Vaccine Ka Teeka Aur Mask - Article No. 2120

ویکسین کا ٹیکہ اور ماسک - تحریر نمبر 2120

جمعرات اپریل

Vaccine Ka Teeka Aur Mask - Article No. 2120
اُپوروامنڈاولی
فائزر (Pfizer) اور موڈرنا (Moderna) کمپنیوں کی تیار کردہ ویکسینز (Vaccines) کووڈ۔19 جیسی نئی مہلک بیماری سے بچانے کے لئے غیر معمولی طور پر موٴثر و مفید ہیں،لیکن یہ بات غیر واضح ہے کہ یہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو بھرپور طریقے سے کیسے روک پائیں گی۔اصل میں فائزر اور موڈرنا دونوں کمپنیوں کی ویکسینز کے آزمائشی مراحل میں صرف یہ معلوم ہوا تھا کہ ویکسین کا ٹیکہ لگوائے ہوئے (Vaccinated) کتنے افراد کووڈ۔

19 کی وجہ سے بیمار ہوئے تھے۔اس سے یہ امکان ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیکہ لگوائے ہوئے کچھ افراد علامتوں کے ظاہر ہوئے بغیر دوبارہ اس متعدی مرض میں مبتلا ہو گئے تھے۔یہ افراد کورونا وائرس کو خاموشی سے دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں،خاص طور پر اس وقت جب وہ دوسرے لوگوں کے قریب ہوں یا ماسک نہ پہنے ہوئے ہوں۔

(جاری ہے)


اگر ٹیکہ لگوائے ہوئے افراد اس وائرس کو خاموشی سے منتقل کرنے کا سبب بن سکتے ہیں تو وہ اپنے خاندان اور محلے کے اُن لوگوں میں اس وائرس کو پھیلا سکتے اور انھیں خطرے میں ڈال سکتے ہیں،جنھوں نے ویکسین کے ٹیکے نہیں لگوائے۔

ماہر مدافعیات (Immunologist) مائیکل تال (Michael Tal)، جو اسٹین فورڈ یونیورسٹی میں پڑھاتے ہیں،انھوں نے کہا کہ بہت سے افراد یہ سوچ رہے ہیں کہ ایک مرتبہ جب انھیں ویکسین کا ٹیکہ لگ گیا تو پھر انھیں ماسک پہننے کی کیا ضرورت ہے۔یہ واقعی اُن کے لئے ایک نازک موڑ یا موقع تھا کہ انھیں پتا چلا کہ وہ اگر ماسک نہ پہنیں،تب بھی اس جان لیوا بیماری کی دوبارہ زد میں آسکتے ہیں۔

تنفس کے نظام کو متاثر کرنے والے زیادہ تر تعدیوں (انفیکشنز) میں بہ شمول کورونا وائرس،ناک داخلے کی مرکزی بندرگاہ ہے۔ناک میں وائرس کی تعداد تیزی سے بڑھتی ہے اور مدافعتی قوت (Immunity) کو متاثر کرتی ہے،جس کے باعث ایک قسم کی ضد اجسام (Antibodies) پیدا ہو جاتی ہیں،جو عشائے مخاطی،یعنی لعابی جھلی (Mucosa) سے مخصوص ہوتی ہیں۔لعابی جھلی ایک مرطوب بافتی استر (Tissue Lining) ہے،جو ناک،منہ،پھیپھڑے اور معدے کی دیواروں پر ہوتا ہے۔

اگر وہی فرد وائرس کا دوبارہ شکار ہو گیا،جو ویکسین کا ٹیکہ لگوا چکا ہے تو وہ ضد اجسام،نیز مدافعتی خلیات جو وائرس کو پہچان لیتے ہیں،وہ تیزی سے وائرس کو جسم کے کسی بھی حصے کو متاثر کرنے سے پہلے ہی ناک میں بند کر دیتے ہیں۔
کورونا وائرس کی ویکسین کا ٹیکہ پٹھوں میں لگایا جاتا ہے،لہٰذا دوا گہرائی میں جاتی اور ضد اجسام پیدا کرنے کے لئے مدافعتی قوت کو متحرک کرتی ہے۔

