بند کریں
صحت مضامینمضامینتپ دق،دق وسل یا ٹی بی:

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تپ دق،دق وسل یا ٹی بی:
ایسے مریضوں کی رہائش کا الگ انتظام کرنا کیونکہ یہی وہ مریض ہوتے ہیں جو مرض پھیلانے کا زیادہ تر باعث ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو بی سی جی(BCG) کا ٹیکہ لگوانا اور بالخصوص ان ملازمین کو جو دق وسل کے ہسپتالوں میں کام کررہے ہوں
تپ دق،دق وسل یا ٹی بی:
اس موذی مرض سے بچنے کے لیے جو تدابیر اختیار کی جاسکتی ہے ان کا قصہ بڑا طویل ہے اور اس میں حکومت کے محکمہ صحت کو بھی بڑا دخل حاصل ہے مثلاً دودھ کی فروخت پر ضبط رکھنا گوشت اور مذبع خانوں کی معائنہ کرتے رہنا،رہائشی مکانوں کی دیکھ بھال شہروں قصبوں دیہاتوں اور دیگر قسم کی آبادیوں اور کارخانوں وغیرہ میں صفائی کے انتظامات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا آخر میں لیکن سب زیادہ اہم مرض کے ابتدائی درجے میں اس کی تشخیص اور ایسے مریضوں کی رہائش کا الگ انتظام کرنا کیونکہ یہی وہ مریض ہوتے ہیں جو مرض پھیلانے کا زیادہ تر باعث ہوتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ بچوں کو بی سی جی(BCG) کا ٹیکہ لگوانا اور بالخصوص ان ملازمین کو جو دق وسل کے ہسپتالوں میں کام کررہے ہوں۔بس یہ مسئلہ طبی ہی نہیں بلکہ معاشی اقتصادی اور ثقافتی بھی ہے اور صرف افراد ہی نہیں بلکہ حکومت بھی اس کی ذمہ داری ہے اس لیے افراد کے تعاون اور حکومت کی توجہ سے ہی احتیاطی طور پر مختلف حفاظتی تدابیر پر عمل کیا جاسکتا ہے نامکمل اور بددلی کی کوششوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔
جو حال سلسلے میں جو پہلا قدم اٹھایا جانا چاہیے وہ یہ ہے کہ جن طریقوں سے یہ مرض پھیلتا ہے وہ عوام کے ذہن نشین کرائے جائیں۔
عام طور پر یہ مرض اس طرح پھیلنا ہے:
۱۔کھلی ہوا میں کھانسنے سے جب تھوک کے چھوٹے چھوٹے ذرات جن کے اندر دق کے جراثیم ہوتے ہیں بے روک ٹوک ہوا میں پھیل جاتے ہیں اور سانس کے راستے دوسرے لوگوں کے پھیپھڑوں میں بھی پہنچ جاتے ہیں۔
۲۔اس بلغم سے جو بازاروں،باغات اور گاڑیوں وغیرہ میں یا ایسے مقامات پر جہاں لوگوں کی آمد و رفت ہو پھینک دیا جاتا ہے یہ بلغم خشک ہو کر ہوا میں اُڑتا ہے اور سانس کے ذریعے دوسرے لوگوں کے پھیپھڑوں میں پہنچ کر اس موذی مرض کو پیدا کردینے کا باعث بن جاتا ہے۔
۳۔ایسی گائے یا بھینس کا دودھ پینا جو اس مرض میں مبتلا ہو یا ایسے دکان دار سے کھانے پیمے کی اشیا خرید کر استعمال کرنا جو اس مرض میں مبتلا ہو۔مندرجہ بالا بیان سے نظر آجائے گا کہ اس مرض کو پھیلنے سے روکنے کے لیے کس نہج پر مصروف کار ہونا چاہیے اولا اس مرض کے مریض کا مناسب علاج اور اس کی دیکھ بھال دوسرے ان لوگوں کی حفاظت جو اس سے ملتے جلتے رہتے ہوں اور تیسرے غیر مناسب حالات و ماحول کی اصلاح۔ جہاں تک مریض کا تعلق ہے اس کی ذاتی صفائی سب سے زیادہ اہم ہے اگر وہ مرد ہے تو اس کی مونچھوں اور داڑھی کو منڈا دینا چاہیے کیونکہ باوجود کوشش کے بالوں کو منہ اور ناک کے قریب ہونے کے باعث ان جراثیم سے پاک نہیں رکھا جاسکتا کھانسی پر ضبط قائم کرنے کی کوشش کرے اور کھانسنے یا چھینکتے وقت اپنا منہ اور ناک رومال یا کسی اور مخصوص کپڑے سے ڈھانپ لیں بہتر تو یہ ہوگا کہ نہ تو ہاتھ ہی رکھے جائیں اور نہ ہی کوئی رومال یا کپڑا بلکہ کاغذی رومال استعمال کیاجائے جس کو استعمال کے بعد ان کو فوراً دھو کر اچھی طرح پاک صاف کرلیا جائے اگر کپڑا یا رومال استعمال کیا گیا ہو تو اسے پانی میں ابال لیں۔