Thyroid Ya Butterfly Gland .. Beytojhi Khatarnak Sabit Ho Sakti Hai

تھائی رائیڈ یا بٹر فلائی گلینڈ بے توجہی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے!

جمعہ اکتوبر

Thyroid Ya Butterfly Gland .. Beytojhi Khatarnak Sabit Ho Sakti Hai
یہ ذیابیطس کے بعد سب سے عام غدودی مرض ہے اور اب تک اس کی صحیح طور پر تشخیص بھی نہیں ہو سکی ہے۔خالدہ ہمیشہ سے ایک صحت مند اور خوش اخلاق و ملنسار خاتون کی حیثیت سے اپنی سوسائٹی میں معروف مقام رکھتی تھی۔اس میں کام کرنے کی بے پناہ صلاحیت تھی۔وہ بیک وقت ماں‘بیوی اور استاد کے فرائض کو بخوبی ادا کررہی تھی۔مگر جب وہ 37برس کی عمر کو پہنچی تو حالات بدلنے لگے۔

وہ ہر وقت تھکی تھکی سی رہنے لگی۔اس کے ایام بھی زیادہ ہونے لگے اور ان کا دورانیہ بھی بڑھ گیا ۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس کی پسلیوں میں تکلیف اور کھنچاؤ بھی رہنے لگا۔
ان پریشانیوں کے علاوہ وزن میں زیادتی اور بالوں کے گرنے جیسی تشویشناک صورتحال نے خالدہ کو خوفزدہ کردیا۔اس نے اپنے ڈاکٹر سے رجوع کیا۔

(جاری ہے)

ڈاکٹر نے ہائپو تھائی رائیڈ کا خدشہ ظاہر کیا اور بلڈ ٹیسٹ نے اس خدشے کو صحیح ثابت کر دیا۔

خالدہ کا تھائی رائیڈ بہت ہی کم مقدار میں ہارمون بنا رہا تھا اور تقریباًغیر متحرک ہو چکا تھا۔پھر اس کے بعد خالدہ کا باقاعدہ علاج شروع ہو گیا۔
باقاعدہ علاج سے خالدہ کی جسمانی طاقت وتوانائی میں اضافہ ہونے لگا اور وہ نارمل ہوتی چلی گئی۔اس کا اضافی وزن کم ہو گیا اور تکلیف اور کھنچاؤ ایک ساتھ غائب ہو گئے۔
خالدہ خوش قسمت تھی کہ اس کے مرض کی تشخیص ابتداء ہی میں کر لی گئی۔

کچھ مریض برسوں اس مرض میں مبتلا رہتے ہیں اور ایک ڈاکٹر سے دوسرے کے پاس چکر لگاتے رہنے سے بھی کچھ نہیں ہوتا۔
ہائپو تھائی رائیڈ ازم
ہمارے یہاں یہ مرض بہت عام ہے۔ذیابیطس کے بعد سب سے زیادہ عام مرض یہی ہے۔اس کی ابتدائی علامات عام طور پر نظر انداز کردی جاتی ہیں۔مردوں کے مقابلہ میں خواتین اس مرض میں زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔

تھائی رائیڈ ایک چھوٹا سا تتلی کی شکل کا غدود ہوتاہے اسے عام اصطلاح میں بٹر فلائی گلینڈ بھی کہتے ہیں یہ غدہ گردن کی درمیانی لائن اور سانس کی نالیwindpipeکے درمیانی حصے میں پایا جاتاہے۔اس کاکام خون میں سے آئیوڈین کو نکال کر دو قسم کے ہارمونز بناناہے۔
ایک (تھائی راکسن)
اور دوسرا(ٹرائی آئیڈ وتھائی رونن)
ان ہارمونز کا کام جسم میں توانائی کی پیداوار کو باقاعدہ رکھتے ہوئے اسے ہر خلیئے اور جسم کے ہر عضو میں اس کے ترتیب وار استعمال کے عمل کو متوازن رکھتا ہے۔

