Vaccine Se Waba Ke Phelao Mein Kami - Article No. 2245

ویکسین سے وبا کے پھیلاؤ میں کمی - تحریر نمبر 2245

پیر 13 ستمبر 2021

Vaccine Se Waba Ke Phelao Mein Kami - Article No. 2245
کنزا زاہد یار خان
کووڈ۔19 کے خلاف ویکسینز بنانے کا مقصد شرح اموات کو کم کرنا اور لوگوں کو شدید صحیح پیچیدگیوں سے بچانا ہے۔ان پیچیدگیوں نے طبی نگہداشت کے نظام پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالا ہے۔ہنگامی استعمال کے لئے بنائی جانے والی تمام ویکسینز ہی یہ کام کرتی ہیں۔یہ ساری ویکسینز طبی معائنوں کے دوران مفید و موٴثر ثابت ہوئیں،یعنی یہ وائرس کے خلاف زبردست مزاحمت پیدا کرتی ہیں،لیکن لوگوں کی اکثریت اب بھی یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ویکسین لگوانے سے کووڈ۔

19 کا پھیلاؤ پوری طرح تھم جائے گا اور زندگی معمول پر آجائے گی؟تو اس کا جواب ہے،جی ہاں!
کئی سائنس دان وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ آیا یہ ویکسینز ایک شخص سے دوسرے تک وائرس کے پھیلاؤ کو روکتی ہیں یا نہیں؟لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ویکسینز وائرس کے خلاف غیر موٴثر ہیں۔

(جاری ہے)

محدود پیمانے پر دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ویکسینز نہ صرف وائرس کے خلاف مدافعتی قوت پیدا کرتی ہیں،بلکہ کسی حد تک اس کے پھیلاؤ کو بھی روکتی ہیں۔

اس حوالے سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں،لیکن اُس وقت تک ضروری ہے کہ ویکسین لگوانے کے بعد بھی ماسک کا باقاعدگی سے استعمال کیا جائے اور سماجی فاصلہ بھی برقرار رکھا جائے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ طبی معائنوں سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق فائزر۔بائیونٹیک(Pfizer - Biontech) اور موڈرنا (Moderna) کمپنیوں کی تیار کردہ دونوں ویکسینز اس وائرس سے ہونے والی بیماری سے بچانے میں بہت مفید و موٴثر پائی گئی ہیں،لیکن یہ بات ابھی تک مبہم ہے کہ یہ ویکسینز سارس۔

کووی۔2(Sars-Cov-2) سے ہونے والے شدید تعدیے (انفیکشن) سے بچاؤ میں یا اُس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کتنی موٴثر ہیں۔اگرچہ عام طور پر کووڈ۔19 اور سارس۔کووی۔2 کو ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے،مگر یہ دونوں بنیادی طور پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں،یعنی یہ بیماری اُس وقت تک نہیں ہو سکتی،جب تک وائرس جسم میں داخل نہ ہو جائے،لیکن دوسری صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وائرس جسم میں موجود ہو،مگر بیماری کی علامات ظاہر نہ ہوں،تو یہ ممکن ہے کہ وہ افراد جنہوں نے ویکسی نیشن کروا لی ہو،وہ خود تو محفوظ ہوں،مگر پھر بھی اُن لوگوں تک وائرس پھیلانے کا باعث ہوں، جنہوں نے ویکسین نہ لگوائی ہو۔


آخر سائنس دان کیوں ایسی ویکسینز بنائیں گے،جو صرف بیماری سے بچاؤ فراہم کرتی ہوں،نہ کہ وائرس سے؟تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح ویکسین کی طبی جانچ میں آسانی ہو جاتی ہے اور ویکسین کے بارے میں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آیا یہ بیماری کے خلاف موٴثر ہے بھی یا نہیں؟
اس لئے اگر کوئی ویکسین صرف بیماری کا خاتمہ کرنے میں موٴثر ہے تو اُسے قابل استعمال سمجھا جاتا ہے۔

کئی لوگ جو سارس۔کووی۔2 کے تعدیے سے متاثر ہوتے ہیں،وہ مرتے تو نہیں ہیں،لیکن شدید بیمار ہو جاتے ہیں اور انھیں طبی امداد و نگہداشت کی ضرورت پڑتی ہے۔ جب لوگ اتنی بڑی تعداد میں بیمار ہوں گے تو اس سے صحت کا نظام مفلوج ہو جائے گا،جب کہ ویکسین لگوانے کی صورت میں اس بیماری کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔
جب سائنس دان کسی نئے وائرس کے خلاف ویکسین تیار کرتے ہیں تو یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ آیا یہ ویکسین تعدیے سے مکمل بچاؤ فراہم کر سکے گی،یعنی جسم میں جراثیم کش مدافعتی قوت (Sterilizing Immunity) بڑھا سکے گی۔

اگر کووڈ۔19 ویکسینز تعدیے سے جراثیم کش مدافعتی قوت فراہم نہیں کرتیں تو کوئی شخص ویکسین لگوانے سے خود تو محفوظ رہے گا،مگر وائرس کے پھیلاؤ کا ذریعہ ضرور بن سکتا ہے۔
بہت سی ویکسینز ایسی ہیں،جو مکمل جراثیم کش مدافعتی قوت تو فراہم نہیں کرتیں،لیکن صحت عامہ کے لئے بہت افادیت کی حامل ہیں، جیسے فلو ویکسین،جو تعدیے سے بچاؤ فراہم نہ کرنے کے باوجود ہر سال ہزاروں زندگیاں بچاتی ہیں۔


تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ویکسینز اگرچہ تعدیے سے نہ بھی بچاتی ہوں،مگر پھر بھی وبا کو روکنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں،جیسے پولیو کے خلاف ویکسین جو،جونس سالک (Jonas Salk) نے بنائی تھی،وہ بھی جراثیم کش مدافعتی قوت تو فراہم نہیں کرتی، مگر 1950ء کے آغاز میں امریکہ میں بڑے پیمانے پر پولیو کے خاتمے میں بہت معاون ثابت ہوئی،اسی طرح کووڈ۔19 کی ویکسینز کی ایجاد بھی صحت عامہ کے لئے فتح کا باعث ہے،یعنی جتنے زیادہ لوگ اس ویکسین سے فیض یاب ہوں گے،اُتنی ہی جلد زندگی معمول پر آجائے گی۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-13

Your Thoughts and Comments