Qehwa Aur Dant Ka Dard - Article No. 2256

قہوہ اور دانت کا درد - تحریر نمبر 2256

ہفتہ 25 ستمبر 2021

Qehwa Aur Dant Ka Dard - Article No. 2256
یہ تو ہم عرصہ دراز سے سنتے چلے آئے ہیں کہ قہوہ یا سبز چائے مجموعی جسمانی صحت کے لئے ایک قدرتی ٹانک کا درجہ رکھتی ہے یہاں تک کہ چین و جاپان کی تہذیب و ثقافت میں سبز چائے یا قہوہ کو عمر درازی کے ایک تہذیبی ورثے کے طور پر بھی اہم مقام حاصل ہے۔لیکن شکاگو، امریکہ کے تحقیق کاروں نے اس بے مثال مشروب کا دانتوں کی صحت کے حوالے سے کی جانے والی تازہ ترین دریافت سے نہ صرف سب کو چونکا دیا ہے بلکہ طب کی دنیا میں سبز چائے/ قہوے کی اہمیت و افادیت پر پسندیدگی ایک اور مہرثبت کر دی ہے۔


امریکہ میں واقع Chicago College Of Dentistry کی پروفیسر اور اس ریسرچ ٹیم کی سربراہ Dr.Christine D.Wa (جو یونیورسٹی آف Illinois سے بھی وابستہ ہیں) کے مطابق قہوہ یا سبز چائے میں Polyphenols نامی مانع تکسید (Antioxidant) جز پایا جاتا ہے جو غذا کے استعمال کے بعد دانتوں پر جمنے والے Plaque کی عمل پذیری کو روک کر دانتوں میں Cavities بننے اور مسوڑھوں کو سوچنے سے محفوظ رکھتا ہے۔

(جاری ہے)


ڈاکٹر D.Wa کے مطابق ”ہر کھانے کے بعد سبز چائے یا قہوہ کا ایک کپ‘سانسوں کی ناخوشگوار مہک کو زائل کرنے کا سبب بنتا ہے کیونکہ سانسوں کی ناخوشگوار بو کی وجہ دراصل منہ میں پرورش پانے والے ایک بیکٹیریا کی موجودگی ہوتی ہے جسے غذا استعمال کرنے کے بعد باقاعدہ کی جانے والی منہ کی صفائی اور سبز چائے یا قہوہ کے باقاعدہ استعمال سے ختم کیا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ تجارتی سطح پر بازار میں دستیاب مختلف سبز چائے اور قہوہ کی پتیاں فلورائیڈ (Fluoride) سے بھی بھرپور ہوتی ہے جسے دانتوں کے قدرتی Enamel کی حفاظت کے حوالے سے اہم تصور کیا جاتا ہے۔
تاریخ اشاعت: 2021-09-25

Your Thoughts and Comments