Mask Pehan Kar Ghar Se Niklana Kyun Zaroori Hai

ماسک پہن کر گھر سے نکلنا کیوں ضروری ہے ؟

Mask Pehan Kar Ghar Se Niklana Kyun Zaroori Hai

معروف طبی جریدےThe Lancet Planetary Healthمیں شائع کئے گئے مطالعے کے مطابق2016میں تشخیص کردہ ذیابیطس کے کیسز میں 14%فیصد کیسز کی بنیادی وجہ ماحولیاتی آلودگی ہے ۔تاہم اس تحقیق سے اخذ کردہ نتائج کی صحت یعنی اس کی درستگی اور منطق کو یقینی بنانے کیلئے تحقیقاتی ٹیم نے موٹاپے اور باڈی ماس انڈیکس (BMI)کوConstant Variablesکے طور پر لیا ہے تا کہ کسی اور وجہ سے نتائج متاثر نہ ہو سکیں ۔

ٹیم نے تحقیق سے بتایا کہ PM2.5نامی ذرات ما حولیاتی آلودگی سے ذیابیطس کی شرح میں اضافے کے لئے یقینی طور پر ذمہ دار ہیں ۔اس ذرے کا سائز2.5 مائیکرومیٹر ہونے کے سبب سائنسدان اس کی ساخت اور بناوٹ کے مطالعے سے قاصر ہیں تاہم فی الوقت یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس میں زہریلے مادے /کیمیکلز پائے جاتے ہیں ۔
PM2.5نامی ذرات کے مضر صحت ہونے کی بنیادی وجہ ان کا حد درجہ چھوٹا سائز ہے جو کہ با آسانی سانس لینے کے عمل کے دوران منہ کے ذریعے پھیپھڑوں اور پھر تمام جسم میں داخل ہو کر خون کی نالیوں میں جذب ہوجاتا ہے ۔

(جاری ہے)

خون کے دور انئے کے ساتھ ساتھ یہ جسم کے دیگر اعضاء تک پہنچ کر سوزش کا باعث بنتا ہے جس کے نتیجے میں لبلبہ میں انسولین کی پیداوار کم ہوتی ہے ۔خون میں مسلسل جذب ہونے کی صورت میں انسولین کی پیداوار بند ہوجاتی ہے جو کہ ذیابیطس کا سبب بنتی ہے۔
عام طور پر PM2.5کے اخراج کا بنیادی ذریعہ صنعتی یونٹوں میں جلنے والا ایندھن ہے تا ہم سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں سے خارج ہونے والے دھوئیں میں اس کی سب سے زیادہ مقدار پائی جاتی ہے جو کہ انتہائی مضر صحت ہے جس کی روک تھام ممکن نہیں ۔


Environmental Protection Agencyاس کوشش میں مصروف عمل ہیں کہ کسی طرح ماحول میں آلودگی کی سطح کو متوازن رکھا جائے تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ اقدامات کافی نہیں اس ضمن میں مزید حکمت عملی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ بنگلہ دیش ،پاکستان ،انڈیا اور New Guinea Papuaجیسے ترقی پذیر ممالک میں ماحولیاتی آلودگی سے متعلق قوائد وضوابط پر سختی سے عمل درآمد ممکن نہیں جس کے باعث عوام ایسی مضر صحت بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں جن کے لئے تاحیات ادویات پر انحصار کرنا پڑتا ہے ۔جب تک گاڑیوں میں صاف ستھرے ایندھن کے ذرائع عام نہیں ہوتے ،یہ ضروری ہے کہ دھوئیں کے اخراج پر قابو پایا جائے اور حفاظتی طور پر چہرے کو ماسک سے ڈھانپ کے باہر نکلا جائے ۔

تاریخ اشاعت: 2018-12-25

Your Thoughts and Comments