بند کریں
صحت مضامینمضامینیاد داشت کیسے بڑھائیں؟

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
یاد داشت کیسے بڑھائیں؟
انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے، جسم میں شکست و ریخت کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے۔ جسمانی قوتوں کے ساتھ ساتھ قوتِ حافظہ کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس کمزوری سے دوست احباب اور رشتے داروں کے نام ذہن سے نکل جاتے ہیں۔

انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے، جسم میں شکست و ریخت کا عمل بھی شروع ہو جاتا ہے۔ جسمانی قوتوں کے ساتھ ساتھ قوتِ حافظہ کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس کمزوری سے دوست احباب اور رشتے داروں کے نام ذہن سے نکل جاتے ہیں۔ کسی کو دی ہوئی رقم، گھریلو بات یا کسی سے کیا ہوا وعدہ یا د نہیں رہتا۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی سے ملنے کا وقت طے کیا ہو، لیکن گھر سے کسی کام سے نکلنے کی صورت میں یاد نہیں رہتا۔ اس مرض کو طب کی زبان میں ”نسیان “ اور جدید طبی اصطلاح میں ”الزائمر“ کہتے ہیں۔ یہ صورتِ حال ضعیف العمر لوگں میں بہت اذیت ناک ہوتی ہے۔ اس کے سبب دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتاہے، جہاں یاد داشت محفوظ ہوتی ہے۔ یہ مرض عمر کے کسی حصے میں بھی ہو جاتاہے، جس کے اسباب میں خون کے سرخ ذرات میں کمی، کسی حادثے یا نکسیر کے سبب خون کا زیادہ بہ جانا شامل ہیں۔ ہمارے دماغ کے کئی خانے ہیں، جن کا تعلق واقعات کو جمع کرنے یا پھر یاد رکھنے سے ہے۔ ان خانوں کا تعلق زبان اور گفتگو سے بھی ہے۔ اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو ہر شخص اپنی یاد داشت کو طویل عرصے تک بر قرار رکھ سکتا ہے۔ ذیل میں آسان تدابیر دی جارہی ہیں، جن پر عمل کر کے آپ اپنی یاد داشت کو بہتر کر سکتے ہیں:
دماغ مضبوط کرنے والی غذائیں
ان غذاؤں میں سر فہرست وہ ہیں، جن سے اومیگا تھری تیٹی ایسڈز، گلوکوس اور مانع تکسید اجزا (ANTIOXIDANTS )ملتے ہیں۔ مچھلی کھانے سے ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری غذا سے جو گلوکوس تیار ہوتا ہے، اس کا ۷۰ فیصد ہمارا دماغ استعمال کرتا ہے۔ سبزیاں، خاص طور پر آلو کھانے سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتاہے۔ سویابین بھی مفید ہے۔ حیاتین ب (وٹامن بی) بھی یاد داشت بڑھاتی ہے۔ یہ ڈیری کی مصنوعات میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مچھلی، انڈوں اورسبزیوں میں بھی یہ حیاتین زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔ دن بھر میں وقفے وقفے سے کچھ کھاتے رہیے، اس طرح خون میں گلوکوس کی مقدار برقرار رہتی ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو مغزِ بادام شیریں دس عدد رات پانی میں بھگو کر صبح چھیل کر دودھ کے ساتھ کھا لینے چاہئیں ۔ روزانہ سیب کھانا بھی فائدہ مند ہے، کیوں کہ سیب میں شامل مانع تکسید اجزا کی زیادہ مقدار خاص قسم کے کیمیائی مادے زیادہ پیدا کرتی ہے۔ دماغ کو ملنے والے یہ مادے اچھی یاد داشت کے لئے ضروری ہیں، اس لئے روزانہ ایک سیب ضرور کھائیے۔
ذہن پر دباؤ نہ بڑھنے دیں
خوش گوار ماحول میں یاد داشت بہت کام کرتی ہے، اس لیے دباؤ یا پریشانی سے دُور رہیں۔ اپنی عمومی زندگی کو خوش و خرم بنانے کی سعی کریں۔ ہلکی پھلکی ورزش اور سیر ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ ذہنی دباؤ جسم میں ایک ایسا مادہ پیدا کرتا ہے، جو دماغ کے یاد داشت والے حصے کو متاثر کرتا ہے۔ نماز باقاعدگی سے پڑھنے کی عادت بھی یاد داشت بڑھانے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
