Yad Dasht Kaisay Barhayain - Article No. 1369

یادداشت کیسے بڑھائیں ؟ - تحریر نمبر 1369

پیر 17 ستمبر 2018

Yad Dasht Kaisay Barhayain - Article No. 1369

حکیم راحت نسیم سو ہدروی
انسان کی عمر جیسے جیسے بڑھتی ہے،جسم میں شکست و ریخت کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے ۔جسمانی قوتوں کے ساتھ ساتھ قوت حافظہ کم زور ہونے لگتی ہے ۔اس کمزوری سے دوست احباب اور رشتے داروں کے نام ذہن سے نکل جاتے ہیں ۔کسی کو دی ہوئی رقم ،گھریلو بات یا کسی سے کیا ہوا وعدہ یاد نہیں رہتا۔ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی سے ملنے کا وقت طے کیاہو،لیکن گھر سے کسی کام سے نکلنے کی صورت میں یاد نہیں رہتا۔

اس مرض کو طب کی زبان میں ”نسیان “اور جدید طبّی اصطلاع میں ”الزائمر“کہتے ہیں ۔یہ صورت حال ضعیف العمر لوگوں میں بہت اذیت ناک ہوتی ہے ۔اس کے سبب دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے ،جہاں یادداشت محفوظ ہوتی ہے۔یہ مرض عمر کے کسی حصے میں بھی ہو جاتا ہے ،جس کے اسباب میں خون کے سرخ ذرّات میں کمی ،کسی حادثے یا نکسیر کے سبب خون کا زیادہ بہ جانا شامل ہیں ۔

(جاری ہے)

ہمارے دماغ کے کئی خانے ہیں ،جن کا تعلق واقعات کو جمع کرنے یا پھر یاد رکھنے سے ہے ۔ان خانوں کا تعلق زبان اور گفتگو سے بھی ہے ۔اگر احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں تو ہر شخص اپنی یادداشت کو طویل عرصے تک برقرا رکھ سکتا ہے ۔ذیل میں آسان تدابیردی جارہی ہیں ،جن پر عمل کرکے آپ اپنی یادداشت کو بہتر کرسکتے ہیں :
دماغ مضبوط کرنے والی غذائیں ۔


ان غذاؤں میں سرفہرست وہ ہیں ،جن سے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز ،گلوکوس اور مانع تکسید اجزا (ANTIOXIDANTS)ملتے ہیں ۔مچھلی کھانے سے ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے ۔ہماری غذا سے جو گلوکوس تیار ہوتا ہے ،اس کا ۷۰ فیصد ہمار ا دماغ استعمال کرتا ہے ۔سبزیاں ،خاص طور پر آلو کھانے سے دماغی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔سویا بین بھی مفید ہے۔حیاتین ب (وٹامن بی)بھی یادداشت بڑھاتی ہے ۔

یہ ڈیری کی مصنوعات میں وافر مقدار میں پائی جاتی ہے۔اس کے علاوہ مچھلی،انڈوں اور سبزیوں میں بھی یہ حیاتین زیادہ مقدار میں ہوتی ہے۔دن بھر میں وقفے وقفے سے کچھ کھاتے رہیے،اس طرخون میں گلوکوس کی مقدار برقرار رہتی ہے۔بچوں اور نوجوانوں کو مغزِ بادام شیریں دس عدد رات پانی میں بھگو کر صبح چھیل کر دودھ کے ساتھ کھا لینے چاہییں ۔روزانہ سیب کھانا بھی فائدہ مند ہے ،کیوں کہ سیب میں شامل مانع تکسید اجزا کی زیادہ مقدار خاص قسم کے کیمیائی مادّے زیادہ پیدا کرتی ہے۔

دماغ کو ملنے والے یہ مادّے اچھی یا دداشت کے لیے ضروری ہیں ،اس لیے روزانہ ایک سیب ضرور کھائیے۔
ذہن پر دباؤ نہ بڑھنے دیں
خوش گوار ماحول میں یادداشت بہت کام کرتی ہے،اس لیے دباؤ یا پریشانی سے دُور رہیں ۔اپنی عمومی زندگی کو خوش وخرم بنانے کی سعی کریں ۔ہلکی پھلکی ورزش اور سیر ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

ذہنی دباؤ جسم میں ایک ایسا مادّہ پیدا کرتا ہے،جو دماغ کے یادداشت والے حصے کو متاثر کرتا ہے۔نماز باقاعدگی سے پڑھنے کی عادت بھی یادداشت بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
جسم کو چاق چو بندر کھیں ۔
اپنے روزانہ کے معمولات ترتیب دیں ۔علی الصباح نمازِ فجر کے بعد سیر کیا کریں یا شام کو تیز قدمی کریں ۔غیر ضروری باتوں اور امور سے بچیں ۔

