Joroon K Dard Main Kiya Kiya Jaye? - Article No. 1733

جوڑوں کے درد میں کیا کیا جائے؟ - تحریر نمبر 1733

منگل نومبر

Joroon K Dard Main Kiya Kiya Jaye? - Article No. 1733
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ جوڑوں کا درد چالیس سال کے بعد شروع ہوتاہے لیکن یہ مرض عین نوجوانی میں بھی ہو سکتا ہے۔جوڑوں کے درد میں کمی لانا یا محفوظ رہنا اتنا بھی مشکل کام نہیں۔درحقیقت کچھ غذائیں،ورزشیں اور گھریلو اشیاء جوڑوں کے درد میں قدرتی طریقے سے نمایاں کمی لاسکتی ہیں۔
ادرک کی چائے
متعدد طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ادرک سے جوڑوں کے درد میں آرام آتاہے۔

ادرک سکھا کر پیس کر سفوف کی شکل میں استعمال کریں یا اس کے باریک ٹکڑے کرکے اسے چائے کے لیے ابالے جانے والے پانی میں پندرہ منٹ تک ڈبو کررکھیں۔ادرک کا مستقل استعمال جوڑوں کے درد میں کمی لانے میں مفید ہے۔
سوجن کی روک تھام کرنے والی غذاؤں کا استعمال
جوڑوں میں مبتلا افراد کو فاسٹ ،جنک اور تلی ہوئی غذاؤں کو ترک کر دینا چاہیے۔

(جاری ہے)

ایک سوئیڈش تحقیق کے مطابق جن لوگوں نے مچھلی،تازہ پھلوں و سبزیوں،گندم یا دیگر اجناس ،زیتون کے تیل،نٹس،ادرک لہسن وغیرہ پر مشتمل خوراک کو غذا کا مستقل حصہ بنا لیا،انہیں جوڑوں کی سوجن کا کم سامنا ہوا اور ان کی جسمانی صحت میں کافی حد تک بہتری آئی۔
خوشبو دار مصالحوں کو سونگھنا
ایک کورین تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کی تکلیف میں اس وقت کمی آگئی جب انہیں مختلف اقسام کے مصالحوں کی خوشبو سونگھائی گئی۔

ان میں کالی مرچ،گرم مصالحہ اور دیگر شامل تھے۔
برتن دھونا
ہاتھوں کے جوڑوں میں تکلیف کم کرنے کے لیے ہاتھ نیم گرم پانی میں کچھ دیر کے لیے ڈبو دیں تاکہ پٹھوں اور جوڑوں کو سکون ملے اور ان کی اکڑن کم ہو۔
جوڑوں کو گرم ٹھنڈے کا ٹریٹمنٹ دینا
اس ٹریٹمنٹ کے لیے دو پلاسٹک کی بالٹیوں کی ضرورت ہو گی،ایک میں ٹھنڈا پانی اور کچھ آئس کیوبس بھردیں جبکہ دوسرے میں ایسا گرم پانی ہو جس کا درجہ حرارت قابل برداشت ہو۔

پہلے تکلیف دہ جوڑوں کو ٹھنڈے پانی والی بالٹی میں ایک منٹ کے لیے ڈبو دیں اور اس کے بعد تیس سیکنڈ تک گرم پانی والی بالٹی میں متاثرہ جگہ کو ڈبوئیں۔اسی طرح بالٹیوں کو پندرہ منٹ تک بدلتے رہیں،مگر ہربالٹی میں تیس سیکنڈ تک ہی متاثرہ جگہ کو ڈبوئیں تاہم آخر میں اس کا اختتام ایک منٹ تک ٹھنڈے پانی والی بالٹی میں تکلیف میں مبتلا جگہ کو ڈبو کر کیا جائے۔

یہ عمل معالج کے مشورے اور نگرانی میں کیا جائے۔
سبز چائے کا استعمال
امریکا کی ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق روزانہ سبز چائے کے استعمال سے جسم میں ایسے کیمیکلز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جوجوڑوں کے درد میں مبتلا ہونے کا امکان کم کر دیتے ہیں۔ایک اور تحقیق کے مطابق سبز چائے میں موجود پولی فینول نامی اینٹی آکسائیڈنٹس سوجن میں کمی لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں جس سے پٹھوں میں آنے والی توڑ پھوڑ اور درد میں نمایاں کمی آتی ہے۔


ہلدی مفید ہے
یہ زرد مصالحہ اپنے اندر درد کش خوبیاں رکھتا ہے۔متعدد طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی کا استعمال جوڑوں کے مریضوں کی تکلیف اور سوجن میں کمی لاتاہے۔ایک تحقیق میں گھٹنوں کے جوڑوں کے درد میں مبتلا مریضوں کو روزانہ دو گرام یا ایک چائے کا چمچ ہلدی استعمال کرائی گئی جس کے نتیجے میں ان کی تکلیف میں کمی آئی۔

ہلدی کاسفوف آدھا چائے کا چمچ چاول یا سبز یوں پر روزانہ چھڑک دیں یا ایسے ہی پانی کے ساتھ نگل لیں۔
وٹامن سی جوڑوں کے درد میں مفید
وٹامن سی نہ صرف کولیگن(Collagen)نامی جز کی مقدار بڑھاتا ہے جو جوڑوں کا ایک اہم عنصر ہے بلکہ یہ جسم کے اندر موجود ایسے نقصان دہ اجزاء کا بھی صفایا کرتاہے جو جوڑوں کے لیے مضر ہوتے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ روزانہ وٹامن سی لیتے ہیں ان میں جوڑوں کے درد میں شدت آنے کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہو جاتاہے۔

دن بھر وٹامن سی سے بھر پور اشیاء کا استعمال کریں کیونکہ ہمارا جسم اس وٹامن کا ذخیرہ نہیں کرتا بلکہ دوران خون کے ذریعے مطلوبہ مقامات پر پہنچا کرکچھ دیر بعد خارج کر دیتاہے۔
خوراک میں لونگ کو شامل کریں
لونگ میں سوجن پر قابو پانے والا کیمیکل یو جینول(Eugenol)موجود ہوتاہے۔لونگ میں ایسے اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو ہڈیوں کو کمزور ہونے کا عمل سست کر دیتے ہیں۔


اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کا استعمال
اومیگا تھری فیٹی ایسڈز تکلیف دہ جوڑ کو راحت پہنچانے کے لیے مفید ہوتے ہیں۔ٹھنڈے پانیوں کی مچھلیوں میں اس کیمیکل کی بہت زیادہ مقدار ہوتی ہے۔ اس کیمیکل کے سپلیمنٹ بھی دستیاب ہیں جو ڈاکٹروں کے مشورے سے استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔ایسے آئل میں کھانا بنانے کو ترجیح دیں جن میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہیں۔


ادرک کا مرہم بنانا
پسی ہوئی ادرک کو تکلیف والے جوڑ پر لگانا جوڑوں کے درد میں مفید بتایا جاتاہے۔ادرک کا مرہم بنانے کے لیے تازہ ادرک کے تین انچ کے ٹکڑے کو پیس لیں جس میں کچھ مقدار میں زیتون کا تیل شامل کرکے اسے پیسٹ کی شکل دے دیں اور پھر تکلیف دہ جوڑ پر لگائیں۔ اس کے بعد اس جگہ کو کسی پٹی سے دس سے پندرہ منٹ تک ڈھکا رہنے دیں۔


ننگے پاؤں چہل قدمی
سر سبز گھاس پر ننگے پاؤں چہل قدمی سے گھٹنوں کے درد میں کمی ہوتی ہے۔ایک امریکی تحقیق کے مطابق کھلی فضاء میں کچھ دیر تک ننگے پاؤں گھومنا تکلیف میں کمی کا باعث بنتا ہے۔مگر اس کے لیے ایڑیوں کو اوپر اٹھا کر یا پنجوں کے بل چلنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے جوڑوں پر دباؤ مزید بڑھ جاتاہے۔
مصالحے دار غذا کا استعمال
لال مرچ،ادرک اور ہلدی میں سوجن میں کمی لانے والے اجزاء موجود ہوتے ہیں۔

یہ اجزاء ایسے دماغی سگنلز کو بھی بلاک کرتے ہیں جودردکی لہریں ٹرانسمٹ کرتے ہیں۔
کیلشیم کا استعمال
کیلشیم کی کمی سے ہڈیوں کا بھر بھر اپن یا کمزوری کا خطرہ بڑھ جاتاہے،جس کے نتیجے میں جوڑوں کے درد کی جانب سفر بھی تیز رفتار ہو جاتاہے۔پچاس سال کی عمر کے بعد خواتین کو روزانہ 1200ملی گرام کیلشیئم کا استعمال یقینی بنانا چاہیے،دودھ یا اس سے بنی مصنوعات کیلشیئم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں مگر دودھ سے بنی غذائیں بھی اس کا انتہائی بہترین ذریعہ ہیں۔

گوبھی اور سبز پتوں والی سبزیوں میں بھی کیلشیئم پایاجاتاہے۔یہ مقدارکے لحاظ سے دودھ سے کم ہوتاہے مگر یہ جسم میں زیادہ آسانی سے جذب ہو جاتاہے۔
سورج کی روشنی میں وقت گزاریں
متعدد افراد میں جوڑوں کا درد وٹامن ڈی کی کمی کا نتیجہ بھی ہوتاہے۔طبی رپورٹس کے مطابق جسم میں وٹامن ڈی کی سطح معمول پر رکھنا ہڈیوں کو نقصان سے بچاتاہے۔

جسم میں وٹامن ڈی کی سطح کو بڑھانے کے لیے روزانہ صبح کے وقت دس سے پندرہ منٹ سورج کی روشنی میں رہنا فائدہ مند ہے۔دودھ یا اس سے بنی دیگرمصنوعات بھی وٹامن ڈی کے حصول کا مفید ذریعہ ہیں۔
مچھلی کے تیل سے بنے کیپسول
ایک برطانوی تحقیق کے مطابق مچھلی کے تیل پر مشتمل کیپسول بھی جوڑوں میں ہونے والی تکلیف میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔


احتیاط
جسم کے جس حصے میں درد ہے اسے آرام دیں۔
جسم کے الارمنگ سسٹم کو سمجھیں اور جسم کی آوازیں سنیں ۔جسم کے کسی حصے یا پٹھے وغیرہ میں تکلیف ہوتو آرام اور مناسب تدابیر اختیار کی جائیں۔
جوڑوں کی ہلکی مالش کی جائے اور انہیں کھینچ کر سیدھا رکھتے ہوئے حرکت میں رکھیں۔
ڈاکٹر کے مشورے سے درد کی دوائیں لی جاسکتی ہیں۔


جوڑوں کے درد کے کچھ مریضوں میں درد والے مقام کی جلد بے حس ہو جاتی ہے۔ ان مقامات پر چھونے سے انھیں احساس نہیں ہوتا۔ اس کے لیے درد کے مقام پر گرم پانی میں کپڑا بھگو کر رکھا جائے۔
ایسی خواتین جو کئی مرتبہ حاملہ ہو چکی ہوں اُن میں جوڑوں کے درد کی شکایت زیادہ ہوتی ہے۔اس لئے انہیں زیادہ کیلشیم اور ہارمون والی دوائیں ڈاکٹر کے مشورے سے لینی چاہئیں۔
مریض کو چاہئے کہ وہ قبض نہ ہونے دے۔اس کے لئے بادی،ٹھنڈی اور کھٹی چیزوں سے پرہیز کیا جائے۔
جوڑوں کے درد کے مریض کو تیل ،مکھن اور تلی ہوئی چیزیں زیادہ نہیں کھانی چاہئیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-11-19

Your Thoughts and Comments