یہ عمل ٹیکہ لگوانے والے فرد کو بیمار ہونے سے کافی حد تک بچاتا ہے،اُن ضد اجسام میں سے کچھ خون میں گردش کرنے لگتی ہیں اور نا ک کی لعابی جھلی تک جاتی ہیں،پھر وہاں رُک کر پہرا دیتی ہیں،لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ ضد اجسام کی کتنی زیادہ تعداد متحرک اور چوکس رہ سکتی ہے یا تیزی دکھا سکتی ہے۔اگر اس کا جواب زیادہ مثبت نہیں ہے تو وائرس ناک میں اپنی تعداد بڑھا لیتا ہے اور چھینکنے یا سانس خارج کرنے کے عمل سے وائرس بہ آسانی دوسرے لوگوں میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔


سیٹل میں واقع واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہر مدافعیات مارین پیپر (Marion Pepper) کے مطابق یہ ایک مقابلے کی دوڑ کی طرح ہے۔اس کا انحصار اس پر ہے کہ آیا وائرس تیزی سے اپنی تعداد بڑھاتا ہے یا مدافعتی نظام تیزی سے وائرس کو قابو میں کر لیتا ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ ناک کی لعابی جھلی کے لئے استعمال کی جانے والے ویکسین،نک پھوہار (Nasal Spray) کی طرح یا منہ سے پلائی جانے والی پولیو ویکسین کی طرح ہوتی ہے۔

یہ تنفسی وائرسوں سے بچانے کے لئے پٹھوں میں لگائے جانے والے ٹیکوں کی نسبت بہتر ہوتی ہے۔کورونا وائرس ویکسین کی اگلی جنریشن (Generation) ناک میں اور باقی ماندہ تنفسی نالی میں بھی مدافعتی قوت کو ظاہر کرنے والی ہو سکتی ہے،جہاں اس کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے،لیکن لوگ پٹھوں میں ٹیکہ بھی لگوا سکتے ہیں،جس کے نتیجے میں لعابی جھلی پر اثر پڑتا اور ناک و حلق میں مدافعتی قوت بیدار ہوتی اور حفاظتی ضد اجسام پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔


کورونا وائرس کی ویکسینز اس مہلک مرض کے خلاف ایک طاقتور ڈھال ثابت ہو چکی ہیں،لیکن ان کی ناک میں موٴثر و فعال ہونے کی گارنٹی نہیں ہے۔ناک یا حلق کی نسبت ضد اجسام پھیلانے میں پھیپھڑوں کی رسائی یا پہنچ زیادہ ہے۔یہ پھیپڑے شدید علامتوں کا گڑھ یا جائے وقوع ہیں،تاہم یہ ناک اور حلق کو اس قابل بنا دیتے ہیں کہ وہ بہ آسانی حفاظت کر سکیں۔

ایری زونا کی یونیورسٹی کے ماہر مدافعیات دیپتا بھٹاچاریہ (Deepta BhattaCharya) کہتے ہیں کہ بعض اوقات شدید بیماری سے بچنا آسان ہوتا ہے،لیکن ہلکی پھلی بیماری سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے اور تمام تعدیوں سے حفاظت کرنا تو سب سے مشکل ہے۔اگر یہ ویکسین علامتوں سے پہچان جانے والی بیماری میں 95 فیصد موٴثر و مفید ثابت ہوتی ہے تو یہ یقینا اُس ویکسین سے زیادہ موٴثر و مفید نہیں ہے۔

جو تمام تعدیوں سے محفوظ رکھتی ہے۔دوسرے ماہرین کہتے ہیں کہ وہ اس ضمن میں اچھی امید رکھتے ہیں کہ ویکسینز ناک اور حلق سے داخل ہونے والے وائرس پر قابو پا لیں گی اور اس طرح ویکسین کا ٹیکہ لگوائے ہوئے لوگ یہ وائرس دوسرے افراد کو منتقل نہیں کر سکیں گے۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ایک مرتبہ آپ میں اس ویکسین نے موٴثر و مضبوط قوت مدافعت پیدا کر دی تو اس مرض میں مبتلا ہونے کا خطرہ جاتا رہے گا۔

