اگر بروقت اس کا علاج نہ ہوتو اپنا زہر انڈیل دیتی ہے ۔اسی طرح کھڑے پانی ،دلدل اور تالابوں میں پائی جانے والی جونک جلد پر چپک کر خون چوس لیتی ہے ۔

(جاری ہے)

شہد کی مکھی کے کاٹنے سے پیلا بخار ہو سکتا ہے ۔سیاہ اور زرد رنگ کے بھنورے کا زہر الرجی کا سبب بن جاتا ہے ۔


وائرس سے ہونے والی بیماریوں کے اثرات
خسرہ ،چکن پاکس اور ہر لپیز کی دونوں اقسام وائرس میں شامل ہیں جو جلد پر چھالوں ،دانوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں ۔وائرس ہی کی وجہ سے جلد پر مسے بھی بن جاتے ہیں ۔
ذیابیطس کے اثرات
اس مرض کے ضمن میں سر فہرست انگلیوں کا پک جانا،ناخن کا سوج کر پک جانا اور پھر شدید تکلیف ہونا شامل ہے ۔

لوگ سمجھتے ہیں کہ پانی کاکام کرنے کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے اور اکثر اسے نظر انداز بھی کردیتے ہیں ۔پیروں کی انگلیاں بھی متاثر ہوتی ہیں ۔انگلیوں کی درمیانی جگہ سرخی مائل ہو کر آس پاس کی جلد دودھیا مائل سفید ہوجاتی ہے اور وضو کرتے وقت جلن محسوس ہوتی ہے ۔اسی طرح جسم پر بار بار خارش، دانے اور پھوڑے بننا ،دوائیں لگانے کے باوجود زخم کا ٹھیک نہ ہونا اہم علامات ہیں ۔

اس کے علاوہ ماہرین ذیابیطس کے مطابق زبان خشک رہنا،مسوڑھوں میں درد،خون رسنا ،دانتوں کا جھڑنا ،پاؤں کی حس کم ہو جانا اور زخم مندمل نہ ہونا اس مرض کی خاص علامات ہیں ۔جس طرح لبلبہ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے بالکل اسی طرح جگر بھی جسم کا نظام منظم رکھتا ہے ۔جگر کی خراب کی صورت میں جلد زردی مائل ہوجاتی ہے ۔خارش اور بار بار پتی اچھلنے کی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے ۔


ہار مونز کی خرابی کے اثرات
ہمارے جسم کو بعض اہم ہار مونز کنٹرول کرتے ہیں جن میں تھائی رائیڈ،ایسٹروجن ،پروجسٹروں ،ٹیٹرون اور پرولیکٹن شامل ہیں ۔ان میں سے کوئی بھی ایک ہارمون اپنا توازن کھو بیٹھے تو جلد پر اس کے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں مثلاً تھلائی رائیڈ ہارمون کی بے ترتیبی سے جلد پر خارش ،پتی اچھلنے ،داغ دھبے نمایاں ہونے اور وزن میں اضافہ کی شکایات پیدا ہوتی ہیں ۔

خواتین کے ہارمونز میں ردوبدل میں بھی چہرے پر داغ اور بال نکلنے ،ایام کی بے ترتیبی یا کمی ،وزن کی زیادتی ،خارش اور خشکی کی شکایت ہوسکتی ہے ۔بعض اوقات بانجھ پن کا سبب بھی یہ ہوتا ہے ۔
گردوں کے امراض کا جلد پر اثر
ہمارے گردے جسم کے فاضل مادوں کو ایک مربوط نظام کے تحت جسم سے خارج کرتے ہیں ۔اگر یہ درست کام کرنا چھوڑدیں تو زندگی خطرے میں پڑجاتی ہے۔

جن افراد کے گردوں کے افعال درست نہ ہوں تو ٹیسٹ کرانے پر یورک ایسڈ کی زیادتی کا شکایت سننے میں آتی ہے ۔اس بیماری کے لئے اینٹی الرجیز ادویہ موزوں نہیں ہوتیں ۔مریض کو باقاعدہ گردوں کا علاج کرانا پڑتا ہے ۔ٹخنوں کا ورم یا پیروں کا ورم بھی اس مرض کی اہم علامت ہے ۔
خون کی کمی اور جلد امراض
متوازن غذا میں پانی پھل ،سبزیاں ،گوشت ،خاص کر کلیجی ،انڈے ،خشک میوہ جات بقدر حیثیت شامل کرتے رہنے سے خون کی کمی نہیں ہوتی لیکن اگر جلد نا خنوں اور آنکھوں کا رنگ زردی مائل ہویا جلد پر تتلی نما سیاہ داغ پڑ جائیں اور دونوں رخساروں سے لے کرناک تک پھیل جائیں ۔

ایام کی خرابی ہوجائے تو بھی جلد فوراً متاثر ہوتی ہے ایسے میں جلدی امراض کے علاوہ فزیشن سے بھی علاج کرانا چاہئے۔اگر وہ آئرن سپلیمنٹ تجویز کریں تو ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ہی استعمال کرنا درست ہوگا۔
احتیاطی تدابیر
گھروں میں جالی دار کھڑکیاں اور دروازے ہونے چاہئیں تا کہ حتی الامکان حد تک مچھروں اور دیگر حشرات سے بچاؤ ممکن ہو رہا ہے ۔


پانی ابلا ہوا پینا ہزار بیماریوں کا سدباب کرتا ہے ۔پانی زیادہ پئیں مگر ڈاکٹر کے مشورے کے ساتھ ۔
روزانہ گھروں کی جھاڑ پونچھ کرانا اور فرش پر چراثیم کش محلول سے پونچھنا لگانا درست عمل ہے ۔
ایک ہی طرح کے کھانے روزانہ کھانے کی عادت نہ ڈالیں ۔
بچوں کو سزیوں اور پھلوں کی طرف متوجہ کرنا چاہئے تا کہ انہیں وٹامنز اور منرلز قدرتی شکل میں مل سکیں۔

اس طرح ان میں قوت مدافعت بھی بڑھے گی۔
دودھ ہر لحاظ سے متوازن غذا ہے لہٰذا بچوں کو بچپن ہی سے دودھ پینے کی عادت ڈال دیں تا کہ عمر کے 30ویں عشرے تک پہنچنے پہنچتے وہ تو انا ہڈیوں کے ساتھ ادھیڑ عمری کا دور گزاریں اور بڑھاپے تک ہڈیوں کے امراض میں مبتلا نہ ہوں ۔
گھروں اور پارکوں اور ورزش کے اصول اپنائیں ۔نرم دھوپ سینکا کریں تا کہ قدرتی طور پر وٹامن Dکا حصول ممکن ہوجائے۔


اینٹی سیپٹک ادویہ اور پٹیا ں گھر میں ذخیرہ ضرورکریں اور جیسے ہی نا گہانی چوٹ لگے زخم کو دھو کر جراثیم کش دوا لگاکے پٹی سے ڈھانپ دیں ۔
انرجی ڈرنکس اور کولاڈرنکس سے ہزار درجے بہتر تازہ پھلوں کے رس ہیں جنہیں وقتاً فوقتاً غذا کا حصہ بناتے رہنا چاہئے اور پھل کھانے سے فائبر دستیاب ہوتا ہے جو ہمیں آنتوں کی بیماریوں سے بچاتے ہیں اور قضائے حاجت کے عمل کو آسان بناتے ہیں ۔

تاریخ اشاعت: 2018-11-29

Your Thoughts and Comments