Dahi Khayeen Motape Ko Dorr Bhagain

دہی کھائیں․․․ موٹاپے کو دور بھگائیں

Dahi Khayeen Motape Ko Dorr Bhagain
عمر کی ایک حد ایسی آتی ہے جب متناسب جسم بھی فربہی میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور کچھ ہی عرصے میں اچھا خاصا اسمارٹ انسان موٹاپے کی وجہ سے خوبصورتی سے محرو م نظر آنے لگتا ہے ۔
موٹا پانا صرف انسان کے ظاہری خدوخال اور خوبصورتی کو بگاڑ دیتا ہے بلکہ اس سے کئی امراض بھی جنم لیتے ہیں۔ معا لجین کہتے ہیں کہ صحت مندزندگی بسر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وزن عمر اور قد کے مطابق مقررشدہ وزن کے مطابق ہی ہو۔


وزن کے بڑھنے میں معمولات زندگی کا بھی اہم کردار ہوتا ہے ۔وزن متوازن رکھنے یا کم کرنے کے لیے باقاعدہ ورزش ،جو گنگ اور واکنگ کو بھی معمول بنالیں۔
حال ہی میں امریکہ میں کی گئی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ”ہماری غذا کے بدلتے ہوئے انداز کے باعث ہماری خوراک میں بہت سی ایسی اشیاء بھی شامل ہو گئی ہیں جو کہ جسم میں حراروں (کیلوریز)کو بہت حد تک جمع کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔

(جاری ہے)

یہ حرارے چونکہ توانائی کے لیے ہماری ضرورت سے زیادہ ہوتے ہیں اور جل کر تو انائی میں تبدیل ہونے سے رہ جاتے ہیں لہٰذا یہ چربی کی شکل میں ہمارے جسم میں جمع ہونے لگتے ہیں اور رفتہ رفتہ ہم موٹے ہونے لگتے ہیں“۔تحقیق میں طبی سائنسدانوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ”چند ایسی غذائیں ہیں جو جسم میں موجود چربی کو تیزی سے گھلانا شروع کر دیتی ہے“
۔


تحقیق میں تجربے کی بنیاد پر بتایا گیا ہے کہ جو وزن ڈائیٹنگ کے دوران کم ہوا ہواگر اتنی مدت میں دہی کا استعمال بھی ساتھ ساتھ کیا جاتا تو اس سے ڈائیٹنگ سے کم کیے گئے وزن کے مقابلے میں دو گنا زیادہ
وزن کم کیا جا سکتا تھا۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے تحقیق کرنے والے طبی سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ”دہی کے استعمال سے تیزی سے وزن کم ہونے کا سبب ان میں شامل کیلشیم کی زیادہ مقدار ہوتی ہے جو وزن کم ہونے کے مراحل کو تیز کرنے میں مددگار ہوتی ہے ۔


تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ”ڈائیٹنگ کے دوران جو لوگ فیٹ فری دہی کو اپنی غذا کا باقاعدہ حصہ بنا لیتے ہیں ،ان کا وزن ایسے لوگوں کے مقابلے میں تیزی سے کم ہونا شروع ہو جاتا ہے جو کہ وزن کم کرنے کے لیے اپنی غذا میں سے صرف کیلوریز کی مقدار کو کم کر لیتے ہیں“۔
وزن میں کمی کے لیے دہی اور دیگر فیٹ فری ڈیری مصنوعات کا استعمال کرنے والے موٹے لوگ صرف چار ماہ کے دوران دیگر افراد کے مقابلے میں بائیس فیصد زیادہ وزن کم کر لیتے ہیں،جسم کی چربی کو 61فیصد زیادہ ختم کرلیتے ہیں جبکہ 81فیصد تک زیادہ بڑھے ہوئے پیٹ کو کم کر لینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔


ماہر غذا پروفیسرمائیکل زیمل کا کہنا ہے کہ ”موٹے لوگوں کو چاہیے کہ وزن میں کمی کے لیے اپنی خوراک کو دوحصوں Groupsمیں تقسیم کرلیں،جن میں سے ایک حصہ سادہ اور کم ترین کیلوریز والی غذاؤں جبکہ دوسرا حصہ دہی اور دیگر فیٹ فری ڈیری مصنوعات پر مشتمل ہو۔وہ روزانہ گیارہ سوملی گرام کیلشیم پر مشتمل یہ خوراک استعمال کریں اور دن میں تین مرتبہ فیٹ فری دہی کھائیں“۔


رپورٹ پیش کرتے ہوئے پروفیسر مائیکل نے مزید بتایا کہ دہی تیزی سے وزن کم کرنے کے ساتھ ساتھ اعضاء کو متناسب بھی بناتی ہے“۔
طبی سائنسدان اور معا لجین وزن میں کمی کے لیے کیلشیم کے اس کردار کے نئے انکشاف پر حیران ہیں اور اس دریافت کو سراہا جارہا ہے ۔پروفیسر زائمل کہتے ہیں کہ”درست مقدار میں کیلشیم کی مقدار لی جائے تو یہ جسم میں چربی کو گلانے کے عمل کو تیز تر کر دیتی ہے اور جسم میں نئی چربی کو جمع ہونے سے بھی روکتی ہے“۔


دہی،دودھ سمیت دیگر ڈیری مصنوعات سے جسم کو جو کیلشیم حاصل ہوتی ہے وہ ایک طرف ناصرف زائد وزن کو گھٹاتی ہے بلکہ جسم کے مسلز بھی بناتی ہے اور اس سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں ۔زائد عمر کی وہ خواتین جنہیں ہڈیوں کی کمزوری کا مرض آسٹیو پوروسس لاحق ہونے کا خطرہ ہو ،وہ دہی کے استعمال سے وزن کی کمی اور ہڈیوں کی مضبوطی کے دو فوائد ایک ساتھ حاصل کر سکتی ہیں۔


پروفیسر زائمل تجویز کرتے ہیں کہ ”وزن میں کمی کے لیے ڈیری مصنوعات کو دن میں تین چار مرتبہ استعال کیا جائے اور اس سلسلے میں فیٹ فری یا کم فیٹ والی اقسام کو ترجیح دی جائے“۔
دہی کو مزید دل پسند بنانے کے لیے اس میں پھل وغیرہ بھی شامل کیے جا سکتے ہیں ۔وزن کم کرنے کے خواہش مند مردوخواتین اپنے غذائی معمولات کو از سر نوترتیب دے کر کھاتے پیتے ہوئے زائد وزن کو گھٹا سکتے ہیں ۔اس طرح صحت اور متناسب جسم کا حصول ایک ساتھ با آسانی ہو سکتا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2019-05-09

Your Thoughts and Comments