جن لوگوں میں مرض کا غلبہ ہو اور بلغم کافی مقدار میں آرہا ہو انہیں چاہیے کہ شیشے کی بنی ہوئی کھلے منہ والی بوتل اپنے پاس رکھیں اور اس بوتل میں کوئی جراثیم کش محلول رکھیں جب بلغم آئے۔اُسی بوتل کے اندر تھوکیں اگر بلغم معمولی مقدار میں آرہا ہو یا کاغذ کا رومال استعمال کرنے یا شیشے کی بوتل اپنے پاس رکھنے میں عار محسوس ہوتی ہو یا اسے طبعاً پسند نہ کیا جاتا ہو تو ایسے مریضوں کو چاہیے کہ کپڑے کا رومال ہی رکھیں لیکن اپنے پاس ایک چھوٹا سا تھیلا ہی رکھیں جس میں رومال رکھ دیا جایا کرے جس میں تھوکا گیا ہو تاکہ گاہے بگا ہے اس تھیلے کو ابال کر جراثیم سے پاک وصاف کرلیا جائے یہ اچھی طرح یاد رکھیں کہ بلغم کو ادھر ادھر پھینکتے رہنا دوسروں کے لیے بے حد مضر ہوتا ہے اوربلغم کا نگل لینا مریض کے لیے زہر قاتل کا حکم رکھتا ہے کیونکہ بلغم کے نگل جانے سے انتڑیوں میں دق پیدا ہوجاتی ہیں اور پھر یہ ایسا مرض ثابت ہوتا ہے جس پر قابو پانا بے حد مشکل ہوجاتا ہے نیز پیشاپ،پاخانہ اور بلغم جب خشک ہوجاتے ہیں تو یہ مرض پھیلانے کا ایک مستقل ذریعہ بن جاتے ہیں۔اس لیے ان کو کسی جراثیم کش محلول میں ملائے بغیر نہ پھینکیں بستر اور دوسرے کپڑوں کو اکثر تیز دھوپ ڈال دیا کریں مریض کے تولیے اور کپڑے بھی علیحدہ ہی رکھیں۔ مریضوں کے کھانے پینے کی چیزیں کو علیحدہ برتنوں میں رکھیں کھانے پینے کی چیزیں بیچنے والے دکاندار یا جہاں یہ چیزیں تیار کی جاتی ہوں وہاں دق کے مریض ملازم نہ رکھے جائیں۔ایسے مریضوں کا کمرہ بھی علیحدہ ہی ہونا چاہیے اور وہ ایسے رُخ پر ہو تو بہتر ہے کہ سردیوں کے موسم میں اس کے اندر دھوپ آسکے اور ہوا کی آمدورفت بھی خوب رہتی ہو ۔اور ایسا کمرہ وہ ہوگا جس کی کھڑکیوں کا رخ شمالاً جنوباً ہوں کھڑکیاں کافی بڑی ہونی چاہیں اوروہ ہر وقت کھلی رہیں ۔دیواروں پر گاہے بگاہے سفیدی کراتے رہیں،کمرے کا فرش ہموار ہونا چاہیے تاکہ اس کی صفائی میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔مریض کے استعمال کی ہر وہ شے جلادیں جس پر زیادہ لاگت نہ آئے اگر مریض کا مکان ایسا نہ ہو بہتر ہوگا کہ اسے سینی ٹوریم بھیج دیا جائے۔ مدقوق مائیں اپنے بچوں کو دودھ نہ پلائیں اور ان کے بچوں کو زیادہ دیر تک والدین کے پاس ٹھہرے بھی نہ دیں ان کو اپنے ساتھ سلانے یا کھلانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جس مکانوں میں اس قسم کی علیحدگی ممکن نہ ہووہاں کے بچوں کو بورڈنگ ہاؤس وغیرہ میں داخل کرادیں اور گود کے بچے کو کسی دایہ کے سپرد کردیں اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پانچ سال سے کم عمر کے بچے اس مرض کا زبردست رجحان رکھتے ہیں ان کو خواہ مخواہ چوسنا چاٹنا چاہیے ،بالخصوص ان لوگوں کو یا رشتہ داروں کو جن کے متعلق گمان ہوگا کہ وہ مدقوق یاس مرض میں مبتلا رہ چکے ہوں جو بچے گھٹنوں کے بل چلتے ہیں ان کے ہاتھ اس گرد و غبار سے اٹ جاتے ہیں جس کے اندر اس مرض کے جراثیم ہوتے ہیں اور پھر وہی ہاتھ یا انگلیاں وہ اپنے منہ میں ڈال لیتے ہیں اور یوں بھی وہ اس مرض کا شکار ہو جاتے ہیں اسی سبب سے بچوں کو چوسنی منہ میں ڈالے رکھنے کی عادت نہیں ڈالنی چاہیے اور نہ ہی انگوٹھا چوسنے کی ان کے لیے جو دودھ ابالا گیا ہو اسے پھونکیں مار مار کر ٹھنڈا نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی کھانے پینے کی دیگر اشیا پر پھونکیں ماریں ورنہ پھونکیں مارنے والے کے جراثیم ان کے کھانے پر آکر جم جائیں گے مدقوق اشخاص کو اس وقت تک شادی نہیں کرنا چاہیے جب تک ان کو تندرستی کا پروانہ یا سرٹیفیکیٹ حاصل نہ ہوجائے اور ان کی مالی حالت اس قدر مستحکم نہ ہوجائے جس سے وہ اپنے لیے اور دوسروں کے لیے مصیبت کا باعث نہ بن جائیں مدقوق عورتوں کو تو حمل ہونا ہی نہیں چاہیے۔