جسم کے جوڑ کھولنے والی ورزش کریں ۔اس طرح کی ورزش سے نہ صرف دماغ کا سفید مادّہ بڑھتا ہے ،بلکہ خلیاتی رابطو ں میں اضافہ بھی ہوتا ہے۔ضروری امور کو تحریر کرلیا کریں ،اس طرح دماغ پر بوجھ کم پڑے گا۔مناسب نیند اور آرام سے بھی جسم چاق چو بندرہتا ہے اور یادداشت بہتر ہوتی ہے،کیوں کہ اس طرح تلف شدہ قوتیں پھر سے بحال ہوجاتی ہیں ۔مناسب نیند کے بعد انسان تازہ دم اور چاق چو بند ہوجاتا ہے۔


دماغ کو مصروف رکھیں
ایسی سرگرمیاں اختیار کریں،جن سے دماغ مصروف رہے۔کسی سماجی کام میں حصہ لیں ۔رفا ہی تنظیم کے لیے کام کریں ۔جو کام کرنا ہو،اس کو بار بار دہرائیے اور اس کی مکمل تیاری کریں ۔اس کے علاوہ معّمے حل کریں اور مختلف قسم کے الفاظ بنانے کا کھیل کھیلیں،اس طرح دماغ مصروف رہے گا اور یادداشت بھی بہتر ہوگی۔ہمارے دماغ کے خصوصی مادّے ہماری یادداشت کو بہتر حالت میں رکھتے ہیں ۔

یہ فولاد کے ذریعے توانار ہتے ہیں ،لہٰذا جسم میں فولاد کی کمی نہ ہونے دیں ۔فولاد کی کمی کی صورت میں پالک اور کلیجی کو غذا میں شامل کریں اور دوا کے لیے معالج سے رجوع کریں ۔
ایک وقت میں ایک کام
بعض لوگ ایک ہی وقت میں کئی کام کرتے ہیں ،مثلا کھانا کھارہے ہیں تو اخبار بھی پڑھ رہے ہیں یا ٹی وی پر خبریں بھی سن رہے ہیں ۔اس طرح کا پڑھا ہوا یاسنا ہوا یاد نہیں رہتا ،کیوں کہ توجہ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔

یہ کھانے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔دراصل جب ہم دوکام ایک ہی وقت میں کرتے ہیں تو دماغ کے قدرتی نظام پر منفی اثر پڑتا ہے،جس کے باعث یا دیں دماغ سے نکلنے لگتی ہیں ،اس لیے مناسب ہے کہ ایک وقت میں ایک ہی کام کیاجائے ،تاکہ خیالات میں یکسوئی رہے۔اس طرح بھی یادداشت بڑھتی ہے۔
ادویہ پرنظر رکھیں
کئی ادویہ ایسی ہیں ،جو یادداشت پر منفی اثر ڈالتی ہیں ۔

یہ طویل عرصے تک جسم میں رہتی ہے۔بعض ادویہ یادداشت کو خاص طور پر متاثر کرتی ہیں ۔ان میں اضمحلال وافسر دگی ّ(ڈپریشن )کو دور کرنے والی ادویہ ،بیٹالاکرز ،مسکّن ادویہ ،مانع درد ادویہ ،رعشے کی بیماری میں کھائی جانے والی ادویہ ،ہسٹامائن (HISTAMINE) کے اثر کو ختم کرنے والی ادویہ اور کیمیائی علاج بھی شامل ہے۔انھیں معالج کے مشور ے سے کھائیں ،کیوں کہ انھیں کھانے سے یادداشت متاثر ہوتی ہے۔


کولیسٹرول کو قابو میں رکھیے
کو لیسٹرول ایک قسم کی چربی ہے،جس میں اس کا بڑھ جانا خطر ناک ہوتاہے۔کولیسٹرول کے بڑھنے سے دل کی شریانوں میں چربی جم جاتی ہے،بلکہ دماغ کی نسوں میں بھی تھکّے چپک جاتے ہیں۔اس طرح دماغ کو اس کی مطلوبہ غذا نہیں ملتی جس سے یادداشت متاثر ہوتی ہے،لہٰذا آپ خون میں کولیسٹرول چیک کراتے رہیے اور بڑھنے کی صورت میں فوراََ عتدال پر رکھنے کے لیے تدابیر کریں ۔جو لوگ اپنی روزانہ کی غذا میں سبزیاں اور پھل شامل کرلیتے ہیں ،وہ عموماََ کو لیسٹرول سے محفوظ رہتے ہیں ۔چربی والی اشیا اور گھی زیادہ مقدار میں کھانے سے بھی نہ صرف کولیسٹرول بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے،بلکہ یادداشت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔

تاریخ اشاعت: 2018-09-17

Your Thoughts and Comments