Kiya Tound Bhar Gayi Hai - Article No. 1973

کیا توند بڑھ گئی ہے - تحریر نمبر 1973

جمعرات اکتوبر

Kiya Tound Bhar Gayi Hai - Article No. 1973
موٹاپا ایک وبا کی صورت میں ہماری صحت پر غالب آرہا ہے اور کچھ افراد تو اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ اگر ان کی توند سخت اور بڑھ گئی ہے تو فکر کی کوئی بات نہیں ۔ان کے کولہے اور رانیں کچھ بھاری ہو گئی ہیں تو کچھ دنوں کی ورزش سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔یہ سوچ خطر ناک ہے ۔تحقیق بتاتی ہے کہ توند میں چربی کی مقدار بڑھ جانے سے خراب کولیسٹرول میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔

عارضہ دل،ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر یا فالج جیسے مہلک امراض لاحق ہو سکتے ہیں ۔ذیل میں بڑھی ہوئی توند کم کرنے کے 5سہل انداز کی تراکیب شائع کی جا رہی ہیں ۔صحت و تندرستی اور اس کی بقا کے لئے انہیں اختیار کیا جا سکتا ہے ۔
وزن کنٹرول کرنا ضروری ہے
ممتاز امریکی ماہر جوڈتھ روڈن کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص گوشت کم مقدار میں کھائے یا کچھ عرصے کے لئے اسے کھانا ترک ہی کر دے تب بھی پیٹ میں چربی بڑھ سکتی ہے ۔

(جاری ہے)

اپنے قد کے مطابق اپنی توند کا تجزیہ کیجئے ۔یہ معلوم کرنے کے لئے کہ کیا توند خطر ناک حد تک بڑھ چکی ہے آپ فرش پر سیدھے کھڑے ہوں اور پاؤں کے انگوٹھوں کو دیکھنے کی کوشش کریں ۔اگر اس کوشش میں ناکامی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ توند بڑھ گئی ہے ۔کسی اچھے جم کی رکنیت حاصل کرکے باقاعدہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر ورزش کا منصوبہ اختیار کرنا آپ کے مفاد میں ہے ۔

غذا میں کمی بھی کسی مستند غذائی ماہر کے مشورے سے کریں ۔
خواتین کی توند بدنمائی کی علامت ہے
اصل میں مردوں کی چربی پیٹ میں جمع ہوتی ہے جبکہ خواتین کی رانوں اور کولہوں میں،اگر آپ نئی ماں ہیں تو نومولود بچے کی قدرتی دودھ سے محروم نہ کریں ۔یہ عمل چربی گھلانے اور اسمارٹ بنانے میں مدد دے گا ۔وزن میں کمی کے لئے تیراکی سے بہتر کوئی ورزش نہیں ۔

آپ کے شہر میں کسی لیڈیز جم میں سوئمنگ پول ہوتو تیراکی کی تربیت حاصل کریں ۔جلد ہی بہتر نتائج آپ کے منتظر ہوں گے ۔
فاقہ کرنا بہتر فیصلہ نہیں
آپ کو صرف کیلوریز جلانی ہیں اور چکنائی کم کھانی ہے ۔پروٹینز کاربوہائیڈریٹس کی مقدار بھی کم کرنی ہے ۔روغن کم استعمال کریں مگر سرے سے ہی اسے خوراک سے خارج نہ کریں ۔اناج،چاول،پھلیاں،پھل اور سبزیاں جن میں بغیر چھلے آلو،پالک،چقندر،کھیرا،لہسن اور گاجر شامل ہیں انہیں غذا میں شامل کریں ۔

صرف 20فیصد چکنائی کم کر دینے سے طے شدہ ہدف حاصل کیا جا سکتا ہے ۔شام کی چائے پر روغنی غذائیں کھانا ترک کر دیں ۔تازہ سبزیاں،دودھ،گری دار میوے،سادہ پانی،سبز چائے اور گریپ فروٹ کا استعمال مناسب رہے گا ۔
سخت ورزش ضروری نہیں
جب آپ اپنی غذا سے چکنائی کم کر دیں گے تو کیلوریز کو جلانا آسان ہو جائے گا ۔ایروبک ورزشیں مثلاً تیز قدمی،جاگنگ،تیراکی یا سائیکل چلانا بہتر ورزش ہے ۔

غرضیکہ زیادہ مستعد اور متحرک رہنا،اگر آپ گاڑی میں سفر کرتی ہیں تو اسے مطلوبہ جگہ سے کچھ فاصلے پر کھڑا کرکے پیدل چلئے اور زیادہ سے زیادہ فاصلہ پیدل چلنے سے طے کر لیجئے ۔ابتداء میں ہفتے میں چند بار 20منٹ تک پیدل چلئے تاکہ کیلوریز چلیں ۔
کمر سیدھی رکھ کر ورزش نہ کریں
کمر سیدھی رکھنے والی ہر ورزش جسمانی اذیت میں مبتلا کرتی ہے ۔

جسم پر دباؤ پڑتا ہے ۔اس طرح توند میں کمی نہیں ہوگی ۔اپنے پیٹ کے عضلات کو بھی مضبوط کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے کہ زائد چربی توند بڑھنے کی وجہ ہے ۔سب سے بڑی احتیاط کھانے میں متوازن غذا،دو کھانوں کے درمیان مناسب وقفہ رکھنا،چہل قدمی کرنا اور نمک،زائد چینی اور مرغن غذاؤں کے استعمال میں بتدریج کمی کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے ۔
تاریخ اشاعت: 2020-10-08

Your Thoughts and Comments