جسم کو چاق و چوپند رکھیں
اپنے روزانہ کے معمولات ترتیب دیں۔ علی الصباح نمازِ فجر کے بعد سیر کیا کریں یا شام کو تیز قدمی کریں۔ غیر ضروری باتوں اور امور سے بچیں۔ جسم کے جوڑ کھولنے والی ورزش کریں۔ اس طرح کی ورزش سے نہ صرف دماغ کا سفید مادہ بڑھتا ہے، بلکہ خلیاتی رابطوں میں اضافہ بھی ہوتا ہے ۔ ضروری امور کو تحریر کر لیا کریں، اس طرح دماغ پر بوجھ کم پڑے گا۔ مناسب نیند اور آرام سے بھی جسم چاق و چوبند رہتا ہے اور یاد داشت بہتر ہوتی ہے، کیوں کہ اس طرح تلف شدہ قوتیں پھر سے بحال ہو جاتی ہیں۔ مناس نیند کے بعد انسان تازہ دم اور چاق وچوبند ہو جاتا ہے۔
دماغ کو مصروف رکھیں
ایسی سرگرمیاں اختیار کریں، جن سے دماغ مصروف رہے۔ کسی سماجی کام میں حصہ لیں۔ رفاہی تنظیم کے لئے کام کریں۔ جو کام کرنا ہو، اس کو بار بار دہرائیے اور اس کی مکمل تیاری کریں۔ اس کے علاوہ معاملات حل کریں اور مختلف قسم کے الفاظ بنانے کا کھیل کھیلیں، اس طرح دماغ مصروف رہے گا اور یاد داشت بھی بہتر ہو گی۔
ہمارے دماغ کے خصوصی مادے ہماری یا دد اشت کو بہتر حالت میں رکھتے ہیں۔ یہ فولاد کے ذریعے توانا رہتے ہیں، لہٰذا جسم میں فولاد کی کمی نہ ہونے دیں۔ فولاد کی کمی کی صورت میں پالک اور کلیجی کو غذا میں شامل کریں اور دوا کے لئے معالج سے رجوع کریں۔
ایک وقت میں ایک کام
بعض لوگ ایک ہی وقت میں کئی کام کرتے ہیں، مثلاََ کھانا کھا رہے ہیں تو اخبار بھی پڑھ رہے ہیں یا ٹی وی پر خبریں بھی سن رہے ہیں۔ اس طرح کا پڑھا ہوا یا سنا ہوا یا د نہیں رہتا، کیوں کہ توجہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ یہ کھانے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔ دراصل جب ہم دوکام ایک ہی وقت میں کرتے ہیں تو دماغ کے قدرتی نظام پر منفی اثرپڑتا ہے ، جس کے باعث یادیں دماغ سے نکلنے لگتی ہیں، اس لیے مناسب ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کیا جائے، تاکہ خیالات میں یکسوئی رہے۔ اس طرح بھی یاد داشت بڑھتی ہے۔
ادویہ پر نظر رکھیں
کئی ادویہ ایسی ہیں، جو یاد داشت پر منفی اثر ڈالتی ہیں۔ یہ طویل عرصے تک جسم میں رہتی ہے۔ بعض ادویہ یاد داشت کو خاص طور پر متاثر کرتی ہیں۔ ان میں اضمحلال و افسردگی (ڈپریشن) کو دور کرنے والی ادویہ، بیٹا لا کر ز، مسکن ادویہ ، مانع درد ادویہ، رعے کی بیماری میں کھائی جانے والی ادویہ، ہسٹا مائن (HISTAMINE ) کے اثر کو ختم کرنے والی ادویہ اور کیمیائی علاج بھی شامل ہے۔ انھیں معالج کے مشورے سے کھائیں۔ کیان کہ انھیں کھانے سے یاد داشت متاثر ہوتی ہے۔
کولیسٹرول کو قابو میں رکھیے
کولیسٹرول ایک قسم کی چربی ہے ، جس میں اس کا بڑھ جانا خطر ناک ہوتا ہے۔ کولیسٹرول کے بڑھنے سے دل کی شریانوں میں چربی جم جاتی ہے، بلکہ دماغ کی نسوں میں تھکے چپک جاتے ہیں۔ اس طرح دماغ کو اس کی مطلوبہ غذا نہیں ملتی جس سے یاد داشت متاثر ہوتی ہے، لہٰذا آپ خون میں کولیسٹرول چیک کراتے رہیے اور بڑھنے کی صورت میں فوراََ اعتدال پر رکھنے کے لئے تدابیر کریں۔ جو لوگ اپنی روزانہ کی غذا میں سبزیاں اور پھل شامل کر لیتے ہیں، وہ عموماََ کولیسٹرول سے محفوظ رہتے ہیں۔ چربی والی اشیا اور گھی زیادہ مقدار میں کھانے سے بھی نہ صرف کولیسٹرول بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے، بلکہ یاد داشت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے