Ziyada Khane Ke Nuqsanat - Article No. 2192

زیادہ کھانے کے نقصانات - تحریر نمبر 2192

ہفتہ 3 جولائی 2021

Ziyada Khane Ke Nuqsanat - Article No. 2192
آصف عثمان
ہمارے کھانے پینے کا ایک رخ حیران کن اور خوفناک ہے۔ایک تو ہم ہر طرح کے کھانے اور نہ کھائی جانے والی ساری ہی چیزیں کھاتے ہیں،دوسرے ہم انہیں اپنی فطری ضرورت اور طاقت سے کہیں زیادہ کھا لیتے ہیں۔
آپ کو بھوک تو بالکل نہیں ہے،لیکن آپ کے دوست کا اصرار ہے کہ کھانا تیار ہے،کچھ نہ کچھ ضرور کھا لیجیے۔آپ اپنے آپ کو مجبور سمجھ کر تکلفاً کھانے کے لئے بیٹھ جاتے ہیں۔

آپ گھر سے تو پیٹ بھر کر کھا کر چلتے ہیں،لیکن راستے میں کسی اچھی چیز پر نظر پڑ گئی تو اسے کھانے کا موقع ڈھونڈنے لگتے ہیں۔کسی دوست کے ہاں دعوت میں جا کر تو آپ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ہمارا پیٹ اپنی فکر آپ کر لے گا۔ مجھ سے اور اس سے کیا مطلب؟لیکن تھوڑی ہی دیر بعد مطلب واضح ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)

جوں ہی آپ نے کچھ زیادہ کھایا،آپ کی طبیعت بھاری ہو جاتی ہے اور آپ کو چلنے پھرنے میں تکلیف ہونے لگتی ہے۔

جو لوگ اتنی موٹی باتیں نہیں سمجھ سکتے انہیں یہ بات سمجھانا اور بھی مشکل ہے کہ یہ ہاضم چیزیں اس وقت تو انسان کی تکلیف کم کر دیتی ہیں لیکن یہ تکلیف بیج کے طور پر ان کے جسم میں موجود رہتی ہے اور آگے چل کر امراض کی شکل میں ان کے بڑے بڑے درخت پیدا کرتی ہے۔
بات یہ ہے کہ ہم لوگ اچھی طرح جتنا کھانا ہضم کر سکتے ہیں،جب اس سے کہیں زیادہ پیٹ میں بھر لیتے ہیں تو جو حصہ ہضم ہو جاتا ہے،اسے چھوڑ کر باقی غیر ہضم اور ادھ ہضم حصہ جب آنتوں کے ذریعہ نیچے اُترنے لگتا ہے تو اس میں سے بہت سے مضر اجزاء باہر نکلتے ہیں اور زہر میں تبدیل ہو کر ہمارے خون میں مل جاتے ہیں۔

ان مضر حصوں کے ملنے سے ہمارا خون بگڑ جاتا ہے اور اس سے جسم میں طرح طرح کے امراض پیدا ہوتے ہیں۔خون بگڑنے کی وجہ سے جسم میں مرض تو بعد میں پیدا ہوتے ہیں سب سے پہلے فاسد مادے آنتوں کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں،وہاں ان میں ایک طرح کا ابال شروع ہوتا ہے جس کے باعث قبض اور بعد میں دوسرے خوفناک امراض پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ضرورت سے زیادہ بالکل مت کھائیں۔

بھوک رکھ کر کھانے سے انسان بہت سی بیماریوں سے بچ جاتا ہے۔
جب آپ بہت زیادہ کھانا کھاتے ہیں تو،پیٹ پھر بڑھ جاتا ہے۔اگلی بار آپ اتنا کھانا چاہتے ہیں۔پھر جب کم خوراک لینا فیصلہ کرتے ہیں تو پریشانی ہو سکتی ہے۔اس کا حل یہ ہے دن میں چار پانچ بار کھائیں۔بہت زیادہ بھاری غذا کی بجائے سادہ کھانے کو ترجیح دیں۔کھاتے وقت صرف کھانے کے بارے میں سوچیں۔

موبائل فون پر مصروف ہونے کی ضرورت نہیں،اس صورت میں زیادہ کھانے کا خطرہ ہے۔ہلکی ترکاریوں سے کھانا شروع کریں،اس سے بھوک کم ہو گی اور آپ بہت کم کھائیں گے۔چٹنیوں،ماؤنیز اور چربی والے کھانے کو ختم کریں۔ پھلوں،سبزیوں،اُبلی ہوئی مچھلی اور گوشت کو ترجیح دیں۔کھانے کے بعد بار بار پانی پینے سے عمل انہضام مشکل ہو جاتا ہے۔اس پر عمل کرنے سے آپ موٹاپے اور پیٹ کے بھاری پن سے بھی بچ سکتے ہیں،ممکنہ طور پر وزن بھی کم ہو سکتا ہے۔


آخر میں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کیلئے غذا کو اچھی طرح پکانا ضروری ہے،تاہم اسے اتنا بھی نہیں پکانا چاہئے کہ تمام غذائیت ہی ختم ہو جائے۔غذا کو زیادہ پکانے سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔گوشت کو زیادہ پکانے سے مضر صحت کیمیکلز پیدا ہو سکتے ہیں۔اسی طرح نشاستے سے بھرپور روٹی،اناج،آلو یا کوکیز) کو زیادہ کھانے سے پرہیز کرنا چاہئے۔

اس صورت میں ایکریلیمائڈ نامی ایک مرکب بننا شروع ہو جاتا ہے۔آلوؤں کو ابال کر کھانا زیادہ مفید رہتا ہے۔کوکنگ آئل بھی تلنے کیلئے بار بار استعمال نہ کیجئے۔اس سے نہ صرف کھانے کے ذائقہ کو متاثر کرتا ہے بلکہ پولیسی کلک ارومائٹ ہائیڈروکاربن (پی اے ایچ) نامی کیمیکل بھی بنتا ہے جسے یورپی اداروں نے صحت کیلئے اچھا قرار نہیں دیا۔تلنے کیلئے فریش آئس سے نہ صرف ذائقہ بہتر ہوتا ہے،بلکہ یہ صحت کی بھی پہلی ترجیح ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-07-03

Your Thoughts and Comments