بند کریں
صحت مضامینمضامینٹی بی کا خاتمہ

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ٹی بی کا خاتمہ
ایک اور کامیابی
اُم زینب :
ٹی بی دنیا کا دوسرا بڑا مہلک مرض ہے ۔ پاکستان میں اس بیماری سے سالانہ پانچ لاکھ انسان متاثر ہوتے ہیں۔ ان میں سے 60ہزار موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔ ٹی بی کاسبب Mycobacteriuntuberculosisنامی جراثیم ہے جو سب سے زیادہ انسان کے پھیپھڑوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ اس مرض کاعلاج طویل ضرور ہے لیکن ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دواؤں کے استعمال سے اس بیماری سے مکمل نجات دلواسکتا ہے ۔
حال ہی میں ایک نئے طریقہ علاج سے دواؤں کے خلاف مزاحمت والی ٹی بی کے علاج میں 82فیصد کامیابی ملی ہے ۔ اس بات کاانکشاف لیورپول میں منعقدہ پھیپھڑوں کی صحت کی عالمی کانفرنس میں کیا گیا یہ دوافریقہ کے نوممالک میں آزمائی گئی جس کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس میں ٹی بی کے ایسے 1,006مریضوں کو شامل کیاگیا جو ٹی بی کی طاقتور ترین دوارفامپیسن سے بھی ٹھیک نہیں ہورہے تھے۔ اُن میں سے 734 کیسز میں بہتری کے آثار تھے جب کہ بقیہ مریضوں میں سے 54نے دوا نہیں کھائی، 49نے واپس آکر اپنی کیفیت نہیں بتائی اور 82مریض ہلاک ہوگئے ۔
انٹرنیشنل یونین اگینسٹ ٹیوبرکلوسس افریقا کے لیے سربراہ ویلری شو بیل نے مختلف دواؤں کے مجموعے سے بننے والی اس نئی دوا کو ایک کامیاب نسخہ قرار دیا ہے۔ اسی تنظیم کی ایک اور ماہر ڈاکٹر پاولہ فیوجی وارا کے مطابق اس دوا کو دوسرے کئی مقامات پر آمایا گیا تو ایسے ہی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور اسے اب تک دوا سے ناقابل علاج ٹی بی کا سب سے مئوثر طریقہ علاج کہاجاسکتا ہے ۔
اس طریقہ علاج میں افریقہ کے دس ممالک میں سخت جان ٹی بی کے شکار سینکڑوں مریضوں کو سات مختلف دواؤں کا مجموعہ استعمال کرایا گیا۔ تین دوائیں ابتدائی چارماہ تک دی گئیں جب کہ باقی چار دوائیں اگلے نوماہ تک دی گئیں۔ توقع ہے کہ اس سے ٹی بی کے ان مریضوں کے علاج کی راہ کھلے گی جو اپنے علاج سے مایوس ہوچکے ہیں۔ ٹی بی کی اس کیفیت کوایم ڈی آر ٹی بی کہاجاتا ہے ۔ اس کے سب سے زیادہ مریض بھارت، روس اور چین میں ہیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے