Wazan Kaam Karne Ka Mukamal Or Asaan Tariqa

وزن کم کرنے کا مکمل اور آسان طریقہ

Wazan Kaam Karne Ka Mukamal Or Asaan Tariqa

لیاقت علی جتوئی
اضافی چربی،اضافی وزن یا موٹاپا،اگر آپ بھی ان مسائل سے دوچار ہیں تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ ان سے اپنی جان چھڑائیں۔یقینا ،یہ جان کر آپ کو اچھا لگے گا کہ بھوکارہنے یا کم کھائے بغیر بھی وزن کم کیا جا سکتا ہے۔
وزن کم کرنے سے پہلے آپ کے لیے یہ جاننا یقینا ضروری ہے کہ وزن بڑھتا کیوں ہے؟اس حوالے سے آگاہی حاصل کرنا آپ کے لیے اہم ہے تاکہ مستقبل میں آپ اپنے وزن کو دوبارہ بڑھنے سے روک سکیں۔


کیلوریز
وزن کے بڑھنے میں کیلوریز کابراہ راست کردار ہوتا ہے،مثلاً آپ کتنی کیلوریز کھاتے ہیں،اس میں سے کتنی کیلوریز آپ جسمانی مشقت کے ذریعے استعمال کرتے ہیں اور کتنی آپ کے جسم میں بچ جاتی ہیں۔آپ کو استعمال ہونے والی کیلوریز میں سے جسم میں بچ جانے والی کیلوریز میں توازن پیدا کرنا ہے۔

(جاری ہے)

اگر آپ اپنے جسم میں ضرورت سے زیادہ کیلوریز بچارہے ہیں اور انھیں جسمانی مشقت کے ذریعے استعمال نہیں کررہے تو یقینا آپ کا وزن بڑھنا شروع ہو جائے گا۔


حل :اپنا غذائی چارٹ بنائیں،جس میں ہر چیز کے سامنے اس کی کیلوریز درج ہوں۔مثلاً چینی،سوفٹ ڈرنکس اور پروسیسڈویجیٹیبل گھی میں بہت زیادہ کیلوریز ہوتی ہیں۔اپنی غذا میں تازہ پھل اور سبزیاں شامل کریں،پروسیسڈ گھی اور چینی کا استعمال کم کریں اور جتنی کیلوریز کھائیں،انھیں جلانے کا انتظام بھی کریں۔
ورزش
زندگی اتنی مصروف ہو گئی ہے کہ لوگوں کے پاس اضافی کیلوریز اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اضافی چربی کو جلانے کے لیے ورزش کرنے کے لیے وقت ہی نہیں ہے۔

اگر آپ اضافی کیلوریز اور چربی کو جلانے کے لیے ورزش نہیں کر سکتے تو وزن کم کرنا بھول جائیں۔جدت نے ہماری زندگیوں کو ایک طرف سہل بنادیا ہے تو دوسری طرف ہمارے رویوں میں کاہلی شامل ہو گئی ہے۔
حل :ورزش کے لیے خصوصی طور پر وقت نکالنا تو دور کی بات ،لوگ چہل قدمی کرنا بھی بھول گئے ہیں۔
اپنے روزمرہ مصروفیات میں کم از کم چہل قدمی کو شامل کریں۔

اسکول ،کالج ،دفتر اور قریبی مارکیٹ جانے کے لیے ہر ممکن حد تک پیدل چلنے کو ترجیح دیں ۔یوگا سے بھی وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
وزن کیسے کم کیا جائے؟
کیلوریز کی مقدار بھی اہم ہے لیکن اگر دو مختلف غذاؤں سے آپ کو ایک ہی مقدار میں کیلوریز ملیں گی تو آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان میں سے زیادہ صحت مند غذا کون سی رہے گی۔

ہمیشہ غذائیت سے بھر پور چیزوں کا انتخاب کریں۔
متوازن ڈائٹ پلان تیار کریں اور اس پر باقاعدگی سے عمل کریں۔ایک وقت میں زیادہ کھانے کے بجائے دن بھر مختلف اوقات میں تھوڑا تھوڑا کھائیں۔
نشاستہ،کاربوہائیڈریٹس ،چینی،نمک،چاول،سوفٹ ڈرنک،سیچور یٹڈ فیٹس ،جنک فوڈ اور تلی ہوئی غذاؤں کا استعمال ترک کردیں۔
فائبر ،پروٹین ،سلاد اور کم کیلوریز والی غذاؤں کا استعمال بڑھادیں۔

پروسیسڈفروٹ جوسز کے بجائے تازہ پھل کھائیں۔
پانی ،وزن کم کرنے کا سب سے بہترین قدرتی نسخہ ہے ۔پانی کا استعمال جسمانی میٹا بولزم کوتیز اور وزن کو کم کرتاہے۔
ایک گھنٹہ چہل قدمی سے 250کیلوریز جلتی ہیں اوریہ کیلوریز جلانے کا ایک آسان طریقہ ہے۔
نیند کی کمی وزن بڑھنے کی ایک بڑی وجہ ہے ۔ایک گھنٹہ سونے سے 50کیلوریز جلتی ہیں۔اس لیے ضروری ہے کہ آپ مطلوبہ مقدار میں باقاعدگی سے نیند لیں۔


جنک فوڈ کا رجحان
آج کے مصروف دور میں لوگوں کا بھوک مٹانے کے لیے جنک فوڈ پر انحصار بڑھ گیا ہے ۔تاہم آپ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس طرح کی غذا میں کیلوریز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے ۔اضافی کیلوریز یقینا اضافی وزن اور موٹاپے کا باعث بنیں گی۔
حل:جنک فوڈ سے حاصل ہونے والی کیلوریز کو جلانا یقینا آسان کام نہیں۔

اس لیے وزن بڑھنے سے بچنے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ جنک فوڈکھانا چھوڑ دیں۔اکثر لوگ بھوک کی شدت میں جنک فوڈ پر ٹوٹ پڑتے ہیں ،جس سے ان کا وزن تیزی سے بڑھتا ہے ۔خود کو صحت مند غذائیں کھانے کا عادی بنائیں۔
ڈائٹ پلان
مشروبات :دودھ والی چائے اور نشہ آور چیزوں کو زندگی سے نکال باہر پھینکیں ،ان کی جگہ بلیک ٹی،بلیک کافی اور لیموں کا پانی استعمال کریں۔

ان میں چینی شامل کرنے کی غلطی نہ کریں بلکہ اس کی جگہ شہد شامل ملائیں۔
ناشتہ :ناشتے میں جو کا دلیہ یا گریپ فروٹ کے ساتھ2ٹوسٹ معہ پی نٹ بٹر(مونگ پھلی سے تیار کردہ مکھن)کھائیں۔پروٹین کے لیے آپ اُبلا ہوا انڈہ یا سیب کھاسکتے ہیں۔
دوپہر کا کھانا:تازہ سبزیوں کا سلاد بہترین رہے گا۔گاجر ،سیب ،انگور ،پھلیاں ،تربوز ،پپیتا،اخروٹ یا کوئی بھی کم کیلوری والی سبزی یا پھل کھائیں۔آپ اُبلی ہوئی سبزیاں یا ایک چھوٹا کپ اُبلے ہوئے چاول بھی کھا سکتے ہیں ۔سبزیوں میں آلو کھانے سے پر ہیز کریں۔
اسنیکس:شام کے اسنیکس میں بھاری پروٹین والی غذائیں جیسے بلوبیری اور لوبیا شامل کریں۔
رات کا کھانا: چپاتی کے ساتھ صحت مند سبزیاں لیں، تین سے زیادہ چپا تیاں نہ کھائیں۔

تاریخ اشاعت: 2019-07-01

Your Thoughts and Comments