Sugar Sehat K Liye Khatra - Article No. 1980

شکر صحت کے لئے خطرہ - تحریر نمبر 1980

جمعرات اکتوبر

Sugar Sehat K Liye Khatra - Article No. 1980
دنیا میں نشے کی سب سے بڑی لت‘سفید شکر کی لت ہے۔سفید شکر کی کوئی غذائی حیثیت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس میں کوئی صحت بخش اجزاء شامل ہوتے ہیں۔سفید شکر محض کاربوہائیڈریٹ ہوتی ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوتی۔شکر کے زیادہ استعمال سے ہوشیار رہئے۔ میں ایک ایسے علاقے سے انتخابات میں حصہ لیتا ہوں جو گنے کی کاشت کا علاقہ ہے۔اور سال میں ایک بار جبکہ گنا شکر بنانے والے کارخانوں کے ہاتھوں فروخت کیا جاتا ہے تو میلوں میل تک ایک ناقابل برداشت بو پھیل جاتی ہے۔

یہ بو مغربی اتر پردیش میں بسی رہتی ہے اور وہاں شکر کے کسی بھی کار خانے کے آس پاس رہنا مشکل ہو جاتا ہے۔مجھے اس بات پر تعجب ہوتا تھا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟چنانچہ میں نے یہ جاننے کی کوششیں شروع کر دیں کہ اس پیداواری عمل میں کیا ہوتا ہے؟اور تب مجھے معلوم ہوا کہ اس عمل میں بہت سارے کیمیکلز استعمال کئے جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


گنا اور چقندر‘دونوں سے ہی شکر بنانے کے عمل کے دوران‘انہیں گرم کیا جاتا ہے اور ان میں کیلشیم ہائیڈرو آکسائیڈ(چونا)شامل کیا جاتا ہے جو کہ جسم کے لئے زہریلے اثرات کا حامل ہے۔

یہ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ قدرتی گنے میں سے ان اجزاء کو نکالا جا سکے جو شکر بنانے کے مکمل عمل کے لئے ضروری ہیں۔اس کے بعد چونے کو صاف کرنے کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ استعمال کیا جاتا ہے جو ایک دوسرا زہریلا کیمیکل ہے۔اس کا بہت سا حصہ شکر کے اندر باقی رہ جاتا ہے۔شکر ایک چپکنے والے سیاہ مادے سے ایک صاف رس کی شکل اختیارکر لیتی ہے جسے گرم کیا جاتا ہے تاکہ اس میں سے دیگر نقصان دہ اجزاء کو الگ کیا جا سکے۔

اس کے بعد شکر کو ایک اور کیمیاوی محلول کے ذریعے بلیچ کرکے بالکل سفید بنا دیا ہے۔شکر کو اس شکل میں لانے سے پہلے‘جسے ہم عام طور سے استعمال کرتے ہیں کم از کم تین بار کیمیاوی عمل سے گزرنا پڑتا ہے اور اس وقت تک اس کی غذائی حیثیت ختم ہو جاتی ہے۔اس میں کوئی صحت بخش اجزاء موجود نہیں رہتے اور یہ محض ایک مصنوعی شے بن کر رہ جاتی ہے۔
شکر کو مختلف مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔

شکر کی ایک شکل تو وہ ہوتی ہے جسے عام طور پر ٹیبل شوگر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شکر کو کھانے کی مختلف چیزوں میں ملا کر استعمال کیا جاتا ہے‘جیسے کیک‘آئس کریم‘کینڈی اور ٹھنڈے مشروبات وغیرہ۔شکر ایسی چیزوں کی تیاری میں بھی استعمال ہوتی ہے جن کا تعلق کھانے سے نہیں ہوتا‘جیسے پلاسٹک بنانا‘سیمنٹ کو ملانا اور چمڑا بنانا وغیرہ۔

آپ شکر سے گوند بھی بنا سکتے ہیں۔سفید آٹے میں ٹیبل شوگر ملا دینے سے گوند تیار ہو جاتا ہے۔اب ذرا اندازہ لگایئے کہ یہ آمیزہ آپ کے پیٹ میں جا کر کیا گل کھلاتا ہے۔آپ کی آنتوں میں چپکنے والا مادہ پہنچ جاتا ہے اور کیسی کیسی خرابیاں پیدا کرتا ہے۔
شکر کی تیاری میں استعمال کئے جانے والے کیمیکلز (فاسفورس ایسڈ‘ایسڈ کیلشیم کا سفیٹ اور دیگر)صحت کے لئے مضر ہوتے ہیں۔

