Fast Food K Baare Main Haqaiq - Article No. 2012

فاسٹ فوڈ کے بارے میں حقائق - تحریر نمبر 2012

جمعہ نومبر

Fast Food K Baare Main Haqaiq - Article No. 2012
غذائیت سے بھرپور صحت بخش غذا ایسی چیز ہے جس کی ہر انسان کو ضرورت ہوتی ہے اور فاسٹ فوڈ ایسا کھانا ہے جسے مختصر اور کم وقت میں آسانی سے بنایا جا سکتا ہے۔ فاسٹ فوڈ وقت کی بچت کا ایک اچھا طریقہ ہے لیکن اس کی صحت کے لئے کوئی غذائیت بخش قیمت نہیں ہے۔ اس میں بہت ساری کیلوری اور چربی ہوتی ہے۔ تیز کھانا جس کو ہم سب ہی پسند کرتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ میں پیزا‘ سینڈوچ‘ برگر‘ چپس شامل ہیں اور اس میں مشروبات بھی شامل ہیں۔

فاسٹ فوڈ سستا ہے۔ اس کا ذائقہ اچھا لیکن صحت اور غذا کے لئے غیر صحت بخش ہے۔ اسٹورز پر دستیاب کھانے میں زیادہ مقدار میں سوڈیم اور غیر صحت بخش چربی ہوتی ہے جو صحت کو تباہ کر سکتی ہے۔ فاسٹ فوڈ پیسوں کا ضیاع بھی ہے صحت کو بھی جلد تباہ کر دیتے اور آپ کو مختلف بیماریوں کا شکار بنا دیتے ہیں فاسٹ فوڈ غیر صحت بخش کیوں ہے؟آئیے جانتے ہیں۔

(جاری ہے)


بہت زیادہ شوگر:
فاسٹ فوڈ آئٹمز میں چینی کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے۔

شوگر کا زیادہ استعمال صحت کو خراب کرتا ہے اور آپ کو بیمار بھی بنا دیتا ہے۔ ایک عام برگر میں 10 گرام چینی ہوتی ہے غیر صحت بخش فاسٹ فوڈ کی اشیاء میں بہت ساری کیلوریز ہوتی ہیں جبکہ چینی کا زیادہ استعمال آپ کے لئے مفید نہیں ہے۔
موٹاپا:
دراصل بنیادی طور پر اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم میں بہت زیادہ چربی ہے۔ فاسٹ فوڈ میں کیلوریز ہوتی ہیں جو آپ کو زیادہ وزن کی طرف لے جاتی ہیں فاسٹ فوڈ نے ہمارے کھانے کے معمولات کو بھی متاثر کیا ہے جو لوگ فاسٹ فوڈ کا استعمال زیادہ کرتے ہیں وہ پھل‘ سبزیاں اور دودھ کا استعمال نہیں کرتے یہ معمول خود بخود موٹاپے کی طرف لے جاتا ہے۔


امراض قلب:
کہا جاتا ہے کہ دل کی بیماریاں ان لوگوں میں بہت عام ہیں جو مستقل بنیادوں پر فاسٹ فوڈ استعمال کیا کرتے ہیں ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ فاسٹ فوڈ چار ہفتوں سے زیادہ کھاتے ہیں ان کے لئے دل کی بیماریوں کے بہت سے امکانات ہیں کیونکہ فاسٹ فوڈ میں بڑی مقدار میں چربی ہوتی ہے جو خون کی شریانوں کو تنگ و سخت بنا کر جسم میں خون کی روانی متاثر کرنے اور کولیسٹرول کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ کرنے کا اہم سبب بنتی ہے۔

اسی لئے فاسٹ فوڈ دل اور مجموعی انسانی صحت کے لئے بھی مضر ثابت ہوتا ہے۔
ذیابیطس:
دیکھا جائے تو فاسٹ فوڈ نے گھر پر کھانا پکانے کی روایت کو بھی متاثر کیا ہے کیونکہ مصروف افراد کیلئے یہ بہترین متبادل ثابت ہوتا ہے فاسٹ فوڈ کا استعمال ناقص طرز زندگی کی وجہ ہے جس میں آپ کا وزن بڑھتا اور آپ غیر متحرک ہو جاتے ہیں۔ فاسٹ فوڈ آپ کو موٹاپے کی طرف لے جاتا ہے اور پھر آپ ذیابیطس کے مرض میں بتدریج مبتلا ہونے لگتے ہیں اور یہ علامات اچھی نہیں۔


خاندانی اجتماع نہیں:
اب دسترخوان پر خاندانی اجتماع کا فقدان نظر آتا ہے کیونکہ فاسٹ فوڈ نے ہمارے کنبے میں جمع ہونے کی روایت کو بھی متاثر کیا ہے۔ جدیدیت کے اس دور میں ہر ایک بہت زیادہ مصروف ہے کہ ان کے پاس اپنے عزیزوں کو دینے کے لئے وقت نہیں ہے۔پہلے یہ رواج تھا کہ گھر والوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا یا رات کا کھانا مل جل کر کھایا جاتا تھا لیکن اب فاسٹ فوڈ آنے سے ہر شخص پیدل چلتے‘ گاڑی چلاتے اور اپنے کام کی جگہ پر بیٹھے ہوئے کھانا منگوا اور اسے استعمال کر سکتا ہے۔

فاسٹ فوڈ کی یہی خوبی ہے۔
کوئی خاص وقت نہیں:
فاسٹ فوڈ کھانے کے لئے کوئی خاص وقت نہیں ہوتا ہے جبکہ صحتمند شخص کو مناسب وقت پر کھانا کھانے کی ضرورت ہوتی ہے یہ کھانے چونکہ ٹرینڈی اسٹائل میں پکائے اور اس انداز میں تیار کیے جاتے ہیں کہ اسے ہر جگہ ہر وقت با آسانی کھایا جا سکتا ہے۔ اسی لئے اگر کسی کے سامنے جس وقت بھی کوئی فاسٹ فوڈ آئٹم آتا ہے وہ اسے استعمال کیے بناء رہ نہیں پاتا ہے۔


فاسٹ فوڈ کی تیاری:
عموماً بازاروں میں جہاں فاسٹ فوڈ تیار کیے جاتے ہیں وہ جگہ اور ماحول صحت بخش کھانا پکانے کے لئے اتنا بہترین نہیں ہے۔ اس سے پیٹ کی خرابی‘ بھوک کی کمی‘ غیر معمولی نظام انہضام اور بعض اوقات فوڈ پوائزنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ فاسٹ جسم کو درکار تمام تر غذائی ضروریات کو پورا نہیں کرتا بلکہ اس سے آپ کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


فاسٹ فوڈ صحت بخش نہیں:
فاسٹ فوڈ میں صحت بخش غذائی اجزاء موجود نہیں ہیں۔ جس کے باعث فاسٹ فوڈ کا مسلسل استعمال آپ کو جسمانی عارضے کی طرف لے جاتا ہے فاسٹ فوڈ کے برعکس گھر میں پکا ہوا کھانا مزیدار ذائقوں کے ساتھ لازمی صحت بخش خصوصیات سے مالا مال ہے اور ساتھ ہی غذائی اجزاء کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے جس کے باعث گھر میں پکا ہوا کھانا صحت بخش ہوتا ہے لہٰذا گھر میں پکے ہوئے کھانے کو ترجیح دیں تاکہ صحتمند رہ سکیں۔
تاریخ اشاعت: 2020-11-20

Your Thoughts and Comments