Thalassemia - Article No. 2222

تھیلیسیمیا - تحریر نمبر 2222

جمعرات 12 اگست 2021

Thalassemia - Article No. 2222
ڈاکٹر فوزیہ سعید
تھیلیسیمیا(Thalassemia) ایک موروثی بیماری ہے یعنی یہ والدین کی جینیاتی خرابی کے باعث اولاد کو منتقل ہوتی ہے۔اس بیماری کی وجہ سے مریض کے جسم میں خون کم بنتا ہے۔جینیاتی اعتبار سے تھیلیسیمیا کی دو بڑی قسمیں ہیں جنہیں الفا تھیلیسیمیا اور بیٹا تھیلیسیمیا کہتے ہیں ۔نارمل انسانوں کے خون کے ہیموگلوبن میں دو الفا Alpha اور بیٹا Beta زنجیریں Chains ہوتی ہیں۔

گلوبن کی الفا زنجیر بنانے کے ذمہ دار دونوں جین (Gene) کروموزوم نمبر 16 پر ہوتے ہیں جبکہ بیٹا زنجیر بنانے کا ذمہ دار واحد جین HBB کروموزوم نمبر 11 پر ہوتا ہے۔الفا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیموگلوبن کی الفا زنجیر Chainalpha کم بنتی ہے جبکہ بیٹا تھیلیسیمیا کے مریضوں میں ہیمو گلوبن کی بیٹا زنجیر Beta Chain کم بنتی ہے۔

(جاری ہے)

اس طرح خون کی کمی واقع ہو جاتی ہے۔

مرض کی شدت کے اعتبار سے تھیلیسیمیا کی تین قسمیں ہیں۔شدید ترین قسم تھیلیسیمیا میجر کہلاتی ہے اور سب سے کم شدت والی قسم تھیلیسیمیا مائینر کہلاتی ہے۔درمیانی شدت والی قسم تھیلیسیمیا انٹر میڈیا کہلاتی ہے۔ایک طرح کا تھیلیسیمیا کبھی بھی دوسری طرح کے تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا یعنی الفا تھیلیسیمیا کبھی بھی بیٹا تھیلیسیمیا میں تبدیل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی بیٹا کبھی الفا میں۔

اسی طرح نہ تھیلیسیمیا مائینر کبھی تھیلیسیمیا میجر بن سکتا ہے اور نہ ہی میجر کبھی مائینر بن سکتا ہے ۔اسی طرح ان کے مرض کی شدت میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی۔
ایسا ہی ایک تھیلیسیمیا کا مریض علی حیدر ہے،جو میرے پاس کونسلنگ کیلئے آتا ہے اُس نے مجھے بتایا کہ جب میں چار سال کا تھا۔تو پتہ چلا مجھے جب میری عمر 2 ماہ تھی تو پتہ چلا کہ میں تھیلیسیمیا میجر کا مریض ہوں۔

چار سال کی عمر میں یہ تو معلوم نہیں تھا کہ یہ کتنا خطرناک ہے اور کیوں ہوا۔لیکن مجھے صرف اتنا یاد ہے۔کہ مجھے سکول سے اکثر گھر بھیج دیا جاتا تھا۔اور میں امی کے ساتھ کبھی ابو کے ساتھ ہلال احمر کے تھیلیسیمیا سینٹر میں آتا اور ادھر مجھے خون لگایا جاتا۔جب خون کی بوتل لگ جاتی تو میں خود کو بہتر سمجھتا۔اور پھر سے سکول جانے لگتا۔میں پڑھنا چاہتا تھا۔

کچھ بننا چاہتا تھا۔میرا بھی ایک خواب تھا۔ایک دن ڈاکٹر بنوں۔مگر صحت اکثر خراب رہنے کی وجہ سے مستقل تعلیم حاصل کرنا مشکل تھا۔میرے لئے ہر ہفتے بعد مجھے ایک بار تھیلیسیمیا سینٹر جانا بھی ضروری تھا۔کیونکہ عطیہ خون لگوانا بھی ضروری تھا۔کیونکہ ماما کہتی تھی میں ایک اسپیشل بچہ ہوں۔جس کو کھانا کھانے کے ساتھ ساتھ خون کی بھی ضرورت ہے۔اور ماما میرا بہت خیال رکھتی تھی۔

یہ ان کی ہی مہربانی ہے کہ میں نے ICS (انٹرمیڈیٹ آف کمپیوٹر سائنس) کر لیا۔
اب میری عمر 19 سال ہو گئی ہے۔اب مجھے خون کی ضرورت کبھی ایک ماہ بعد کبھی پندرہ دن کے بعد پڑتی ہے۔اب میں ماما کے بغیر خود ہی سینٹر آکر خون لگوا لیتا ہوں۔اب مجھے سمجھ آچکی ہے کہ ماما مجھے اسپیشل کیوں کہتی تھی۔جب جب میں بڑا ہو رہا ہوں۔اپنی صحت کا خیال رکھنا سیکھ گیا ہوں۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے۔مجھے عطیہ خون بار بار لگنے سے سائیڈ ایفیکٹ آرہے ہیں۔ان کا بھی علاج کرا رہا ہوں۔اس کے باوجود میں اب جان چکا ہوں۔میری زندگی ہوا میں رکھی شمع کی طرح ہے۔جو کسی بھی وقت کسی ایک ہوا کے جھونکے سے بھج سکتی ہے۔میں اور میرے جیسے ہر سال پیدا ہونے والے 7000 بچے روز مرتے اور روز جیتے ہیں۔ہمارے لئے کونسلرز رکھے جاتے ہیں۔جو ہماری کونسلنگ کرتے ہیں۔

