Diabetes Se Mehfooz Raheen - Article No. 2089

ذیابیطس سے محفوظ رہیں - تحریر نمبر 2089

پیر فروری

Diabetes Se Mehfooz Raheen - Article No. 2089
عبدالرحمن
شوگر ایک ایسی بیماری کا نام ہے جو اگر لاحق ہو جائے تو ساری زندگی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑتی،ہر سال لاکھوں افراد اس سے ہلاک ہوتے ہیں جبکہ یہ کسی کو بھی لاحق ہو جانے والی بیماری ہے۔شوگر نامی بیماری اُس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کرکے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے،فالج،نابینا پن،گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی ایک رپورٹ کے مطابق صرف پاکستان میں ہر سال شوگر کے مرض میں مبتلا تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد شوگر کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

(جاری ہے)


جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر(گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے،جس کے بعد لبلبے(پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لئے اس شکر کو جذب کرے۔

شوگر کا مرض تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی،اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق پھل اور سبزیاں کم کھانے والے 1 کروڑ 20 لاکھ افراد ذیابیطس کا شکار ہو سکتے ہیں۔جبکہ دنیا بھر میں پہلے ہی 65 کروڑ کے قریب اس کے مریض موجود ہیں۔ہر دو میں سے ایک مریض کو بروقت علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ ذیابیطس کا مریض ہے۔

اسے اس وقت پتہ چلتا ہے جب پانی سر سے گزر چکا ہوتا ہے“۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا کا ہر 12 واں شخص ذیابیطس کا مریض ہو سکتا ہے، لیکن اگر لوگ پھلوں کا مزید استعمال شروع کر دیں تو اس مرض کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے اسی لئے برطانوی ماہرین نے اپنے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے خوراک میں پھلوں اور سبزیوں کی مقدار بڑھانے کی ہدایت دی ہے۔اس سلسلے میں کئے گئے ایک سروے سے پتہ چلا کہ ذیابیطس کے زیادہ تر مریضوں نے 75 فیصد تک کم پھل اور سبزیاں استعمال کیں یعنی جسمانی ضرورت سے کہیں کم۔

ماہرین کے مطابق پھل استعمال کرنے والے لوگوں کی بڑی تعداد خود کو ذیابیطس ٹو سے بچا سکتی ہے یا اسے کچھ وقت کے لئے ملتوی کر سکتی ہے۔شوگر کے مریض زیادہ آکسیڈنٹس اور حیاتین سے بھرپور موسمی پھلوں اور سبزیوں کو کھا سکتے ہیں جن میں کریلے، اسٹرابیری،ٹماٹر،ادرک،مچھلی،گوبھی اور امرود بھی شامل ہیں۔ذیابیطس کے مریض کیوی،سیب،انار،آڑو،پپیتا،ناشپاتی،تربوز،اور گریپ فروٹ بھی ایک حد تک کھا سکتے ہیں۔


بعض پھلوں اور سبزیوں میں بھی مٹھاس موجود ہوتی ہے۔مثلاً پھلیوں کے ایک ٹن میں 5 چمچ شوگر پائی جاتی ہے۔لیکن یہ پراسیسڈ کی گئی شوگر سے کافی مختلف ہوتی ہے،یہ شوگر فائبر،پانی،حیاتین اور آکسیڈنٹس کے ساتھ ہونے کی وجہ سے پراسیسڈ کی گئی چینی کی طرح نقصان دہ نہیں ہوتی۔جب آپ پھلوں کی شوگر استعمال کرتے ہیں تو یہ خون میں فوری طور پر چینی کی طرح سے جذب نہیں ہوتی،بلکہ پانی اور دیگر کیمیکلز کی موجودگی اس کے اثرات کو کم کر دیتی ہے،ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ جب ”کوئی شخص چینی کھاتا ہے،تو اس کے جسم کو مزید چینی کی طلب ہوتی ہے،مگر پھلوں کی صورت میں ایسا نہیں ہوتا۔

بہت سے لوگ پھل کھانے سے پہلے اس پر نمک چھڑک لیتے ہیں،یہ لوگ بلڈ پریشر،دل کے دورے،سٹروک اور گردے کی بیماریوں کو خود ہی دعوت دیتے ہیں۔نمک کا کم سے کم استعمال ان بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
سروے میں 60 فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ لازماً سبزیاں کھانا چاہتے ہیں مگر 23 فیصد کے نزدیک یہ بہت مہنگی ہیں۔10 فیصد کے نزدیک ان کی تیاری میں بہت وقت لگتا ہے کون پکائے کون کھائے۔

16 فیصد کے نزدیک انہیں جلدی دفتر جانے کے لئے سبزیاں استعمال کرنے کی ضرورت نہیں۔پرائمری سکول چھوڑنے سے پہلے بعض بچوں کا وزن بڑھ جاتا ہے ایسے بچوں میں ذیابیطس کے اندیشے بھی بڑھ جائیں گے۔ایم۔اے ایلگزین برطانیہ میں کلینکل ایڈوائزر ہیں،انہوں نے سروے کو تشویشناک قرار دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ”ہم لوگوں سے کیا کہہ رہے ہیں وہ صرف اپنا لائف سٹائل بدل کر اپنی خوراک میں پھل اور سبزیوں کی مقدار بڑھانے کے بعد تھوڑی سی ورزش کر لیں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہر قسم کی ذیابیطس سے بچائے رکھے گا۔

اور یہی نہیں اس سے اندھے پن اور جلدی اموات میں بھی کمی ہو گی۔“اسی لئے برطانیہ میں اب اچھی خوراک کے لئے ایک مہم شروع کی جا چکی ہے۔
یہ تحقیق ہمارے لئے بھی ایک سبق ہے۔ہم تحقیقات تو نہیں کر سکتے جو دنیا بھر میں ہو رہی ہیں ان تحقیقات سے فائدہ اٹھا کر اپنے ہاں امراض میں کمی ضرور لا سکتے ہیں۔لیکن کیا کریں،ہمارے ہاں پھل اور سبزیاں عوامی قوت خرید سے باہر ہو چکی ہیں۔سیب اور کیلے کھانے کا سوچا بھی نہیں جا سکتا،ٹماٹر بھی ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دیتا۔حکومت اگر عوام کی صحت چاہتی ہے تو ان ضروری اشیاء کی قیمتوں کو کنٹرول کرے۔
تاریخ اشاعت: 2021-02-22

Your Thoughts and Comments