جس گھر میں مدقوق موجود ہو اس کے گھرانے کے دیگر افراد کا طبی معائنہ گاہے بگاہے ہوتا ہی رہنا چاہیے چونکہ یہ مرض کھانے پینے کی اشیا سے بھی پھیلتا ہے بالخصوص دودھ سے لہٰذا بچوں کو دودھ میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہوگی۔چونکہ ہمارے ملک میں ابھی تک دودھ دینے والے جانوروں پر کوئی ضبط نہیں ہے او ر نہ گوالوں پر کوئی پابندیاں عائد ہیں نیز دودھ دہی اور حلوائیوں کی دکانوں پر جس شرمناک غلیظ اور گندے ماحول میں سر بازار دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیا فروخت ہوتی ہیں اسے دیکھ کر بلا خوف تردید کہا جاسکتا ہے کہ بچوں کو کم سے کم بازاری دودھ پلایا جائے اور اسے ایک دفعہ نہیں بلکہ بار بار ابالنے کے بعد ہی استعمال کیا ۔جو عورتیں مدقوق خاندانوں سے تعلق رکھتی ہوں انہیں جلد جلد حاملہ ہونے اور بچے کو دیر تک دودھ پلاتے رہنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔مدقوق قسم کے مردوں کو حقہ سگریٹ شراب نوشی اورکثرت جماع سے بازار رہنا چاہیے کیونکہ اس سے پھیپھڑوں اور جسم کی قوت کمزور پڑجاتی ہیں۔ مقام رہائش کی آب و ہوا زمین کی حالت یعنی وہ خشک رہتی ہے یا غم دار اور وہاں کا ماحول ان کی صحت پر بہت بڑا اثر ڈالتا ہے ان کے لیے بہترین مکان وہ ہوگا کو ریتلی یا پتھریلی زمین پر بنایا گیا ہو سطح سمندر سے خاصی بلندی پر ہو اس کی کھڑکیاں اور دروازے شمال مشرقی سرد ہواؤں کے رخ پر ہوں اور بہترین علاقہ وہ ہوگا جہاں دھوپ خوب پڑتی ہو اور موسموں کے درجہ حرارت کے درمیان بہت زیادہ تقاوت نہ پایا جاتا ہو یعنی نہ بہت زیادہ سردی ہوتی ہو نہ زیاد گرمی۔ آخر میں لیکن سب سے زیادہ اہم اپنے دوستوں اور اپنے رشتے داروں کی نفسیات کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں ان کے ہمدردانہ اور مشفقانہ لیکن نقصان دہ مشوروں کا مقابلہ کرنے کے لیے اکثر بڑے صبر و تحمل اورمناسب اقدامات کی ضرورت ہوگی ماہرین کے مشوروں کے بغیر اور کسی مشورہ قبول نہ کریں چنانچہ اس مرض کی تشخیص اور جلد بازی سے کام نہ لیں البتہ جب ایک بار فیصلہ ہوجائے کہ یہ مرض موجود ہے تو پھر ادھورا اور بددلی سے علاج کرانا نہ صرف سود ہی ہوگا بلکہ نقصان دہ بھی مریض یا اس کے لواحقین کو مرض کی نوعیت کے متعلق دھوکے میں رکھنا اور اصلیت کو ظاہر نہ کرنا یا یہ کہہ کر ڈال دینا کہ سینے پر بلغم جما ہوا ہے اور بس گویا مرض کے ازالہ میں ایک اور موقع کو کھودینا ہوگا کیونکہ اس مرض کے کامیاب علاج میں مریض اور اس کے لواحقین کا تعاون بے حد ضروری ہوتا ہے اوت یہ بھی جتلا دینا ضروری ہے کہ گھر کے دیگر افراد کی جسمانی اورذہنی صحت کا بھی خیال رکھیں کیونکہ باوجود احتیاطوں کے یہ جراثیم جو ہر جگہ اور ہر وقت موجود ہوتے ہیں کبھی بھی جسم اور ہر وقت موجود ہوتے ہیں کبھی جسم پر غلبہ پاسکتے ہیں اگرچہ انسان کی طبیعت جو قدرت کی طرف سے ایک بے جا عطیہ ہے ان کو فوراً تباہ کردیتی ہے لیکن جب یہ کمزور ہوجائے تو ان کا غلبہ پالینا یقینی ہوجاتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے