بند کریں
صحت مضامینمضامینورزش ضروری ہے

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
ورزش ضروری ہے
ورزش زندگی باقی رکھنے کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح ہوا ، پانی غذا اور نیند۔ یہ بات دل چسپی سے پڑھی جائے کہ ایک تن درست آدمی کو ایک ہفتے کے لئے بستر پر لٹا دیا جائے تواس کی طاقت اس قدر زائل ہو جائے گی
ڈاکٹر سید اسلم:
دنیا میں ابتدائی زمانے سے انسان سختی اور جفاکشی کا عادی رہا ہے۔ درختوں کو کاٹنا، گرانا ، چیرنا، کنویں کھودنا، شہ سواری اور زراعت وغیرہ اس کے مشغلے رہے ہیں۔ کروڑوں برس سے انسان جس طرح اپنے اعضا سے کام لے رہا ہے ان کو یکایک تبدیل نہیں کیا جاسکتا اور کیا جائے گا تو کہیں نہ کہیں زد پڑے گی، اس لیے دڑبے کی مرغیوں کی طرح زندگی گزار نا خلافِ فطرت ہے۔
ورزش زندگی باقی رکھنے کے لئے اسی طرح ضروری ہے جس طرح ہوا ، پانی غذا اور نیند۔ یہ بات دل چسپی سے پڑھی جائے کہ ایک تن درست آدمی کو ایک ہفتے کے لئے بستر پر لٹا دیا جائے تواس کی طاقت اس قدر زائل ہو جائے گی کہ اسے اپنی پہلی حالت پر آنے کے لئے تین ہفتے درکار ہوں گے۔ ورزش سے غذا ہضم ہوتی ہے ۔ وزن مناسب ہو کر برقرار رہتا ہے۔ اسی وجہ سے ورزشی لوگ خوش خوراک ہونے کے باوجود تن درست رہتے ہیں ورزش دل کو جس قدر قوت پہنچاتی ہے اس قدر قوت کسی چیز سے نہیں پہنچتی نہ ڈاکٹر حکیم کی دواوٴں سے اور نہ جرائح کے نشتر سے کیونکہ ورزش سے متبادل رگیں قدرتی طریقے پر حاصل ہوتی ہیں۔
تن درست آدمی کوکسی بھی روزش سے نقصان نہیں پہنچتا۔ جن مشہور لوگوں نے بڑی عمریں پائی ہیں مثلاََ مولوی عبدالحق ، مولانا غلام رسول مہر وغیرہ یہ سب صبح ہوا خوری کے عادی تھے۔ جوش ملیح آبادی صاحب صبح کو اس قدر روزش کر لیتے تھے کہ پسینا گرنے لگتا تھا۔ وہ اپنے زمانے کے سب سے طویل المعر شاعر تھے۔
یہ ضروری ہے کہ ہر عمر، موسم او رزمانے میں جسمانی مشقت کی ترغیب اور ترویج کی جائے، کیونکہ ورزش سے فرحت اور تازگی کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔ جو لوگ پریشان ومضطرب ہوتے ہیں ان میں خوش دلی آتی ہے حوصلہ ،اُمید اور اعتماد بڑھتا ہے اسی لیے کہا گیا ہے کہ ورزش سے عمر میں اضافہ ہو نہ ہو اس سے زندگی کو توانائی ضرور ملتی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ورزش سب سے اچھی خواب آور (نیند لانے والی) شے ہے۔
ورزش شروع کرنے سے پہلے اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ورزش نہ صرف موزوں ہو، بلکہ اس میں پابندی اور باقاعدگی ہو قابل عمل ہو ، بے خطر ہو اور روزش کرنے کا ضروری سامان موجود ہو۔ موسم ، مزاج اور ماحول کو بھی پیش نظر رکھا جائے ۔ ورزش کے لئے ضروری ہے کہ متحرک ہو ، یعنی رفتار اور حرکت ہو اور جسم کے بڑے پٹھوں کا خاطر خواہ استعمال ہو ، تاکہ خون کی گردش سے زور اور قوت پیدا ہو۔ یہ ضروری ہے کہ ورزش میں ٹانگیں بھرپور حصہ لیں، کیونکہ ٹانگوں کے پٹھوں کی حرکت سے خون کی رانی دل کی طرف ہوتی ہے ۔ اس لحاظ سے دورانِ خون میں بازووٴں سے زیادہ اہم ٹانگیں ہیں اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ایک دل ٹانگوں میں بھی ہے۔
ورزش کو ہمت کے مطابق رفتہ فتہ اس قدر بڑھایا جائے کہ اچھی معلوم ہو اور چہل قدمی بڑھ کر تیز قدمی ہو جائے۔ ایک گھنٹے میں تیل میل کا فاصلہ طے کر لیا جائے ۔ دوسری وروزشوں میں سائیکل چلانا، تیرا کی گھڑ سواری، باغ بانی ، سیڑھیاں چڑھنا اور ایک جگہ کھڑے کھڑے دوڑ لگانا شامل ہیں۔ ورزش اس وقت کی جائے جب معدہ خالی ہو او ر کھانا کھائے ہوئے کم از کم چار گھنٹے سے زیادہ گزر چکے ہوں۔ بہتر ہے کہ علیٰ الصباح نہار منھ ورزش کی جائے۔ ورزش سے نبض او سانس کی رفتار دونوں میں تیزی آجاتی ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ جسم کا تمام نظام متحرک ہو گیا ہے اور یہ رفتار ورزش ختم کرنے کے تین منٹ بعد اپنی اصلی حالت پر آجانا چاہیے۔ ورزش جب ختم کے قریب ہو تا اس کو ایک دم ختم نہیں کر دیں، بلکہ کچھ وقت جسم کو ٹھنڈا ہونے کیلئے بھی دیں، تاکہ جسم یکایک حرکت سے سکون میں نہ آجائے۔
ورزش ہفتے میں کم سے کم تین دفعہ اور زیادہ سے زیادہ چھ دفعہ کی جائے۔ اگر ورزش زوردار ہو تو پندرہ منٹ اگر آرام سے کی جائے تو ایک گھنٹے تک ہونا چاہیے یعنی چل قدمی تین میل فی گھنٹے کی رفتار سے ایک گھنٹے تک، تیز قدمی جس میں ہلکی دوڑ لگائی جائے بیس منٹ اور سخت اور زور دار دوڑ جس میں پسینا آجائے سانس چڑھ جائے دل کی رفتار تیز ہو جائے یا ہلکی سی تھکن ہو جائے8 سے12 منٹ کی جائے۔ وقت ہو تو چہل قدمی جو تیز رفتاری سے کی جائے سب سے اچھی ورزش ہے لیکن سب سے مناسب قابل عمل اور سست روزش یہ ہے کہ گھر کے کسی گوشے میں کھڑے کھڑے سائیکل چائیں یا ایک جگہ کھڑے ہو کر دوڑ لگائیں یعنی ایک مقام پر کھڑے ہو کر اُچھلیں کودیں۔
بچوں میں شروع ہی سے ورزش کی عادت ڈالنی چاہیے۔

(12) ووٹ وصول ہوئے