وہ غذاجس میں آئیوڈین کی کمی ہو ہائپوتھائی رائیڈاز م کا عام سبب ہے۔ہمارے یہاں ہائی پوتھائی رائیڈ کی سب سے بڑی وجہ یہی ہوتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ 3سے5فیصد خواتین بچے کی پیدائش کے بعد اس مرض میں مبتلا ہوجاتی ہیں مگر یہ کیفیت عارضی طور پر ہوتی ہے کچھ ماؤں کو ہارمونز تھراپی کی بھی ضرورت پڑجاتی ہے۔یہ بیماری سر اور گردن کی شعاعی عکس بندی یعنی ایکسرے یا الٹراسونک شعاعوں یا لیزر کے ذریعے لیے جانے والے اعضاء کے عکس‘وائرس سے ہونے والے بخار‘موروثی شکایات اور بعض ادویات سے بھی جنم لیتی ہے۔

وجہ کچھ بھی ہو ‘ہائپو تھائی رائیڈ ازم کے سبب فوری طور پر جسم کی توانائی میں کمی آجاتی ہے۔
واضح علامات میں تھکن کی شکایت ‘دھیان کا نہ لگنا‘یادداشت کی کمی‘چہرے پر سوجن اور وزن میں اضافہ شامل ہیں۔اس مرض میں مبتلا مریض کی سردی کو برداشت کرنے کی قوت میں بھی کمی آجاتی ہے اور وہ معمولی سرد موسم میں زیادہ ٹھنڈ محسوس کرنے لگتا ہے ۔

آہستہ آہستہ خرابی کی دوسری علامات بھی ظاہر ہونے لگتی ہیں۔جیسے خشک جلد‘بالوں کا گرنا‘کمزور ناخن‘قبض‘پسلیوں میں تکلیف اور کھنچاؤ‘دل کا ہلکا دھڑکنا اور عورتوں میں ایام کی خرابی کی علامات اس حوالے سے عام طور پر نوٹ کی گئی ہیں۔ایام میں بے ترتیبی اور زیادتی کی شکایات ملتی ہیں وہ عورتیں جو کہ اس مرض میں مبتلاہوں اور انہیں کو زچگی کے مسائل سے گزرنا پڑے تو ان کے یہاں عام شرح سے زیادہ اسقاط اور پری میچور ڈلیوری کے خدشات میں بھی دوگنا اضافہ ہوتاہے۔


تھائی رائیڈ ڈپریشن کا سبب بھی بنتے ہیں اور 20فیصد سے زیادہ دیرینہ ڈپریشن کے امراض تھائی رائیڈ ہارمونز کی کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔تھائی رائیڈ گلینڈ کی عدم تحریک کے مسئلے یا اس کی کمی کا شکار خواتین عام خواتین کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ڈپریشن میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔بد قسمتی سے وہ مریض جوڈپریشن کا علاج کرواتے ہیں۔وہ تھائی رائیڈ ٹیسٹ کی طرف سے عموماً غافل رہتے ہیں۔


تشخیص
مرض کے بارے میں معلومات اور اعلیٰ درجے کی ابتدائی تشخیص اس کے علاج کی چابی ہے۔خون کے ٹیسٹ سے اس مرض کی نوعیت کی تشخیص با آسانی کروائی جاسکتی ہے۔
Thyroid Stimulating Harmonesجوکہ پچوٹری گلینڈ سے خارج ہوتاہے ایک انتہائی حساس ہائی پو تھائی رائیڈ کی نشان دہی کرتاہے۔جب یہ غدود کام کرنا کم کر دیتے ہیں تو TSHکا لیول زیادہ ہوجاتاہے۔بلڈ ٹیسٹ دو ہارمونز(T3)اور (T4)کو جانچنے کے لئے کیا جاتاہے۔ہائی پوتھائی رائیڈکی وجہ سے دونوں کے لیول میں کمی آجاتی ہے۔ہائی پوتھائی رائیڈ کا علاج ‘آسان‘سستا اور بااثر ہے۔ایسی ادویات جن میں تھائی رائیڈ ہارمونز شامل ہوں وہ اس کمی کوپورا کرسکتی ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-10-25

Your Thoughts and Comments