بند کریں
صحت مضامینمضامینزیکا وائرس

مزید مضامین

پچھلے مضامین - مزید مضامین
زیکا وائرس
طبی سائنسی تحقیق کے مطابق زیادہ ترگرم ومرطرب علاقوں میں پایا جانے والا ایڈیس نامی مچھر زیکاوائرس کے پھیلاؤ کی وجہ بنتا ہے
چین ‘ یورپ لاطینی امریکہ میں پھیلنے والا زیکا وائرس اب تک کیر یبین‘ شمالی اور جنوبی امریکا کے ممالک میں پایاجاچکا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برازیل‘ میکسیکو’ چین‘ اسرائیل‘ڈنمارک اور بھارت سمیت 23ممالک میں یہ مرض پھیل چکا ہے۔ نیزان ممالک میں اس خطرناک وائرس سے بچنے کے لیے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے مہم چلائی جارہی ہے۔ کئی ممالک میں حاملہ خواتین کو ایسی وبائی جگہوں کی جانب سفر کرنے سے منع کیاجارہا ہے جہاں یہ وباء پھیل چکی ہے۔ حالیہ رپورٹ کے مطابق برازیل کے چھوٹے بڑے اسپتالوں میں دو ہزار سے زائد ایسے بچوں کی پیدائش ہوئی ہے جن کے سرجسم کے باقی حصوں سے قدرے چھوٹے ہیں اور وہ جسم کے دوسرے حصوں کے ساتھ نشوونما نہیں پارہے ہیں۔ طبّی ریسرچ کے مطابق یہ مچھر جب حاملہ خواتین کو کاٹتا ہے تو ہونے والا نومولود بچہ مائیکروسی پلے نامی ایک بیماری کاشکار ہوسکتا ہے جس سے بچنے کی دماغی نشوونمارک جاتی ہے، برازیل میں ہونے والے چھوٹے سرکے بچے اسی بیماری کاشکا رہیں جیسے کہ آپ نے پاکستان میں شاہ ڈولا کے چوہے مزاروں پہ دیکھے ہوں گے۔
معلوماتاور اطلاعات کے مطابق زیکاوائرس ایڈیس نامی ایک مچھر کے کاٹنے سے ہوتا ہے۔ یہ اسی مچھر کی ایک قسم ہے جو ڈینگی وائرس کی بیماری کی وجہ بنتا ہے۔ یہ عام مچھر کی طرح رات میں نہیں بلکہ دن کے وقت حملہ کرتا ہے ایڈیس نامی اس خطرناک مچھر کی افزائش گھروں میں کھڑے ہوئے صاف پانی میں ہوتی ہے یہ آلودہ پانی اور نکاسی آپ کے پائیوں میں انڈے دیتا ہے۔ جیسے ڈینگی مچھر صاف پانی میں پرورش پاتا ہے اسی طرح زیکا وائرس کامچھر بھی صاف پانی کی پیداوار ہے دھیان رہے اسی وائرس کا شاخسانہ کچھ امراض اور بھی ہیں مثلاََ ڈینگی زردبخار چکن گنیاوغیرہ۔ WHOکی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں یکاوائرس کے پونے کے ابھی شواہد نہیں ملے ہیں لیکن اس کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ ہم اس خطرے سے بالکل بے خوف ہوجائیں۔ جیسے گزشتہ گئے عرصے میں سوائن فلو‘ ڈینگی اور ایڈز جیسی بیماریوں کو مغربی بیماریاں کہہ کر اس امراض سے بچنے کے لیے کوئی بھی حکمت عملی اور خصوصی احتیاطی تدابیر کی مہم نہیں چلائی گئی تھی۔ جب ان امراض نے اپنے نیچے ہمارے ملک میں گاڑھے تو اس کے بعد احتیاطی تدابیر کی تلقین کی گئی۔ چنانچہ ہمیں شدید ضرورت ہے کہ اس مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاطی پہ مبنی الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پہ اشتہارات چلائے جائیں کیونکہ یہ توہم سب کاماننا ہے کہ احتیاط پچھتاوے سے بہتر ہے۔
علامات:
زیکا وائرس کی سب سے عام علامات تیز بخار جسم پہ خراشیں سرخ رنگ کے دھبے‘ سردر‘ بھاری پن‘ جوڑوں پٹھوں اور عضلات میں درد آنکھوں میں جلن تکلیف اور خارش ہونا (آشوب چشم) بعض مریضوں میں آنکھوں کے ڈھیلوں میں شدید درد‘ کمزوری اور بھوک میں کمی جیسی علامات بھی ظاہر ہوجاتی ہیں۔ یہ علامات کسی اور مرض مثلاََ ڈینگی بخار چکن گنیا اور دوسرے کسی اور مرض کی بھی ہوسکتی ہیں لہٰذا معالج کے ہدایت کے مطابق خون ٹیسٹ کروانے کے بعد ہی اس مرض کی تشخیص ہوسکتی ہے۔ زیکا وائرس عام طور پر مچھر کے کاٹنے سے ایک فرد سے دوسرے دوٴفرد میں منتقل ہوتا رہتا ہے۔ جوزیکا وائرس سے متاثرہ فرد کو کاٹ کردوسرے صحت مند فرد پر حملہ کرکے زیکا وائرس کاشکار کردیتا ہے۔
علاج:
اب تک زیکا وائرس سے بچاؤ کے لیے کوئی ویکسین نہیں تیار کی جاسکی ہے۔ اس لیے طبی ماہرین اس وائرس سے شکار فرد کو مکمل آرام‘ زیادہ سے زیادہ پانی پینے اور بخار ودرد سے نجات وراحت فراہم کرنے والی ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ اسپرین اور دوسری دافع سوزش ادویہ کے استعمال سے منع کرتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر:
دوسرے دیگر وائرس جیسے جی ڈینگی‘ ملیریا کی طرح زیکا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے مچھر سے بچنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ گھر میں موجود صاف پانی کے برتن‘ ٹینک‘ ٹینکوں اور ڈرم وغیرہ کو ڈھک کررکھا جائے۔ صاف پانی کو گھر میں بالکل نہ کھڑے رہنے دیا جائے شام کے وقت کھڑکی دروازے بندرکھے جائیں یاان پر جالی لگادی جائے تاکہ مچھر گھر کے اندر داخل نہ ہوسکیں۔ جسم کے کھلے حصوں پر مچھر کش دوا لگائیں اور شیر خوارچھوٹے بچوں کے لیے مچھر دانی کا استعمال کریں۔ گھرمیں باقاعدگی سے مچھر مار دوا کا اسپرے کریں اور میٹ یاکوائل ضرور جلائیں۔ طلوع وآفتاب کے وقت گھر سے باہر کھلے مقام پر جانے سے پہلے احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں پوری آستینوں کا لباس پہنیں۔ گھر میں صفائی ستھرائی کاخاص خیال رکھیں۔ کوئی بھی علامت ظاہر ہوتو اپنے ڈاکٹر سے رجوع کریں اور سستی وکاہلی سے گریز کریں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے