In Motiyon Ki Lari Kahin Zard Na Pare

ان موتیوں کی لڑی کہیں زردنہ پڑے

In Motiyon Ki Lari Kahin Zard Na Pare
خوبصورت چمکدار دانت خاتون کے ہوں یا کسی مرد کے ،دیکھنے والوں کو خوش کن احساس دیتے ہیں ۔سفید چمکدار دانت اچھی صحت کی دلیل بھی ہوتے ہیں لیکن بد احتیاطی سے یہ پیلے پڑنے لگتے ہیں۔ایک تو قدرتی رنگ ہوتا ہی ہے جو سانولے لوگوں پر جچتا ہے تاہم پھر بھی دانتوں کی صفائی اور ان کی چمک کے لئے کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔دانتوں کے داغ کیسے دور کئے جاسکتے ہیں آئیے ہم آپ کی رہنمائی کرتے ہیں۔


مالٹے،کینو اور دیگر سٹرس فروٹس کے چھلکے
ان پھلوں کو کھانے کے بعد ان کے چھلکوں کو دانتوں پر رگڑاجائے تو یہ دانتوں کی سفیدی بر قرار رکھتے ہیں۔چھلکوں میں موجود وٹامن Cبیکٹیریا کے خلاف محافظ کا کردار بھی ادا کرتا ہے اور داغ دھبے بھی دور کر دیتا ہے۔

(جاری ہے)

چند سیکنڈرگڑنے سے آپ خود فرق محسوس کریں گے اس کے بعد سادے پانی سے کلی کرلیں۔


بیکنگ سوڈا،ایلوویرا اور گلیسرین
ایک کپ پانی میں ایک چائے کے چمچ کے برابر بیکنگ سوڈا،اتنی ہی مقدار میں ایلوویرا جل اور اس سے دگنی مقدار میں ویجی ٹیبل گلیسرین اور لیموں کے رس کے چند قطرے ملا کر اپنے ٹوتھ برش سے برشنگ کریں۔دھیرے دھیرے کریں جتنی دیر با آسانی کر سکیں بعد ازاں کلیاں کرلیں۔دانت سفید،چمکدار اور صحت مند نظر آئیں گے۔


بیکنگ سوڈا
سوڈا دانتوں کے لئے قدرتی ریگ مال کا کام کرے گا۔اس سے دانت صاف ہو تے ہیں۔شروع میں ایک چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا لے کر چٹکی بھر نمک مکس کرلیں اور ٹوتھ برش نم کرکے اس مکسچر میں ڈبو کر برشنگ کریں جیسے آپ دانتوں کو صاف کیا کرتے ہیں۔اسے نگلنے کی کوشش نہ کریں۔
سرکہ
ایک چائے کے چمچ سرکے(سفید)میں چٹکی بھر نمک اور تھوڑا سا پانی لے کر مکسچر بنا لیں اور اس سے برشنگ کرلیں صر ف دس منٹ سے بھی کم عرصے میں آپ کے دانت موتیوں کی مانند کھل اٹھیں گے۔


لونگ اور لیموں کا رس
لیموں کا رس تن تنہا بھی بے حد کا ر آمد ہے اور اگر اس میں ایک چائے کا چمچ لونگ کا تیل ملا لیا جائے اور اس مکسچر سے دانت صاف کئے جائیں تو بہتر ین نتائج سامنے آتے ہیں۔
تلسی کے پتے
تلسی کے چند پتے لے کر اس میں مالٹے کے چھلکے کا سفوف ملا لیا جائے اور پانچ منٹ تک دانتوں کو صاف کیا جائے تو یہ سفید اور چمکدار ہو جائیں گے۔


نیم کے پتے
نیم انسانی صحت کے لئے بہترین پوداہے اس کے پتوں کو پیس کر سفوف بنا لیا جائے اور اس سے دانت صاف کئے جائیں تو سفیدی اور چمک بر قرار رہتی ہے اور بیکٹیریا کا بھی خاتمہ ہوجاتا ہے ۔آپ نے کئی مشہور ٹوتھ پیسٹس کے اجزاء میں نیم کے پتوں کا سفوف اور کیمیائی جزو شامل ہوتے دیکھا ہو گا۔اگر آپ قدرتی شکل میں نیم کا استعمال بھی کریں تو دانتوں میں کیڑا لگنے کی شکایت پر قابو پایا جانا آسان ہو گا۔


اسٹرابیریز
دانتوں کی صفائی کے لئے یہ اکسیر پھل ہے۔صرف ایک اسٹرابیری ،تھوڑا سا بیکنگ پاؤڈر کچل کر مکس کرلیں۔اور ہر روز تین منٹ تک دانتوں پر لگا رہنے دیں اور نرم انگلی سے رگڑیں اور پھر کلی کرلیں ۔نتیجہ حیرت انگیز بھی ہو گا اور منہ کی صحت وٹامنCکی وجہ سے بر قرار بھی رہے گی۔
سہاگہ،سمندری نمک اور سرسوں کا تیل
یہ تینوں اجزاء تھوڑے سے کھانے کے سوڈے میں ملا کر مکسچر بنا لیا جائے اور اسے دانتوں اور مسوڑھوں پر رگڑ ا جائے تو دانت کیڑے لگنے سے بھی محفوظ رہیں گے ،مسوڑھوں کی صحت بحال رہے گی اور دانت قدرتی طور پر چمکدار اور صحت مند نظر آئیں گے ۔

غرضیکہ کھانے کی بے شمار چیزوں سے صفائی اور بیرونی کشش وجاذبیت کا عمل اختیار کیا جا سکتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں دانتوں کے معالجین سے بھی ہر سال یا چھ ماہ بعد دانتوں کی صحت کی جانچ پڑتال کراتے رہنا چاہئے۔کہیں دانتوں میں کوئی خلا تو نہیں ،پروفیشنل انداز سے دانتوں کی کلینز نگ کی ضرورت ہے؟یا وائٹنگ کے لئے رجوع کرنا درست ہو گا۔یہ اور ایسے متعدد سوالوں کے حل اور جواب صرف ڈینٹسٹ کے پاس موجود ہیں۔


ناریل کا تیل
ناریل کھائیں اس کا پانی پئیں ،اس کا دودھ استعمال کریں اور اس کے تیل کو بالوں کی قدرتی افزائش کے لئے استعمال کریں ۔یہ ہر شکل میں مفید پھل ہے اور اگر ناریل کے تیل سے دانتوں کو نرم انگلیوں سے رگڑا جائے اور کلی کرلی جائے تو بھی دانتوں پر جمے پان ،تمباکو اور چائے کے داغ جاتے رہتے ہیں۔
تاریخ اشاعت: 2019-08-15

Your Thoughts and Comments