شکر میں کاربونک ایسڈ کی بہت بڑی مقدار پائی جاتی ہے جو کہ جسم میں غذائی توازن میں خلل پیدا کر دیتی ہے۔شکر جسم کو تقریباً تمام غذا بخش اجزاء سے محروم کر دیتی ہے۔جن میں خاص طور سے کرومیم،زنک اور کیلشیم جیسی دھاتیں نیز وٹامن سی اور بی کمپلیکس شامل ہیں۔شکر منہ میں‘پیٹ میں‘چھوٹی آنتوں میں اور لبلبے میں غذا کو ہضم کرنے والے انزائمز (enzymes)کو تباہ کر دیتی ہے۔

ہائیڈرو کلورک ایسڈ کی کافی مقدار کے بغیر غذا صحیح طور پر ہضم نہیں ہوتی۔اس لئے ہم خوراک میں موجود غذا بخش اجزاء کو مناسب طور پر اپنے جسم کے اندر جذب نہیں کر پاتے اور اس صورت میں ہمیں بار بار قبض کی شکایت پیدا ہوتی ہے۔
اینٹی ڈائجسٹو شکر(Anti-Digestive)
شکر چھوٹی آنت کے افعال میں گڑ بڑ پیدا کرتی ہے جس کا کام کھانے کو ہضم کرنا ہے‘چھوٹی آنت فالتو مادے کو باہر نکال پھینکتی ہے اور زیادہ اہم بات یہ ہے کہ وہ خوراک میں موجود غذائیت بخش اجزاء کو ہمارا جزو بدن بناتی ہے اور خلیوں کو تقویت بہم پہنچاتی ہے۔

لیکن جب ہم شکر کھاتے ہیں تو ہاضمے کے عمل میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔اس کی وجہ سے خون میں بہت زیادہ کاربن شامل ہو جاتا ہے جس سے جسم کے خلیوں کو مزید نقصان پہنچاتا ہے ۔چونکہ شکر میں فی الحقیقت کوئی غذائیت نہیں ہوتی اور یہ خون میں ایک ایسے زہریلے فالتو مادے کی نمائندگی کرتی ہے جس سے ہمارا جسم نجات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔Lymphatic Systemاس میں سے کچھ فالتو مادے کو پکڑ لیتا ہے تاکہ خون کو صاف کر سکے۔

لیکن جب Lymphatic Systemپر ضرورت سے زیادہ بوجھ پڑتا ہے تو صحت کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ جن سے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے بچا جا سکتا ہے۔بہت زیادہ شکر‘نمک اور اسٹارچ مل کر بھوک بڑھانے کا سبب بن سکتے ہیں ۔یہ بڑھی ہوئی بھوک جسم میں عدم توازن پیدا کرتی ہے۔شکر بہت آہستگی کے ساتھ جسم سے خارج ہوتی ہے۔اس کی وجہ سے پیٹ میں Over-acidicحالت پیدا ہو جاتی ہے جو سارے جسم کو متاثر کرتی ہے۔


بعض دلچسپ حقائق
کینسر‘ذیابیطس‘ہائی بلڈ پریشر اور دیگر بیماریاں بڑی مقدار میں ایسی اشیاء کھانے سے پیدا ہوتی ہیں جو کہ بہت زیادہ acidicہوں۔آپ کا جسم سالانہ کتنی شکر صرف کرتا ہے؟ایک ایسا شخص جو کہ چائے میں شکر نہیں ڈالتا،لیکن وہ یہ نہیں جانتا کہ باقی اور کون کون سی چیزوں میں چھپی ہوئی شکر پائی جاتی ہے۔

شکر بہت سی غذائی اشیاء میں چھپی ہوئی ہوتی ہے جیسے دالیں‘ڈبہ بند غذائی اشیاء‘فروزن فوڈ وغیرہ۔فی الحقیقت‘ ہمارا جسم جتنی شکر صرف کرتا ہے اس کا تقریباً ستر فیصد حصہ‘غذائی اشیاء میں چھپا ہوا موجود ہوتا ہے۔مثال کے طور پر بارہ اونس سوڈے میں چائے کے بارہ چمچے کے برابر شکر موجود ہوتی ہے۔کینڈی بار تو تقریباً ساری کی ساری شکر ہی ہوتی ہے۔پزا کی مٹھاس کو اس میں بہت سارا نمک ڈال کر چھپایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ اس میں بعض ایسے دیگر اجزاء بھی شامل کئے جاتے ہیں جو کہ اس کو ہلکی مٹھاس کا ذائقہ عطا کرتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-15

Your Thoughts and Comments