Teeth Care

دانتوں کی حفاظت

منگل جنوری

Teeth Care
چمک دار اور صاف ستھرے دانت والے لوگ دوسروں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔خوبصورت دانت مسکراہٹ کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔دانت چہرے کی خوبصورتی کا ایک حصہ ہیں۔اگر دانتوں میں کسی قسم کا نقص یا بیماری ہو جائے تو خوبصورتی ماند پڑھنے کے ساتھ ساتھ بہت سی نعمتیں کھانے سے معذوی ہو جاتی ہے۔دانتوں کی دیکھ بھال جسم اور چہرے کی نسبت کہیں زیادہ کرنی چاہیے۔

دانتوں کو ہر روز کم از کم دو بار صاف کیا جائے تو دانتوں کی بہت سی بیماریوں سے محفوظ رہا جا سکتاہے۔خاص طور پر میٹھا کھانے کے بعد لازمی طور پر دانتوں کو صاف کرنا چاہیے کیونکہ شکر میں ایک خاص قسم کا بیکٹیریا ہوتاہے جو لعاب کے ساتھ مل کر تیزابی مادے میں تبدیل ہو جاتاہے۔تیزابی مادہ دانتوں کی سطح پر جم کر دانتوں کی قلعی کو کھوکھلا کر دیتاہے۔

(جاری ہے)

دانتوں کی حفاظت دانتوں کے امراض سے بچنے اور خوبصورتی بر قرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ روزانہ صبح وشام کسی اچھے ٹوتھ پیسٹ سے برش کیا جائے ممکن ہو سکے تو ہر کھانے کے بعد کیا جائے۔
دنیا بھر میں کروڑوں لوگ دانتوں کی مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں جن میں مسوڑھوں سے خون آنا،ورم اور سوجن کا ہونا یا پیپ اور جلن کا پیدا ہونا زیادہ تکلیف دہ اور عام ہیں۔

مسوڑھوں میں ورم کی ابتداء دانتوں پر پلاک کی تہہ جم جانے سے ہوتی ہے۔پلاک دراصل ایک مادہ ہے جو کہ دانتوں کی صحیح طور پر صفائی نہ ہونے کی وجہ سے ان پر جمنا شروع کر دیتاہے۔نتیجتاً مسوڑھے مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔برش کرنا دانتوں کی مکمل صفائی کر دیتاہے۔ماہرین کی رائے کے مطابق اگر غذا میں چند ایسے اجزاء شامل کر لئے جائیں جو دانتوں اور مسوڑھوں کی صحت و صفائی میں مددگار ہوں تو طویل عرصے تک اچھی صحت اور خوراک سے لطف اندوز ہوا جا سکتاہے۔

ذیل میں دانتوں کے لئے چند مفید ٹپس دی جارہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق وہ تمام پھل جو وٹامن سی سے بھر پور ہوں مثلاً کینو،مالٹا،امرود،اسٹرابیری وغیرہ ان کا روزانہ استعمال مسوڑھوں کے عضلات کو جوڑنے والی بافتوں (ٹشوز)کو مضبوطی بخشتاہے۔
کھانے یا سلاد میں سفید تلوں کا استعمال پلاک کی تہہ کو صاف کرتاہے اور دانتوں کی بیرونی تہہ یعنی اینمل کو مضبوطی بخشتاہے۔

سفید تلوں میں پایا جانے والا کیلشیم دانتوں اور مسوڑھوں کے گردہڈیوں کو طاقتور بناتاہے۔ہفتے میں دو تین بار ایک ٹیبل اسپون تلوں کا استعمال نا صرف نرمی سے دانتوں کی صفائی کرتا ہے بلکہ کیلشیم بھی فراہم کرسکتاہے۔
پنیر کا استعمال جسم میں کیلشیم کی ضرورت کو بخوبی پورا کرتاہے۔اگر پنیر کا ایک ٹکڑا کھانے کے بعد کھایا جائے تو یہ منہ میں بننے والے تیزابی مادوں کی تیزی کو کم کرنے میں بھی مفید ہے۔


گنڈیری یا گنے کا چوسنانا صرف ہاضمے کے نظام کو بہتر کرتاہے بلکہ یہ دانتوں اور مسوڑھوں کی صفائی کاکام بھی بخوبی کر سکتاہے۔
پالک سمیت تمام گہرے سبز پتوں والی سبزیاں کیلشیم اور میگنیشیم حاصل کرنے کا اچھا ذریعہ ہیں۔یہ کیلشیم ہڈیوں کو بھی مضبوطی بخشتاہے۔
پیاز میں طاقتور قسم کے اینٹی بیکٹیریل سلفر کے مرکبات پائے جاتے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق پیاز میں مختلف قسم کے بیکٹیریا کو ہلاک کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔پیاز کچی حالت میں بطور سلاد استعمال کرنا زیادہ مفید سمجھا جاتاہے ۔اس کی ناگوار بو پودینے یا دھنیے کے چند پتوں کو چبانے سے زائل ہو جاتی ہے۔
سرسوں کا تیل،لیموں کا رس،سوندھا نمک ملا کر منجن کرنے سے دانت صاف ہو تے ہیں۔درد اور دانت ہلنے میں یہ منجن مفید ہے۔


سرسوں کے تیل میں نمک بہت باریک پیس کر ملا کر منجن کرنے سے بھی دانت درد،مسوڑھے پھولنا ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
پانچ لونگ پیس کر ان میں لیموں کا رس نچوڑ کر دانتوں پر ملنے سے درد دور ہو جاتاہے۔
دانت میں درد ہونے پر لونگ رکھنا،یا اس کا تیل لگانا مفید ہے۔سنگترے کے چھلکے باریک کاٹ کر دھوپ میں سکھالیں اور جب یہ چھلکے اچھی طرح خشک ہو جائیں تو انہیں باریک پیس کر کسی شیشی میں بھر کر رکھ لیں ۔

دن میں تین بار اس منجن سے دانت صاف کیے جائیں ۔دانتوں کی پیلاہٹ ختم ہو جائے گی۔یہ دانتوں کی بعض دیگر تکالیف میں بھی مفیدہیں۔
پانی اور نمک سے غرارے کرنا یہ سب سے آسان اور مفید ٹوٹکا سمجھا جاتاہے جس میں نیم گرم پانی میں نمک ملا کر غرارے کریں،اس سے دانت اور مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں،ایسا روز کرنے سے دانتوں میں ٹھنڈا اور گرم لگنے کی کیفیت سے بھی چھٹکارا حاصل کیا جا سکتاہے۔

شہد کو سرکے میں گھول کر کلیاں کرنے سے مسوڑھوں کو مضبوطی ملتی ہے․․․․․
ارجن کی چھال کا پانچ انچ کا ٹکڑا پانی میں اچھی طرح جوش دے کر پانی چھان لیں۔اس پانی سے صبح وشام کلیاں کرنے سے دانت مضبوط ،چمکدار ہوں گے اور منہ سے بدبو بھی نہیں آئے گی۔
مسوڑھوں کو صحت مند رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دانتوں کے درمیان اور مسوڑھوں کے اطراف میں دوران خون مناسب ہو۔

دو قطرے سرسوں کے تیل اور چٹکی بھر نمک کو ملا کر دانتوں پر ملنے سے دانتوں میں چمک آجائے گی۔داڑھ کے درد میں ایک عدد لونگ چنے کے دانے کے برابر روئی کے ٹکڑے پر لگا کر داڑھ میں رکھنے سے درد میں افاقہ ہوتاہے۔
دانتوں کو چمکدار بنانے کے لئے نیم کی چھال سے دانت صاف کریں۔لیموں کا رس دانتوں پر لگانے سے جما ہوا میل اتر جاتاہے۔پیپل کی مسواک کرنے سے مسوڑھوں کا ورم ٹھیک ہو جاتاہے۔

دانتوں کو مضبوط کرنے کے لئے سر کے اور شہد میں پھٹکری ملا کر پکائیں اور گاڑھا کرلیں۔پھر دانتوں پر صبح وشام ملیں چند منٹ بعد اچھی طرح کلی کرلیں۔دانت مضبوط اور چمک دار ہو جائیں گے۔غذا کا خیال رکھا جائے اور کوشش کی جائے کہ غذا میں وٹامن،معدنی اجزاء اور پروٹین کافی مقدار میں شامل ہوں۔کچی ترکاریاں،سیب ،گنا استعمال کرنے سے مسوڑھوں کی ورزش ہو جاتی ہے۔


احتیاط
تمباکو استعمال کرنے سے گریز کیا جائے یہ نہ صرف دانتوں کو داغ دار اور سانس کو بدبو دار بناتاہے بلکہ مسوڑھوں کو نقصان اور حلق کے سرطان جیسی پیچیدگیاں بھی اس کا نتیجہ ہو سکتی ہیں۔بہت زیادہ شکر یا میتھی اشیاء سے بھی پرہیز کیا جائے،چاکلیٹس ،ٹافیاں(کینڈیز)اور بہت زیادہ شکر آمیز مشروبات ویسے ہی آج کل معالجین کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہیں۔

ان سے منہ میں موجود تیزابی اجزاء کی مقدار بھی زیادہ ہوجاتی ہے جو بالآخر دانتوں کی خرابی وخستگی(Tooth Decay)پر جا کر ختم ہو تی ہے۔
دانت قدرت نے غذا کو چبانے کے لئے بنائے ہیں لہٰذا ان کا خیال رکھیے ان کو”دانت“ہی رہنے دیجیے کسی قسم کا ڈھکن وغیرہ کھولنے کا اوزار نہیں بنائیے۔اسی طرح ان سے ایسی چیزوں کو کاٹنے،پھاڑنے، ادھیڑنے کی کوشش نہیں کیجیے جن کے لئے الگ سے اوزار ہوتے ہیں۔


دانت برش کرتے ہوئے اگر مسوڑھوں سے خون آتاہے تو یہ کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ایسی صورت حال میں سب سے
پہلے دانتوں کے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔احتیاطی تدابیر اور گھر میں موجود روز مرہ استعمال کی چند چیزوں کے استعمال سے بھی دانت اور مسوڑوں کی تکلیف پر قابو پانے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔
تاریخ اشاعت: 2020-01-21

Your Thoughts and Comments