یہ بات یل یونیورسٹی کے ماہر مدافعیات اکیکو ایواساکی (Akiko Iwasaki) نے بتائی۔
ویکسینز کے آزمائشی مراحل سے ایسے اعداد و شمار نہیں ملے ہیں،جن سے پتا چلے کہ ٹیکہ لگوائے ہوئے کتنے زیادہ افراد دوبارہ وائرس کا شکار ہوئے تھے،لیکن ان میں علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔آسٹرازنیکا کمپنی کی بنائی ہوئی ویکسین کے کچھ آزمائشی مراحل کے نتائج نومبر میں ظاہر کیے گئے تھے،جن سے معلوم ہوا تھا کہ ویکسین چند تعدیوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

فائزر کمپنی کی ترجمان جیریکا پٹس (Jerica Pitts) کے مطابق کمپنی”این“ نامی ایک وائرسی لحمیے(پروٹین) کے خلاف ضد اجسام کے لئے ایک آزمائشی ٹیسٹ کرے گی،جس میں چند رضاکار شامل کیے جائیں گے۔یہ”این“ضد اجسام ٹیسٹ کہلاتا ہے۔ویکسین کا اس لحمیے سے کوئی تعلق نہ ہو گا،ضد اجسام ظاہر کریں گی کہ آیا رضاکار ٹیکہ لگوانے کے بعد دوبارہ وائرس کا شکار ہوئے۔

موڈرنا کمپنی کا بھی منصوبہ یہی ہے کہ ایک آزمائشی مرحلے میں وہ چند رضاکاروں کے خون کا تجزیہ کرے گی اور ”این“ ضد اجسام ٹیسٹ کروائے گی۔موڈرنا کمپنی کی ترجمان کولین ہسی (Colleen Hussey) کے مطابق ٹیسٹ کے نتائج جاننے کے لئے ابھی کئی ہفتے لگیں گے۔ویکسینز کے آزمائشی مراحل میں صرف خون کا تجزیہ کیا گیا ہے،لیکن لعابی جھلی سے متعلق ضد اجسام کا ٹیسٹ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ضد اجسام ناک اور منہ کی طرف جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر بھٹاچاریہ نے بتایا کہ جن افراد کے پٹھوں میں فلو کی ویکسین کا ٹیکہ لگایا گیا تھا،اُن کی ناک میں ضد اجسام کی تعداد کافی زیادہ تھی۔کووڈ۔19 میں مبتلا مریضوں کے لعاب دہن اور خون میں ضد جسم کی تعداد کا قریبی معائنہ و موازنہ کیا گیا،جس سے پتا چلا کہ خون میں مضبوط مدافعتی قوت کا اثر موجود تھا،جو لعابی جھلی کی بافتوں کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔


صرف ایسے افراد جن کی ناک اور حلق میں کافی تعداد میں وائرس ہوتے ہیں ،وہ اسے دوسروں تک منتقل کر سکتے ہیں۔ویکسین کا ٹیکہ لگوائے ہوئے افراد علامتوں کے ظاہر نہ ہونے کے باعث دوبارہ وائرس کی لپیٹ میں آگئے،چنانچہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ویکسین وائرس کی تعداد کم کر سکتی ہے،لیکن چند تحقیقات کے مطابق وہ افراد جن میں اس بیماری کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں،اُن کی ناک میں وائرس کی تعداد بہت زیادہ ہو سکتی ہے۔

ممتاز ڈاکٹر وانی میلڈوناڈو (Dr.Yvonne Maldonado) جو امریکن اکیڈمی آف پیڈیا ٹرکس کی نمائندگی کرتے ہیں،وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ کوئی بھی فرد کورونا وائرس کا دوبارہ شکار ہو سکتا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ہانگ کانگ میں رہنے والا ایک 33 سالہ شخص، جس میں کورونا وائرس کی کوئی علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں،اُس میں کافی وائرس پائے گئے تھے اور اُس نے یہ وائرس دوسرے لوگوں کو بھی منتقل کیے گئے۔

تعدیہ ایک خطرے کی صورت میں باقی رہے گا،اسی طرح وہ افراد بھی بد ستور خطرہ بنیں رہیں گے،جن میں کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں،یہی افراد کیریئرس (Carriers) کہلاتے ہیں،ان سے ہوشیار رہیے،یہ بڑی خاموشی سے وائرس منتقل کر دیتے ہیں۔ماسک پہننا نہ چھوڑیے،حتیٰ کہ ویکسین لگوانے کے بعد بھی۔زندگی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے،اس کی ہر لمحہ حفاظت کیجیے۔
تاریخ اشاعت: 2021-04-01

Your Thoughts and Comments