شائد ہم انہی لوگوں کی وجہ سے ہی جینا سیکھ جاتے ہیں۔مگر جوں جوں بڑے ہوتے ہیں زندگی سے پیار ہوتا جاتا ہے ۔ اور ہمارے باقی کے سینٹر کے بچے دوست بن جاتے ہیں۔پھر یہ سوچ کر اور بھی دل جلتا ہے کہ ہم نے آخر ایک دن چلے جانا ہے۔ہم ماں کے پیٹ سے یہ بیماری لے کر پیدا ہوئے ہیں۔جس کا علاج عطیہ خون ہے یا پھر Bone Marrow۔ہم ان لوگوں کے بھی شکر گزار ہیں ۔

جو ہم کو جانتے بھی نہیں مگر ہمارے لئے عطیہ خون دیتے ہیں۔ہم ان کے بھی مشکور ہیں جو ہمارے لئے اس کا بندوبست کرتے ہیں۔ عطیہ خون کے کیمپ لگاتے ہیں۔خون کی سکرینگ کرتے ہیں۔خون لگاتے ہیں۔ساتھ ساتھ ہمارے کھانے پینے کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ ہمارا دل بہلانے کے لئے اکثر پروگرام کئے جاتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ ہمارے پہ نفسیاتی اثرات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

کبھی کبھی تو ہمارے اپنے ہی ہمارا دل توڑ دیتے ہیں۔لوگ ہم کو ریجیکٹ کر دیتے ہیں۔ہمارے ماں باپ اکثر ہماری وجہ سے آپس میں جھگڑا کرتے ہیں۔بچوں کی ماؤں کو صرف اس لئے طلاق ملی کہ ان کے تین تین بچے تھیلیسیمیا کے مریض تھے۔جب ہم کو اس بات کی سمجھ آئی تو بہت افسوس ہوا۔ لوگوں کی جہالت پہ اکثر دل رو دیتا ہے۔پھر ماہر نفسیات نہ صرف ہماری بلکہ ہمارے ماں باپ کی بھی کونسلنگ کرتے ہیں۔

کونسلرز سے ہم کم از کم اپنے دل کی بات کر لیتے ہیں۔یہ ایک بڑے سمجھدار تھیلیسیمیا کے بچے کی سچی کہانی ہے۔
تھیلیسیمیا کے بچوں کے نفسیاتی مسائل:
خوف:
یہ بچے عام بچوں سے زیادہ حساس ہوتے ہیں کیونکہ اپنی بیماری کو لے کر ایک خوف میں مبتلا ہوتے ہیں۔وہ خوف ایک دن دنیا سے چلے جانے کا ہوتا ہے۔جانا تو ایک دن سب نے ہے،مگر جب کوئی کسی موذی مرض میں مبتلا ہو جاتا ہے تو جوں جوں بیماری بڑھتی جاتی ہے وہ مایوس ہوتا جاتا ہے۔


دوسرے بچوں سے مختلف:
ان بچوں کی شکل صورت صحت اور رنگت کی وجہ سے دوسرے بچوں سے کمزور ،پیلے پڑھے ہوتے ہیں۔عام بچوں سے صحت میں بہت کمزور ہوتے ہیں۔قد بہت کم رہ جاتا ہے۔نقش بگڑ جاتے ہیں۔دانت بعض اوقات اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ باہر دکھائی دیتے ہیں،ہڈیاں نمایاں نظر آتی ہیں۔یہ وہ بچے ہیں جو ضرورت سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اور جانتے ہیں ان کی زندگی بہت لمبی نہیں پھر بھی اپنی بیماری سے بہادری سے مقابلہ کرتے ہیں۔


کونسلنگ:
ان بچوں کی روزانہ کونسلنگ کی جاتی ہے۔ان کے حوصلے بلند کئے جاتے ہیں۔ان کے لئے عطیہ خون کے کیمپ کئے جاتے ہیں۔ان کو عام زندگی میں خوش رکھنے کے مختلف پروگرام کئے جاتے ہیں۔جن میں ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ان کے ماں باپ کی بھی کونسلنگ کی جاتی ہے۔کیونکہ اکثر ماں باپ کے تین تین بچے تھیلیسیمیا کے مریض ہیں۔وہ بھی ان کا علاج کراتے کراتے تنگ آجاتے ہیں۔

ماہر نفسیات ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اسی لئے ہر تھیلیسیمیا سینٹر میں ماہر نفسیات بھرتی کئے جاتے ہیں۔
احتیاط:
احتیاط یا پرہیز علاج سے بہتر ہے۔اگر لوگ شادی سے پہلے ایک تھیلیسیمیا کا ٹیسٹ کرا لیں۔تو بہت سے ایسے بچے پیدا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔دوسرا بار بار ایک ہی خاندان میں شادیاں نہ کی جائیں تو بھی ہم اس صورت حال سے بچ سکتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے اس کا قانون پاس کرے۔اور نہ صرف قانون بنایا جائے۔بلکہ زبردستی اس پہ علم بھی کرایا جائے۔تاکہ ہم اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کو بچا سکیں۔اس کے لئے تمام پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بھی مل کر آگاہی کی مہم چلانی ہو گی۔ورنہ ہم بیمار معاشرے کی تخلیق سے نہیں بچ سکیں گے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہم سب کا بھی فرض ہے۔ہم احتیاط اور پرہیز ضرور کریں۔
تاریخ اشاعت: 2021-08-12

Your Thoughts and Comments