بند کریں
صحت مضامینمضامینتین بیماریاں

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
تین بیماریاں
ایک ہی دوا کے ذریعے علاج ممکن
غلام زہرا :
بیمارافراد کی اکثروبیشتر یہ شکایت ہوتی ہے کہ دوائیاں کھا کھا کے وہ بے بس اور کنگال ہوگئے ہیں۔ جیب اور صحت دونوں ہی ساتھ چھوڑ رہی ہیں۔ بیماریوں پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا ہے کہ دنیا کے غریب ممالک میں ایک بڑی آبادی کو متاثر کرنے والی تین بیماریوں کا ایک ہی دوا کے ذریعے علاج ممکن ہوسکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق چاگاز، لیش اور نیند نہ آنے کی تین بیماریوں کا ایک ہی دوا سے علاج ممکن ہے۔
یہ تینوں مرض طفیلی جراثیموں کے جسم میں داخل ہونے سے پیدا ہوتی ہیں اور زیادہ تر غریب ممالک کی آبادی کو متاثر کرتی ہیں۔
چارگاز کامرض کھٹملوں سے انسانوں کو منتقل ہوتا ہے اور اس کے مریض کو نیند بہت آتی ہے۔ لیش کے مریض کو بڑے بڑے پیپ بھرے پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہیں اور یہ بیماری ریت میں پائی جانی والی مکھیوں سے پھیلتی ہے۔
ان تین بیماریوں سے ہر سال دو کروڑ افراد متاثر ہوتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق پچاس ہزار افراد ان بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیں۔
سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ دوا جانوروں پر 30لاکھ باراستعمال ہو چکی ہے اور انسانوں پر تجربات شروع کرنے سے پہلے اس دوا کے حفاظتی ٹیسٹ کیے جارہے ہیں۔ دنیا کے غریب آبادی کو متاثر کرنے والی ان بیماریوں کے لیے بننے والی اس دوا کو بہت حوصلہ افزاپیش رفت قراردیا جارہا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ لیش، چاگاز اور نیند نہ آنے کی بیماریاں ایک جیسے طفیلی جراثیموں کے جسم میں داخل ہونے سے لاحق ہوتی ہیں اور اُمید کی جاسکتی ہے کہ ایک ہی دوا سے اس کا علاج ممکن ہوسکے گا۔
اس سے پہلے ان بیماریوں کے علاج ادویات موجود ہیں لیکن وہ مہنگی ہیں اور اُن کے جسم پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یونیورسٹی آف یارک سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر المار مے برگ کے مطابق ” یہ دوا تینوں جراثیموں کو بیک وقت ٹارگٹ کرسکتی ہے۔ ایسی بیماریوں پر زیادہ رقم اس لیے خرچ نہیں کی جاتی کہ اس سے متاثر ہونے والے افراد غریب ممالک میں رہتے ہیں۔

(1) ووٹ وصول ہوئے